Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال)

  جعفر صادق

خلافت پر عقیدہ اہل سنت


خلافت کا مطلب حکمرانی ہے۔  اللہ تعالی نے حسب وعدہ اس عرصہ میں خلفائے راشدین کو ان کے مراتب کے اعتبار سے مسند خلافت پر فائز فرمایا۔ آیت استخلاف میں اللہ رب العزت نے جو وعدے فرمائے تھے وہ سب اس مدت میں پورے فرمادئے۔ خلافت کا عہدہ منصوص من اللہ نہیں ہے۔


دعوی اہل سنت۔


خلافتِ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اجمعین برحق اور موعود من اللہ خلافت ہے، جو کے قران، حدیث اور کتب شیعہ سے ثابت کی جائے گی۔


 وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۵۵)


◆ اللّٰہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے (ف۱۲۵) کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا (ف۱۲۶) جیسی ان سے پہلوں کو دی (ف۱۲۷) اور ضرور ان کے لئے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند فرمایا ہے (ف۱۲۸) اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (ف۱۲۹) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں 
( AL-NOOR - 24:55 )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ کیا ہے۔

ان اللہ لا یخلف المیعاد


اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
یہ وعدہ پہلے نمبر پر خلافت دینے کا صدیق اکبر سے تھا اس لیے انکو خلافت ملی
اگر یہ وعدہ مولا علی سے ہوتا تو ضرور انکو خلافت ملتی، کیوں کے وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے تو وعدے کو پورا بھی خود اللہ کریگا، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔۔۔
جب سیدنا عمر فاروق جنگ فارس میں بنفس نفیس جانے کے لیے حضرت علی المرتضیٰ سے مشورہ لینے آئے تو مولا علی نے بھی اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا
نحن علی موعود من اللہ ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر ہیں۔۔۔
اسکی شرح میں ابن میثم البحرانی لکھتا ہے


ثم وعدنا بموعود وھو نصر والغلبۃ والاستخلاف فی الارض کما قال وعد اللہ الذین آمنوا۔۔۔۔ الآیت۔۔۔


اس سے بھی ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد اولین خلفاء ثلاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں۔
یہ بہت ہی عمدہ دلیل ہے اس پر گرفت مضبوط کرلیں کوئی رافضی بھاگ نہیں سکے گا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

شرح نہج البلاغہ ابن میثم البحرانی۔۔۔۔۔ مولا علی نے حضرت عمر فاروق کو آیت استخلاف کا مصداق بتایا۔
ترجمہ ۔ پھر اس نے ہم سے وعدہ کا اعلان فرمایا ہے اور وہ وعدہ مدد، غلبہ اور زمین میں خلیفہ بنانا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا "وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ضرور انکو زمین میں خلافت دیگا (سور نور آیت 55)۔۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہر صورت پورا ہونے والا ہے کیوں کہ اسکی خبر جھوٹی نہیں ہو سکتی

تفسیر صافی ۔۔۔۔ سورہ نور آیت 55 کی تفسیر میں لکھا ہے
اللہ تعالیٰ نبی علیہ السلام کے "بعد" خلفاء بنائیگا ۔۔۔۔
۔
روافض کہتے ہیں کے "بعد" لفظ سے اتصال لازم ہے تو انہی کا استدلال انکے گلے میں پڑا۔۔۔ یہاں پر بعد لفظ سے اتصال مراد لو تو پہلے خلیفہ صدیق اکبر ثابت ہوگئے۔۔۔

کتاب ۔ ترجمہ مقبول روافض کا مایہ ناز ترجمہ مع تفسیر
۔
روافض بھاگنے کے لیے کہتے ہیں اس آیت سے مراد امام علی اور حسنین کریمین ہیں۔۔۔۔ یہ 3 خلفاء آیت کہ نازل ہونے کے وقت موجود تھے
۔
اسکا جواب یہ ہے

