آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال) - سنی…

آیت استخلاف سورت نور 55 (دعوی، دلائل اور استدلال)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3


(اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں)
  اللہ تعالی نے خلافت کا وعدہ ان لوگوں سے فرمایا جو بوقت نزول آیت مشرف بااسلام ہوچکے تھے۔


2:  و عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ


(اور نیک عمل کریں )
  نزول آیت کے وقت جو اعمال صالحہ والے تھے، وہی خلیفہ بنائے جائیں گے۔


3: لیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ


(انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا)
 ان تاکیدی الفاظ سے معلوم و ثابت ہوا کہ جن کو خلافت عطا کی جانے والی ہے، وہ اللہ کی تقدیر میں مقدر ہوچکے ہیں اور ان کی خلافت کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہے لہاذا وہ ضرور خلیفہ بنیں گے۔


4: کمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ


(جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے)
ان کی خلافت علی منہاج النبوت ہوگی یعنی جس طرح انبیائے سابقین میں خلیفہ برحق تھے اسی طرح ان کی خلافت بھی “خلافت حقہ” ہوگی۔


5: و لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ 


(اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے )
  اللہ تعالی حسب وعدہ ان کے زمانے میں ان کے پسندیدہ دین کو ان کے لئے مضبوط یعنی غالبکردے گا۔


6:  و لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا


(اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا)
  اللّٰہ تعالی ان کے زمانے میں خوف کو امن میں بدل دے گا۔


7: یعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا


(وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔)
  وہ خلفاء صفات مذکورہ کے حامل ہونے کے بعد کبھی بھی شرک کی طرف مائل نہ ہوں گے یعنی مرتد نہ ہوں گے۔
8: آیت مذکورہ میں “کم” اور “ھم” سب جگہ جمع مذکر کی ضمائر ہیں اور جمع کے لئے کم ازکم تین افراد ہونے ضروری ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی ان مخاطبین میں سے کم از کم تین کو ضرور خلافت عطا کرے گا۔


9: و مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ 


(اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں)
  اللہ تعالی نے اس آیت میں مسلمانوں کو جس قدر انعامات کا ذکر فرمایا ہے ، ان انعامات کے مستحق ہوجانے کے بعد یعنی آیت مذکورہ سے موصوف خلفاء کے مسند خلافت پر فائز ہوجانے کے بعد جو بھی ان کی خلافت کا انکار کرے گا وہ فاسق و فاجر ہوگا۔


دعوی اہل سنت


“آیت استخلاف” کے مصداق خلفائے راشدین ہیں کیونکہ جو اوصاف اور امور اس آیت میں بطور نص بیان ہوئے ہیں وہ کسی دوسرے خلیفہ/ خلفاء پر صادر آ ہی نہیں سکتے۔
اگر کوئی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا تو  پھر آخر ان حضرات کے علاوہ دوسری کونسی شخصیات ہیں جو ان امور منصوصہ کی حامل ہوں اور بوقت نزول “آیت استخلاف” اس وقت موجود مخاطبین میں سے بھی ہوں اور کم از کم تین بھی ہوں جنہیں “تمکین فی الارض” بھی حاصل ہوئی ہو اور ان کے زمانے میں خوف و خطر کو امن و آشتی میں تبدیل بھی کردیا گیا ہو اور ان کے دین کا بول بالا بھی ہوا ہو۔
  ان دلائل سے اس آیت کا مصداق صرف خلفائے راشدین ہیں۔ بصورت دیگر اللہ کے وعدے کا مصداق کون لوگ ہوں گے؟؟؟
شیعہ کی طرف سے آیت استخلاف کا مصداق امام مہدی اور ان کا دور خلافت بیان کیا جاتا ہے۔ جبکہ آیت استخلاف سے ہی شیعہ مؤقف رد ہوجاتا ہے۔
شیعہ رافضی اس آیت سے حضرت امام مہدی کی خلافت و غلبہ اسلام کو ثابت کرتے ہیں۔ جبکہ آیت پر غور کیا جائے تو ان کا استدلال باطل ہوجاتا ہے۔
 آیت میں ان لوگوں سے وعدہ جو پہلے غیر مسلم تھے، نبی کریم کی تبلیغ سے ایمان لائے۔
  کیا امام مہدی بھی پہلے معاذاللہ غیر مسلم ہوں گے اور ایمان بعد میں لائیں گے؟  
 آیت میں جمع کے صیغہ استعمال ہوئے ہیں۔
 شیعہ صرف ایک امام مہدی کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ 
 آیت میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ جنہیں خلافت دی جائے گی وہ پہلے خوفزدہ تھے ، اللہ عزوجل ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔
 کیا امام مہدی بھی معاذاللہ پہلے خوف زدہ ہوں گے؟؟ 
 آیت کے آخر میں خبردار بھی کیا جا رہا ہے کہ خلافت ملنے کے بعد اگر کوئی کفر کرے گا تو فاسق ہوجائے گا۔
 کیا امام مہدی کے لئے معاذاللہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے؟؟
استدلال: ان  تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ اللہ عزوجل کا وعدہ نبی کریم کے دور میں اور خلفائے راشدین کے دور میں پورا ہوا۔
1: یہ چاروں خلفاء مہاجرین صحابہ میں سے ہیں اور چاروں آیت کریمہ کے نزول کے وقت کامل ایمان لا چکے تھے۔ کامل ایمان کا مطلب ایمان+عمل صالح ہے۔
2: آیت کریمہ میں لفظ خلفاء بیان ہوا ہے یعنی جمع کا لفظ جس سے مراد کم از کم تین یا اس سے زیادہ خلیفے بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ خلفاء راشدین بھی چار ہیں۔
3: خلفائے راشدین کے دور حکومت میں ایک ہی دین اسلام نافذ تھا۔ شریعت اسلامی کے قوانین بھی من و عن ایک ہی تھے۔ اللہ کی حدود کو جاری کیا گیا،احکام شرعیہ کو نافذ کیا، قرآن مجید کو جمع کیا ، ان کے دور میں احادیث کو محفوظ اور مدون کیا گیا، اور قرآن اور سنت پر عمل کرایا گیا۔
4: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلفائے راشدین کے دور میں شام، عراق، ایران، مصر، فلسطین، خراسان اور افریقہ کے شہروں پر اقتدار عطا فرمایا۔ اسلام کی تبلیغ اور اشاعت ہوئی اور اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر دنیا کے بہت سے علاقوں میں پھیل گیا۔
5: خلفائے راشدین کے دور میں حالت خوف ختم ہوچکی تھی۔ اللہ عزوجل نے مسلمانوں کی حالت خوف کو بدل کر امن عطا کیا اور ان کے دور میں دشمن کا خوف مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا۔


صفحہ 3 از 3