آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال)
جعفر صادقخلافت پر عقیدہ اہل سنت
خلافت کا مطلب حکمرانی ہے۔ اللہ تعالی نے حسب وعدہ اس عرصہ میں خلفائے راشدین کو ان کے مراتب کے اعتبار سے مسند خلافت پر فائز فرمایا۔ آیت استخلاف میں اللہ رب العزت نے جو وعدے فرمائے تھے وہ سب اس مدت میں پورے فرمادئے۔ خلافت کا عہدہ منصوص من اللہ نہیں ہے۔
دعوی اہل سنت۔
خلافتِ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اجمعین برحق اور موعود من اللہ خلافت ہے، جو کے قران، حدیث اور کتب شیعہ سے ثابت کی جائے گی۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۵۵)
◆ اللّٰہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے (ف۱۲۵) کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا (ف۱۲۶) جیسی ان سے پہلوں کو دی (ف۱۲۷) اور ضرور ان کے لئے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند فرمایا ہے (ف۱۲۸) اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (ف۱۲۹) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں
( AL-NOOR - 24:55 )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ کیا ہے۔
ان اللہ لا یخلف المیعاد
اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
یہ وعدہ پہلے نمبر پر خلافت دینے کا صدیق اکبر سے تھا اس لیے انکو خلافت ملی
اگر یہ وعدہ مولا علی سے ہوتا تو ضرور انکو خلافت ملتی، کیوں کے وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے تو وعدے کو پورا بھی خود اللہ کریگا، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔۔۔
جب سیدنا عمر فاروق جنگ فارس میں بنفس نفیس جانے کے لیے حضرت علی المرتضیٰ سے مشورہ لینے آئے تو مولا علی نے بھی اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا
نحن علی موعود من اللہ ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر ہیں۔۔۔
اسکی شرح میں ابن میثم البحرانی لکھتا ہے
ثم وعدنا بموعود وھو نصر والغلبۃ والاستخلاف فی الارض کما قال وعد اللہ الذین آمنوا۔۔۔۔ الآیت۔۔۔
اس سے بھی ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد اولین خلفاء ثلاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں۔
یہ بہت ہی عمدہ دلیل ہے اس پر گرفت مضبوط کرلیں کوئی رافضی بھاگ نہیں سکے گا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
شرح نہج البلاغہ ابن میثم البحرانی۔۔۔۔۔ مولا علی نے حضرت عمر فاروق کو آیت استخلاف کا مصداق بتایا۔
ترجمہ ۔ پھر اس نے ہم سے وعدہ کا اعلان فرمایا ہے اور وہ وعدہ مدد، غلبہ اور زمین میں خلیفہ بنانا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا "وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ضرور انکو زمین میں خلافت دیگا (سور نور آیت 55)۔۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہر صورت پورا ہونے والا ہے کیوں کہ اسکی خبر جھوٹی نہیں ہو سکتی
تفسیر صافی ۔۔۔۔ سورہ نور آیت 55 کی تفسیر میں لکھا ہے
اللہ تعالیٰ نبی علیہ السلام کے "بعد" خلفاء بنائیگا ۔۔۔۔
۔
روافض کہتے ہیں کے "بعد" لفظ سے اتصال لازم ہے تو انہی کا استدلال انکے گلے میں پڑا۔۔۔ یہاں پر بعد لفظ سے اتصال مراد لو تو پہلے خلیفہ صدیق اکبر ثابت ہوگئے۔۔۔
کتاب ۔ ترجمہ مقبول روافض کا مایہ ناز ترجمہ مع تفسیر
۔
روافض بھاگنے کے لیے کہتے ہیں اس آیت سے مراد امام علی اور حسنین کریمین ہیں۔۔۔۔ یہ 3 خلفاء آیت کہ نازل ہونے کے وقت موجود تھے
۔
اسکا جواب یہ ہے