حضرت علی رض کو بھی مہاجرین و انصار نے ہی خلیفہ بنایا اور انہیں چوتھا خلیفہ راشد منتخب کیا گیا (یہی وجہ ہے کہ دوران مناظرہ شیعہ حضرات حضرت علی رض کو چوتھا خلیفہ راشد تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں)، حضرت حسن رض نے اپنی خلافت خود ہی حضرت امیر معاویہ رض کے حوالے کی (غور طلب نکتہ یہ بھی ہے کہ خلافت اگرواقعی الہی منصب ہوتا تو اس منصب کو کسی دوسرے کے حوالے کرنا کیسے جائزہوسکتا ہے؟ کیا کوئی نبی منصب نبوت کو کسی دوسرے کے حوالے کر سکتا ہے؟)  حضرت حسین رض تو خلیفہ ہی بن نہ سکے، تو اس آیت استخلاف میں کئے گئے وعدہ الہی کے مصداق حسنین کریمین کس طرح بن سکتے ہیں؟

روافض نے جب دیکھا کہ یہ آیت مولا علی اور حسنین کریمین پر فٹ نہیں آتی تو شیعوں کے تمام تفاسیر نے یہی لکھا کہ یہ آیت امام مہدی کے لیے نازل ہوئی ہے۔۔۔

تفسیر قمی۔۔
یہاں بھی لکھا ہے کہ یہ آیت امام مہدی کی شان میں نازل ہوئی۔۔۔ مطلب مولا علی کی خلافت کے لیے روافض کے پاس کوئی دلیل نہیں
مزید اہم دلائل اور شیعہ تاویلات کا رد

♦️ نبی کریمﷺ کے دور میں فتوحات اسلامی: 


ھجرت کے بعد دس سال کے اندر مکہ، خیبر،بحرین،یمن اور پورا جزیرہ عرب پر اللہ عزوجل نے فتح عطا فرمادی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ ہجر کے مجوسیوں اور شام کے کئی علاقوں سے جزیہ وصول کرنے لگے۔ روم کے بادشاہ ہرقل، مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے بادشاہ نے آپﷺ کی خدمت میں ہدیے ارسال کیے۔
♦️ خلفائے راشدین نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے پر چل کر انھوں نے مشرق و مغرب کا بہت سا حصہ فتح کرلیا۔ 
اس وقت کے سب سے مضبوط حکمران کسریٰ کے تخت پر قبضہ کرلیا اور قیصر کو اس کے مملوکہ علاقوں شام وغیرہ سے ایسا نکالا کہ اسے قسطنطنیہ میں پناہ لینا پڑی۔ 
مشرق میں چین اور مغرب میں افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔
شیعہ تفسیر مجمع البیان (علامہ طبرسی)


(وعد الله الذين آمنوا منكم) أي: صدقوا بالله وبرسوله، وبجميع ما يجب التصديق به (وعملوا الصالحات) أي: الطاعات الخالصة لله (ليستخلفنهم في الأرض) أي: ليجعلنهم يخلفون من قبلهم. والمعنى: ليورثنهم أرض الكافر من العرب والعجم، فيجعلهم سكانها وملوكها


ترجمہ: لیستخلفنھم فی الا رض کا معنی یہ ہے کہ اللہ عرب و عجم کے کفار کی زمین کا انہیں وارث بنائے گا، مسلمان وہاں سکونت پذیر ہوں گے اور بادشاہ بنیں گے۔
استدلال: تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں یہ تمام ممالک فتح ہوئے اور بموجب وعدہ الہی مسلمان عرب و عجم کی سرزمین اور اس کے باسیوں کے بادشاہ بنے۔


‏http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/2365_تفسير-مجمع-البيان-الشيخ-الطبرسي-ج-٧/الصفحة_264
http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/2365_تفسير-مجمع-البيان-الشيخ-الطبرسي-ج-٧/الصفحة_265#top
شیعہ تفسیر صافی (ملا محسن فیض کاشانی)


“وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰالِحٰاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ
لیجعلنّهم خلفاء بعد نبیّکم”


