فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک

جب قریش نے بدعہدی کر کے حدیبیہ کی صلح توڑ دی تو مدینہ کی طرف سے متوقع خطرات سے ڈر گئے اور ابوسفیان کو صلح کی بحالی اور مدت صلح میں اضافہ کے مقصد سے مدینہ روانہ کیا، وہ اللہ کے رسولﷺ کے پاس آیا اور اپنی بیٹی سیدہ ام حبیبہؓ کے کمرہ میں داخل ہوا لیکن مقصد میں کامیاب نہ ہوا، پھر وہاں سے نکلا اور رسول اللہﷺ کے پاس آیا، آپﷺ سے ہم کلام ہوا۔ لیکن آپﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر سیدنا ابوبکرؓ کے پاس گیا، ان سے کہا کہ رسول اللہﷺ نے اس سے بات کرنے کے لیے کہا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: میں بات نہیں کروں گا۔ پھر عمرؓ کے پاس آیا اور آپؓ سے گفتگو کی، آپؓ نے کہا: کیا میں تمہارے لیے رسول اللہﷺ سے سفارش کر دوں؟ اللہ کی قسم، اگر میں صرف چھوٹی چیونٹیوں کو تم سے جہاد کرنے کے لیے اپنا معاون پاؤں گا تو بھی جہاد کروں گا۔چنانچہ جب آپﷺ نے فتح مکہ کے لیے تیاریاں مکمل کر لیں تو حاطب بن ابی بلتعہؓ نے مکہ والوں کو ایک خط لکھا اور نبی کریمﷺ کے لشکر کشی کی اطلاع انہیں دے دی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے اس خط کے بارے میں اپنے نبیﷺ کو مطلع کر دیا اور آپؓ نے اس کوشش کو آغاز ہی میں ختم دیا۔ آپؓ نے علی اور مقداد رضی اللہ عنہما کو بھیجا، انہوں نے مدینہ سے بارہ میل کی دوری پر روضۂ خاخ کے پاس خط لے جانے والی عورت کو گرفتار کر لیا اور ڈرایا دھمکایا کہ اگر وہ خط نہیں دیتی تو اس کی تلاشی لیں گے، اس نے انہیں وہ خط دے دیا۔ پھر آپﷺ نے تحقیق کے لیے حاطبؓ کو طلب کیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ میرے بارے میں جلدی نہ کریں، میں قریش کا حلیف تھا، میں قریش میں سے نہیں ہوں اور آپﷺ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کے وہاں مکہ میں رشتے دار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مال اور اہل وعیال محفوظ ہیں۔ لہٰذا میں نے چاہا کہ جب وہاں ان سے میرا کوئی خاندانی رشتہ نہیں تو میں اس طرح ان کو اپنا معاون بنا لوں تاکہ میرے قرابت داروں کا خیال رکھیں، میں نے اپنے دین سے ارتداد یا اسلام لانے کے بعد کفر سے رضامندی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔ آپﷺ نے فرمایا:

أَمَا إِنَّہٗ قَدْ صَدَقَکُمْ۔

ترجمہ: اس نے تم سے سچ سچ بات بتائی۔ 

سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس منافق کی گردن مارنے کی اجازت دیجیے۔ آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

إِنَّہٗ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا ، وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ اللّٰہُ اَطَّلَعَ عَلٰی مَنْ شَہِدَ بَدْرًا ،قَالَ: اعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔

(اس کی سند حسن ہے، اس کے رجال شیخین کے رجال ہیں ۔ الموسوعۃ الذہبیۃ: مسند احمد: جلد، 1 حدیث، 30، 203)

ترجمہ: ’’انہوں نے بدر میں شرکت کی ہے، تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ بدر میں شرکت کرنے والوں سے مطلع ہے، اور ان کے بارے میں فرمایا ہے: تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا ہے۔‘‘

رسول اللہﷺ اور سیدنا عمرؓ کے درمیان حاطب کے بارے میں جو گفتگو ہوئی اس سے مندرجہ ذیل عبرت و موعظت کی باتیں سامنے آتی ہیں:

جاسوس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ سیدنا عمرؓ نے قتل کرنے کی اجازت مانگی، لیکن آپﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا، بلکہ ان کے بدری ہونے کی وجہ سے ان پر سزا نافذ کرنے سے منع کیا۔

دین کے بارے میں سیدنا عمرؓ کی سختی:

دین کے بارے میں آپؓ کی سختی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب کہ آپؓ نے حاطب کی گردن زدنی کی اجازت مانگی۔

گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے ایمان باطل نہیں ہوتا: حاطبؓ کا عمل یعنی جاسوسی گناہ کبیرہ تھا۔ اس کے باوجود انہیں مومن مانا گیا۔

عمرؓ نے عہد نبویﷺ میں حاطبؓ پر اصطلاحی معنوں میں نہیں بلکہ لغوی معنی میں منافقت کا حکم لگایا تھا کیونکہ نفاق کا اصطلاحی معنی ہے اسلام کو ظاہر کرنا اور کفر کو دل میں پوشیدہ رکھنا۔ سیدنا عمرؓ کا کہنا یہ تھا کہ حاطبؓ کے ظاہر و باطن میں مخالفت ہے، کیونکہ انہوں نے جو خط بھیجا ہے وہ اس ایمان کے خلاف ہے جس کے راستہ میں جہاد کرنے اور قربانی دینے کے لیے نکلے ہیں۔ 

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد ، 2 صفحہ، 265 أخبار عمر، صفحہ، 37)

سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے انکار سے بہت متاثر ہوئے، چنانچہ کچھ دیر پہلے سخت غصہ میں تھے اور حاطب پر سخت ترین سزا کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے چند ہی لمحوں میں خشیت الہٰی سے رونے لگے، اور کہا: ’’ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ اچانک اس تبدیلی کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے غصہ ہوئے تھے، لیکن جب معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کا سبب کچھ اور ہے تو ان کے مجاہدانہ کارنامے کے احترام میں اور اپنے ساتھی محمدﷺ کے حسن سلوک کو دیکھتے ہوئے ان کی غلطی سے چشم پوشی کر لی اور آپﷺ کی بات مان گئے۔ 

(صحیح البخاری: المغازی: حدیث، 4274)

صفحہ 1 از 3