امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 7 از 7

 حضرت امِ کلثومؓ بیٹی علیؓ اور زوجۂ فاروقِ اعظمؓ کا خطبہ:-
     " امِ کلثومؓ نے فرمایا اے اہل کوفہ تمہارا برا ہو، تمہیں کیا ہوا تم نے حسینؓ سے دھوکہ کیا اسے قتل کیا اس کا مال لوٹا اس کی خواتین کو قیدی بنایا اب روتے ہو۔ تم برباد ہو جاؤ۔ کیا تم جانتے ہو تم نے کونسا خون بہایا۔ گناہ کا کتنا بوجھ اپنی پیٹھوں پر لادا اور کس کا مال لوٹا۔ تم نے رسولﷺ کے بہترین افراد کو قتل کیا۔ تمہارے دلوں سے رحم جاتا رہا۔ خوب سن لو اللہ والے ہی کامیاب ہیں اور شیطان کا ٹولہ گھاٹے میں ہے"۔
"می فرمایدا مردم کوفہ بدبر حال شماچہ افتاد وشماراکہ حسین راخوارسا ختیدو و مخذول و بے یارو نے یار گز اشتیدو امولش را بغارت بردیدو چوں میراث خویش قسمت ساختید"۔
 حضرت ام کلثومؓ کے بیان سے اہل کوفہ کے مکروفریب اور ظلم وجور کے علاوہ اہل کوفہ سے شکایت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے قتل حسینؓ کے بعد اہل بیت کا مال بھی لوٹا اور میراث سمجھ کر آپس میں تقسیم کیا۔

 ان اقتباسات سے یہ امر واضح ہوگیا کہ اہل کوفہ شیعوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھ کر بلایا۔ جب آئے تو مکروفریب سے ساتھ چھوڑ دیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ دشمن کے ساتھ مل کر حضرت حسینؓ کو قتل کیا۔ اسی پر بس نہیں پھر اہل بیت کے اموال لوٹے اور میراث سمجھ کر آپس میں تقسیم کیے۔

 ایضاً صفحہ 308 میں امِ کلثومؓ کا ایک اور بیان:-

وبالجملہ زنان کوفیاں برایشاں زار ز ارمی گریستند جناب ام کلثوم وسلام اللہ علیھا سراز محمل بیروں کردو بآں جماعت فرمود۔"

یا اھل الکوفۃ تقتلنا رجالکم وتبکینا نسائکم فالحاکم بیننا وبینکم اللہ یوم فصل القضاء

   " اے اہل کوفہ تمہارے مردوں نے ہمیں قتل کیا اور تمہاری عورتیں ہم پر روتی ہیں۔ اچھا اللہ تعالیٰ ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلے کے دن فیصلہ کرے گا"
 اسی کتاب کے صفحہ 311 پر
   " کوفہ کی عورتوں کو گریبان چاک کیے  ہوئے روتے  پیٹتے ہوئے دیکھ کر ابو جدیلہ اسدی کو تعجب ہوا کہ یہ عورتیں کیوں یہ منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس کے وجہ پوچھنے پر بتایا گیا کہ انہیں حضرت حسینؓ کا سر مبارک دیکھ کر رونا آیا۔"
 مگر سوال یہ ہے کہ جب ان مردوں کو حضرت حسینؓ کا  سر تن سے جدا کرتے ہوئے ترس نہ آیا تو ان عورتوں کے دلوں میں غم کے جذبات کیسے ابھر آئے بات تو وہی ہوئی۔
     وہی قتل بھی کرے وہی لے ثواب الٹا  

           قاتلینِ حسینؓ کون تھے؟

 یہ بحث تفصیل سے گزر چکی ہے  اور ثابت کیا جا چکا ہے:-
معصوم مدعیوں کے بیانات سے واضح ہوگیا کہ حضرت حسینؓ کو کوفہ بلانے والے حضرت حسینؓ کے آنے کے بعد ان کی مخالفت کرنے والے، حضرت حسینؓ پر پانی بند کرنے والے، بے دردی سے گرم ریت پر لٹا کر ذبح کرنے والے، خاندانِ نبوت کے خیموں کو لوٹنے والے، مال غنیمت آپس میں تقسیم کرنے والے، اس کے بعد رو پیٹ کر طمانچہ زنی اور خاک ربائی  کر کے ڈرامائی انداز میں اظہارِ غم کرنے والے سب شیعہ تھے۔ 
ان مدعیان کے بیانات کے بعد مدعا علیہم کا اقرارِ جرم پیش کردیا گیا جو نور اللہ شوستری کی معتبر کتاب مجالس المؤمنین جلد دوم مجلس ہشتم میں موجود ہے۔
 سب سے بڑی بات ہے کہ ائمہ معصومین (شیعہ عقیدہ میں سیدنا حسنؓ و حسینؓ زین العابدین اور سب خاندان رسولﷺ کو شیعہ معصوم کہتے ہیں) جب صاف اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے قاتل شیعہ ہیں اور ملزم خود اقراری ہیں تو کوئی تیسرا شخص اس مسلمہ حقیقت کو کیوں کر جھٹلا سکتا ہے۔

ماخوذ از: "تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین"
(مشہور محقق حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمۃاللہ)


صفحہ 7 از 7