صلح حدیبیہ اور ہوازن و غزوہ خیبر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صلح حدیبیہ اور ہوازن و غزوہ خیبر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سے ہوتے ہوئے قبیلہ ہوازن کی پشت پر حملہ آور ہونے کو کہا۔ یہ وادی مکہ سے چار مراحل کی دوری پر ’’فلا‘‘ کے کنارے سے ہو کر گزرتی ہے، چنانچہ آپ اپنے ساتھ بنو ہلال کے ایک رہنما کو لے کر نکلے۔ 

(غزوۃ الحدیبیۃ: أبوفارس: صفحہ، 134٫135)

آپ رات میں چلتے اور دن میں چھپے رہتے، لیکن ہوازن والوں کو خبر مل گئی اور وہ سب بھاگ نکلے۔ سیدنا عمرؓ ان کے گھروں تک گئے، لیکن کسی کو نہ پایا، پھر واپس مدینہ لوٹ آئے۔

ایک روایت میں ہے کہ ہلالی رہنما نے کہا: ’’کیا آپؓ دوسرے محاذ یعنی ’’خَثْعَم‘‘سے محاذ آرائی کا ارادہ نہیں رکھتے، جن کو آپؓ نے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ان کے شہر بھی قحط زدہ ہیں؟ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے مجھے ان سے محاذ آرائی کا حکم نہیں دیا۔ آپﷺ نے ’’تربہ‘‘ سے ہو کر ہوازن سے جنگ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے۔

اس سریہ سے ہمارے سامنے تین عسکری نتائج سامنے آتے ہیں:

1ـ عمرؓ قیادت کے اہل تھے ، اگر آپؓ کے اندر اس کی صلاحیت نہ ہوتی تو نبیﷺ آپ کو مسلمانوں کے کسی ایسے سریہ کی قیادت نہ سونپتے جو بے حد پر خطر علاقہ اور قوی ترین وغیرت مند عربی قبیلہ کی ملکیت تھی۔

2ـ عمرؓ جو دن میں چھپے رہتے اور رات میں چلتے تھے، اچانک حملہ آور ہونے کے اصول سے بخوبی واقف تھے جو علی الاطلاق جنگی اصولوں میں سے اہم ترین اصول ہے، آپ کی یہی جنگی سیاست آپ کے دشمنوں کو چونکا دیتی اور اسے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی، اور اس طرح مختصر سی فوج کے ساتھ مشرکوں کی بڑی فوج پر آپؓ غالب آتے۔

3ـ سیدنا عمرؓ اپنے قائد اعلیٰ (چیف کمانڈر) کے احکامات کو حرف بہ حرف، پوری روحانیت و معنویت کے ساتھ نافذ کرتے تھے، اس سے ذرّہ برابر نہ ہٹتے تھے اور یہی چیز ہر دور میں اور ہر جگہ عسکری اور فوجی نظام کی روح رہی ہے۔ 

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ، 191)

اور غزوہ خیبر کے موقع پر جب رسول اللہﷺ نے اہلِ خیبر کا محاصرہ کیا تو فوجی قیادت کا جھنڈا عمر بن خطابؓ کو دیا۔ آپؓ کے ساتھ مل کر کچھ لوگوں نے اہلِ خیبر سے مقابلہ کیا، لیکن عمرؓ اور ان کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ گئے اور لوٹ کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپﷺ نے فرمایا:

 لَأُعْطِینَ اللِّوَائَ غَدًا رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ۔

ترجمہ: ’’کل جھنڈا میں ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘

چنانچہ دوسرے دن ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما مجلس میں آگے آگے تھے، لیکن آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو بلایا، ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں، آپﷺ نے ان کی آنکھ پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا۔ پھر آپؓ کے ساتھ مل کر کچھ لوگوں نے اہلِ خیبر سے مقابلہ کیا۔ دوسری طرف سے ’’مرحب‘‘ ان رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے آیا

قد علمت خیبر أنی مرحب

آطعن أحیانا وحینا اضرب

ترجمہ: خیبر والے جانتے ہیں کہ میرا نام مرحب ہے، کبھی میں نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار زنی۔‘‘

شاک السلاح بطل مجرب

إذا اللیوث اقبلت تلہب

ترجمہ: ’’ہتھیار سے لیس، تجربہ کار بہادر ہوں، جب شیر آگے آ جاتے ہیں بپھر اٹھتے ہیں۔‘‘

پھر وہ اور سیدنا علیؓ گتھم گتھا ہو گئے۔ سیدنا علیؓ نے اس کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ تلوار اس کے خود کو کاٹتی ہوئی اس کے سر میں گھس گئی اور کیمپ کے سبھی فوجیوں نے اس کی مار کی آواز سنی، پھر دشمن کا کوئی بھی آدمی علیؓ کے مقابل میں نہ آیا یہاں تک کہ اللہ نے آپﷺ اور مسلمانوں کے لیے خیبر فتح کر دیا۔

غزوۂ خیبر ہی کے موقع پر جب صحابہؓ کی ایک جماعت نبیﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ فلاں شہید ہے، تو آپﷺ نے فرمایا

کَلَّا إِنِّیْ رَأَیْتُہٗ فِی النَّارِ فِیْ بُرْدَۃٍ غَلَّہَا ، أَوْعَبَائَ ۃٍ۔

ترجمہ: ’’ہرگز نہیں، میں نے اسے چادر یا عباء کی چوری کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے۔‘‘

پھر آپ نے فرمایا:

یَابْنَ الْخَطَّابِ! اِذْہَبْ فنَادِ فِی النَّاسِ أَنَّہٗ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ۔

ترجمہ: ’’اے ابن خطاب! جاؤ لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔‘‘

سیدنا عمر بن خطابؓ کا بیان ہے کہ پھر میں نکلا اور اعلان کیا: سن لو! جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ 

(الفاروق القائد: شیت خطاب: صفحہ، 117،118)


صفحہ 2 از 2