اللہ یقینآ ان کو تمہارے پیغمبرﷺ کے وصال کے بعد خلیفہ بنائے گا۔
استدلال: لیستخلفنھم خلفاء کے الفاظ میں لفظ خلفاء کو جمع لانے سے صاف عیاں ہے کہ خلفاء خلیفہ کی جمع اور جمع سے کم از کم تین افراد مراد ہوتے ہیں، اسی طرح بعد نبیکم کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ آپﷺ کے وصال کے بعد خلیفہ بنیں گے تو ایسے خلفاء اربعہ ہی ہیں۔


شیعہ کی اصول اربعہ میں اوّل درجہ اصول کافی کا ہے۔ اس میں شیعہ کی ایک صحیح روایت میں قول امام معصوم سے خلفائے راشدین کے دور حکومت کی تائید


 397 - ابن محبوب، عن جميل بن صالح، عن أبي عبيدة قال: سألت أبا جعفر (ع)
عن قول الله عزوجل: " الم * غلبت الروم في أدنى الارض (2) " قال: فقال: يا أبا عبيدة إن لهذا تأويلا لا يعلمه إلا الله والراسخون في العلم من آل محمد صلوات الله عليهم إن رسول الله (صلى الله عليه وآله) لما هاجر إلى المدينة و [أ] ظهر الاسلام كتب إلى ملك الروم كتابا وبعث به مع رسول يدعوه إلى الاسلام وكتب إلى ملك الروم فارس كتابا يدعوه إلى الاسلام وبعثه إليه مع رسوله فأما ملك الروم فعظم كتاب رسول (صلى الله عليه وآله) وأكرم رسوله وأما ملك فارس فإنه استخف بكتاب رسول الله (صلى الله عليه وآله) ومزقه واستخف برسوله وكان ملك فارس يومئذ يقاتل ملك الروم وكان المسلمون يهوون (3) أن يغلب ملك الروم ملك فارس وكانوا لناحيته أرجا منهم لملك فارس فلما غلب ملك فارس الروم كره ذلك المسلمون واغتموا به فأنزل الله عزوجل بذلك كتابا قرآنا " الم * غلبت الروم في أدنى الارض (يعني غلبتها فارس) في أدنى الارض (وهي الشامات وما حولها) وهم (يعني وفارس)
من بعد غلبهم (الروم) سيغلبون * (يعني يغلبهم المسلمون) في بضع سنين لله الامر من قبل ومن بعد ويومئذ يفرح المؤمنون * بنصر الله ينصر من يشاء " عزوجل فلما غزا المسلمون وافتتحوها فرح المسلمون بنصر الله عزوجل قال: قلت: أليس الله عزوجل يقول:
" في بضع سنين (4) " وقد مضى للمؤمنين سنون كثيرة مع رسول الله (صلى الله عليه وآله) وفي إمارة  أبي بكر وإنما غلب المؤمنون فارس في إمارة عمر فقال: ألم أقل لكم إن لهذا تأويلا وتفسيرا والقرآن - يا أبا عبيدة - ناسخ ومنسوخ. أما تسمع لقول عزوجل: " لله الامر من قبل ومن بعد "؟ يعني إليه المشيئة في القول أن يؤخر ما قدم ويقدم ما أخر في القول إلى يوم يحتم القضاء بنزول النصر فيه على المؤمنين فذلك قوله عزوجل: " ويومئذ يفرح المؤمنون * بنصر الله [ينصر من يشاء] أي يوم يحتم القضاء بالنصر.
(اصول کافی جلد 8 صفحہ 145)


ترجمہ:
حضرت ابوعبیدہؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے امام باقرؓ سے الم غلبت الروم کی بابت سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی تاویل اللہ اور آل محمد کے راسخین فی العلم کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اہل ایران کے غلبہ کے وقت عنقریب چند سالوں کے اندر اندر مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے ، پہلے اور بعد ہر وقت حکم اللہ کا ہی ہے، اس دن مسلمان اللہ کی مدد سے بہت خوش ہوں گے ، اللہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے پھر جب مسلمانوں نے ایران سے جنگ کی اور اسے فتح کر لیا تو اللہ کی مدد سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی میں نے پھر سوال کیا کہ کیا اللہ نے بضع سنین نہیں فرمایا( یعنی چند سالوں میں فتح ہوگی) حالانکہ بہت سے سال گذر گئے کچھ تو حضورﷺ کے وقت میں اور کچھ خلافت صدیقی میں لیکن مسلمانوں کو ایرانیوں پر غلبہ اتنے سالوں بعد حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ہوا تو امام باقرؓ نے جوابآ فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہیں کہہ چکا ہوں کہ اس لفظ کی تاویل و تفسیر میں اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے قبل اور بعد اس کی مشیت سے بعد اور قبل بن جاتے ہیں تو ہمیں اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب اللہ قضا کو مکمل فرماتے ہیں اور اپنی مدد سے مسلمانوں کو نواز کر غلبہ عطا فرماتے ہیں۔


