آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال) - سنی…

آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3


ترجمہ: لیستخلفنھم فی الا رض کا معنی یہ ہے کہ اللہ عرب و عجم کے کفار کی زمین کا انہیں وارث بنائے گا، مسلمان وہاں سکونت پذیر ہوں گے اور بادشاہ بنیں گے۔
استدلال: تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں یہ تمام ممالک فتح ہوئے اور بموجب وعدہ الہی مسلمان عرب و عجم کی سرزمین اور اس کے باسیوں کے بادشاہ بنے۔


‏http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/2365_تفسير-مجمع-البيان-الشيخ-الطبرسي-ج-٧/الصفحة_264
http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/2365_تفسير-مجمع-البيان-الشيخ-الطبرسي-ج-٧/الصفحة_265#top
شیعہ تفسیر صافی (ملا محسن فیض کاشانی)


“وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰالِحٰاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ
لیجعلنّهم خلفاء بعد نبیّکم”


اللہ یقینآ ان کو تمہارے پیغمبرﷺ کے وصال کے بعد خلیفہ بنائے گا۔
استدلال: لیستخلفنھم خلفاء کے الفاظ میں لفظ خلفاء کو جمع لانے سے صاف عیاں ہے کہ خلفاء خلیفہ کی جمع اور جمع سے کم از کم تین افراد مراد ہوتے ہیں، اسی طرح بعد نبیکم کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ آپﷺ کے وصال کے بعد خلیفہ بنیں گے تو ایسے خلفاء اربعہ ہی ہیں۔


شیعہ کی اصول اربعہ میں اوّل درجہ اصول کافی کا ہے۔ اس میں شیعہ کی ایک صحیح روایت میں قول امام معصوم سے خلفائے راشدین کے دور حکومت کی تائید


 397 - ابن محبوب، عن جميل بن صالح، عن أبي عبيدة قال: سألت أبا جعفر (ع)
عن قول الله عزوجل: " الم * غلبت الروم في أدنى الارض (2) " قال: فقال: يا أبا عبيدة إن لهذا تأويلا لا يعلمه إلا الله والراسخون في العلم من آل محمد صلوات الله عليهم إن رسول الله (صلى الله عليه وآله) لما هاجر إلى المدينة و [أ] ظهر الاسلام كتب إلى ملك الروم كتابا وبعث به مع رسول يدعوه إلى الاسلام وكتب إلى ملك الروم فارس كتابا يدعوه إلى الاسلام وبعثه إليه مع رسوله فأما ملك الروم فعظم كتاب رسول (صلى الله عليه وآله) وأكرم رسوله وأما ملك فارس فإنه استخف بكتاب رسول الله (صلى الله عليه وآله) ومزقه واستخف برسوله وكان ملك فارس يومئذ يقاتل ملك الروم وكان المسلمون يهوون (3) أن يغلب ملك الروم ملك فارس وكانوا لناحيته أرجا منهم لملك فارس فلما غلب ملك فارس الروم كره ذلك المسلمون واغتموا به فأنزل الله عزوجل بذلك كتابا قرآنا " الم * غلبت الروم في أدنى الارض (يعني غلبتها فارس) في أدنى الارض (وهي الشامات وما حولها) وهم (يعني وفارس)
من بعد غلبهم (الروم) سيغلبون * (يعني يغلبهم المسلمون) في بضع سنين لله الامر من قبل ومن بعد ويومئذ يفرح المؤمنون * بنصر الله ينصر من يشاء " عزوجل فلما غزا المسلمون وافتتحوها فرح المسلمون بنصر الله عزوجل قال: قلت: أليس الله عزوجل يقول:
" في بضع سنين (4) " وقد مضى للمؤمنين سنون كثيرة مع رسول الله (صلى الله عليه وآله) وفي إمارة  أبي بكر وإنما غلب المؤمنون فارس في إمارة عمر فقال: ألم أقل لكم إن لهذا تأويلا وتفسيرا والقرآن - يا أبا عبيدة - ناسخ ومنسوخ. أما تسمع لقول عزوجل: " لله الامر من قبل ومن بعد "؟ يعني إليه المشيئة في القول أن يؤخر ما قدم ويقدم ما أخر في القول إلى يوم يحتم القضاء بنزول النصر فيه على المؤمنين فذلك قوله عزوجل: " ويومئذ يفرح المؤمنون * بنصر الله [ينصر من يشاء] أي يوم يحتم القضاء بالنصر.
(اصول کافی جلد 8 صفحہ 145)


ترجمہ:
حضرت ابوعبیدہؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے امام باقرؓ سے الم غلبت الروم کی بابت سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی تاویل اللہ اور آل محمد کے راسخین فی العلم کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اہل ایران کے غلبہ کے وقت عنقریب چند سالوں کے اندر اندر مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے ، پہلے اور بعد ہر وقت حکم اللہ کا ہی ہے، اس دن مسلمان اللہ کی مدد سے بہت خوش ہوں گے ، اللہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے پھر جب مسلمانوں نے ایران سے جنگ کی اور اسے فتح کر لیا تو اللہ کی مدد سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی میں نے پھر سوال کیا کہ کیا اللہ نے بضع سنین نہیں فرمایا( یعنی چند سالوں میں فتح ہوگی) حالانکہ بہت سے سال گذر گئے کچھ تو حضورﷺ کے وقت میں اور کچھ خلافت صدیقی میں لیکن مسلمانوں کو ایرانیوں پر غلبہ اتنے سالوں بعد حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ہوا تو امام باقرؓ نے جوابآ فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہیں کہہ چکا ہوں کہ اس لفظ کی تاویل و تفسیر میں اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے قبل اور بعد اس کی مشیت سے بعد اور قبل بن جاتے ہیں تو ہمیں اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب اللہ قضا کو مکمل فرماتے ہیں اور اپنی مدد سے مسلمانوں کو نواز کر غلبہ عطا فرماتے ہیں۔


اس روایت کی توثیق


استدلال: حضرت امام باقرؓ کے نزدیک حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں فتوحات حقیقت میں اسلامی فتوحات ہیں اور اللہ عزوجل کی مرضی و مشیت کے عین مطابق ہیں ۔ ثابت ہوا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قرآن کریم میں مؤمنین سے وعدوں کا مصداق ، مسلمانوں کی فتوحات اور غلبہ سے مراد دور خلفائے راشدین ہے۔


غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ

(اہلِ) روم مغلوب ہوگئے۔


فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ


نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔


فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ


چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔


بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ


(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے۔


وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ 


(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(سورت الروم 2-6)


آیت استخلاف میں اللہ تعالی نے مندرجہ ذیل امور صراحتآ ذکر فرمائے ہیں۔


 1: وعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ

صفحہ 2 از 3