اس روایت کی توثیق


استدلال: حضرت امام باقرؓ کے نزدیک حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں فتوحات حقیقت میں اسلامی فتوحات ہیں اور اللہ عزوجل کی مرضی و مشیت کے عین مطابق ہیں ۔ ثابت ہوا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قرآن کریم میں مؤمنین سے وعدوں کا مصداق ، مسلمانوں کی فتوحات اور غلبہ سے مراد دور خلفائے راشدین ہے۔


غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ

(اہلِ) روم مغلوب ہوگئے۔


فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ


نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔


فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ


چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔


بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ


(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے۔


وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ 


(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(سورت الروم 2-6)


آیت استخلاف میں اللہ تعالی نے مندرجہ ذیل امور صراحتآ ذکر فرمائے ہیں۔


 1: وعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ


(اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں)
  اللہ تعالی نے خلافت کا وعدہ ان لوگوں سے فرمایا جو بوقت نزول آیت مشرف بااسلام ہوچکے تھے۔


2:  و عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ


(اور نیک عمل کریں )
  نزول آیت کے وقت جو اعمال صالحہ والے تھے، وہی خلیفہ بنائے جائیں گے۔


3: لیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ


(انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا)
 ان تاکیدی الفاظ سے معلوم و ثابت ہوا کہ جن کو خلافت عطا کی جانے والی ہے، وہ اللہ کی تقدیر میں مقدر ہوچکے ہیں اور ان کی خلافت کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہے لہاذا وہ ضرور خلیفہ بنیں گے۔


4: کمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ


(جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے)
ان کی خلافت علی منہاج النبوت ہوگی یعنی جس طرح انبیائے سابقین میں خلیفہ برحق تھے اسی طرح ان کی خلافت بھی “خلافت حقہ” ہوگی۔


5: و لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ 


(اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے )
  اللہ تعالی حسب وعدہ ان کے زمانے میں ان کے پسندیدہ دین کو ان کے لئے مضبوط یعنی غالبکردے گا۔


6:  و لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا


(اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا)
  اللّٰہ تعالی ان کے زمانے میں خوف کو امن میں بدل دے گا۔


7: یعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا


(وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔)
  وہ خلفاء صفات مذکورہ کے حامل ہونے کے بعد کبھی بھی شرک کی طرف مائل نہ ہوں گے یعنی مرتد نہ ہوں گے۔
8: آیت مذکورہ میں “کم” اور “ھم” سب جگہ جمع مذکر کی ضمائر ہیں اور جمع کے لئے کم ازکم تین افراد ہونے ضروری ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی ان مخاطبین میں سے کم از کم تین کو ضرور خلافت عطا کرے گا۔


9: و مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ 


(اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں)
  اللہ تعالی نے اس آیت میں مسلمانوں کو جس قدر انعامات کا ذکر فرمایا ہے ، ان انعامات کے مستحق ہوجانے کے بعد یعنی آیت مذکورہ سے موصوف خلفاء کے مسند خلافت پر فائز ہوجانے کے بعد جو بھی ان کی خلافت کا انکار کرے گا وہ فاسق و فاجر ہوگا۔


دعوی اہل سنت


“آیت استخلاف” کے مصداق خلفائے راشدین ہیں کیونکہ جو اوصاف اور امور اس آیت میں بطور نص بیان ہوئے ہیں وہ کسی دوسرے خلیفہ/ خلفاء پر صادر آ ہی نہیں سکتے۔
اگر کوئی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا تو  پھر آخر ان حضرات کے علاوہ دوسری کونسی شخصیات ہیں جو ان امور منصوصہ کی حامل ہوں اور بوقت نزول “آیت استخلاف” اس وقت موجود مخاطبین میں سے بھی ہوں اور کم از کم تین بھی ہوں جنہیں “تمکین فی الارض” بھی حاصل ہوئی ہو اور ان کے زمانے میں خوف و خطر کو امن و آشتی میں تبدیل بھی کردیا گیا ہو اور ان کے دین کا بول بالا بھی ہوا ہو۔
  ان دلائل سے اس آیت کا مصداق صرف خلفائے راشدین ہیں۔ بصورت دیگر اللہ کے وعدے کا مصداق کون لوگ ہوں گے؟؟؟
شیعہ کی طرف سے آیت استخلاف کا مصداق امام مہدی اور ان کا دور خلافت بیان کیا جاتا ہے۔ جبکہ آیت استخلاف سے ہی شیعہ مؤقف رد ہوجاتا ہے۔
شیعہ رافضی اس آیت سے حضرت امام مہدی کی خلافت و غلبہ اسلام کو ثابت کرتے ہیں۔ جبکہ آیت پر غور کیا جائے تو ان کا استدلال باطل ہوجاتا ہے۔
 آیت میں ان لوگوں سے وعدہ جو پہلے غیر مسلم تھے، نبی کریم کی تبلیغ سے ایمان لائے۔
  کیا امام مہدی بھی پہلے معاذاللہ غیر مسلم ہوں گے اور ایمان بعد میں لائیں گے؟  
 آیت میں جمع کے صیغہ استعمال ہوئے ہیں۔
 شیعہ صرف ایک امام مہدی کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ 
 آیت میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ جنہیں خلافت دی جائے گی وہ پہلے خوفزدہ تھے ، اللہ عزوجل ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔
 کیا امام مہدی بھی معاذاللہ پہلے خوف زدہ ہوں گے؟؟ 
 آیت کے آخر میں خبردار بھی کیا جا رہا ہے کہ خلافت ملنے کے بعد اگر کوئی کفر کرے گا تو فاسق ہوجائے گا۔
 کیا امام مہدی کے لئے معاذاللہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے؟؟
استدلال: ان  تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ اللہ عزوجل کا وعدہ نبی کریم کے دور میں اور خلفائے راشدین کے دور میں پورا ہوا۔
1: یہ چاروں خلفاء مہاجرین صحابہ میں سے ہیں اور چاروں آیت کریمہ کے نزول کے وقت کامل ایمان لا چکے تھے۔ کامل ایمان کا مطلب ایمان+عمل صالح ہے۔
2: آیت کریمہ میں لفظ خلفاء بیان ہوا ہے یعنی جمع کا لفظ جس سے مراد کم از کم تین یا اس سے زیادہ خلیفے بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ خلفاء راشدین بھی چار ہیں۔
3: خلفائے راشدین کے دور حکومت میں ایک ہی دین اسلام نافذ تھا۔ شریعت اسلامی کے قوانین بھی من و عن ایک ہی تھے۔ اللہ کی حدود کو جاری کیا گیا،احکام شرعیہ کو نافذ کیا، قرآن مجید کو جمع کیا ، ان کے دور میں احادیث کو محفوظ اور مدون کیا گیا، اور قرآن اور سنت پر عمل کرایا گیا۔
4: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلفائے راشدین کے دور میں شام، عراق، ایران، مصر، فلسطین، خراسان اور افریقہ کے شہروں پر اقتدار عطا فرمایا۔ اسلام کی تبلیغ اور اشاعت ہوئی اور اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر دنیا کے بہت سے علاقوں میں پھیل گیا۔
5: خلفائے راشدین کے دور میں حالت خوف ختم ہوچکی تھی۔ اللہ عزوجل نے مسلمانوں کی حالت خوف کو بدل کر امن عطا کیا اور ان کے دور میں دشمن کا خوف مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا۔