فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جب رسول اللہﷺ مرالظہران پہنچے اور ابوسفیان کو اپنے بارے میں خطرہ لاحق ہوا، رسول اللہﷺ کے چچا عباسؓ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ آپﷺ سے امان طلب کر لے، تو اس نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ عباس بن عبدالمطلبؓ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: اے ابوسفیان! تیری بربادی ہو، دیکھ! رسول اللہﷺ لوگوں میں موجود ہیں۔ ہائے! قریش کی بری صبح۔ اس نے کہا: تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، پھر بچاؤ کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، اگر وہ تم کو گرفتار کر لیں گے تو یقیناً تمہاری گردن مار دیں گے، اس خچر کے پیچھے سوار ہوجاؤ میں تم کو رسول اللہﷺ کے پاس لے چلتا ہوں اور تمہارے لیے آپﷺ سے امان مانگ لوں گا۔ پھر وہ میرے پیچھے سوار ہو گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس ہو گئے۔ میں اس کو لے کر آیا، میں جب بھی کسی مسلمان کے الاؤ کے قریب سے گزرتا تو پوچھتے کہ یہ کون ہے؟ لیکن جب وہ لوگ رسول اللہﷺ کے خچر کو دیکھتے اور میں اس پر سوار ہوتا تو کہتے: آپﷺ کے خچر پر آپﷺ کے چچا ہیں یہاں تک کہ جب میں سیدنا عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہے؟وہ میری طرف کھڑے ہو گئے اور جب خچر پر پیچھے ابوسفیان کو دیکھا تو کہا: یہ ابوسفیان، اللہ کا دشمن! اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بلا کسی عہد و ارادہ کے تجھ پر قابو عطا کیا، پھر وہ تیزی سے رسول اللہﷺ کی طرف جانے لگا اور عمرؓ بھی آپﷺ کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ابوسفیان ہے، بغیر ہمارے کسی عہد و ارادہ کے اللہ نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا ہے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں۔ عباسؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے پناہ دے دی ہے لیکن جب سیدنا عمرؓ اپنی بات پر بضد رہے تو میں نے کہا: اے عمرؓ! ذرا ٹھہرو، اللہ کی قسم اگر اس کا تعلق بنو عدی سے ہوتا تو تم ایسا نہ کہتے، تم ایسا اس لیے کہہ رہے ہو کہ جانتے ہو کہ یہ بنو عبد مناف کا ایک فرد ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے عباس ذرا ٹھہریے! اللہ کی قسم، جب آپؓ نے اسلام قبول کیا تھا اس دن اگر خطاب بھی اسلام لاتے تو آپ کا اسلام لانا میرے نزدیک زیادہ محبوب تھا، اور میری یہ پسندیدگی صرف اس وجہ سے تھی کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک خطاب کے مسلمان ہونے کے مقابلے میں، اگر وہ اسلام لاتے، آپ کا اسلام لانا زیادہ محبوب تھا۔ پھر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِذْہَبْ بِہٖ یَا عَبَّاسُ إِلٰی رَحْلِکَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَأْتِنِیْ بِہٖ۔

(السیرۃ النبویۃ: ابوفارس: صفحہ، 404)

’’اے عباسؓ! اسے اپنے خیمے میں لے جاؤ جب صبح ہو تو انہیں لے کر آنا۔‘‘

یہ ہے فاروقی مؤقف؛ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کا دشمن مسلمانوں کی فوج کے پاس سے ایسی حالت میں گزر رہا ہے کہ رسول اللہﷺ کے چچا کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور ڈرتے ہوئے رسوائی کی حالت میں خود کو ظاہر کرتا ہے، سیدنا عمرؓ چاہتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد اور اس کی رضامندی کی خاطر اللہ کے اس دشمن کی گردن مار دیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کو خیر سے نوازنا چاہا اور ان کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیااور ان کی جان و خون کو محفوظ کر دیا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد، 7 صفحہ، (176،177 )

غزوۂ حنین میں مشرکین نے اسلامی لشکر پر اچانک حملہ کر دیا اور لوگ تیزی سے پیچھے کی طرف پلٹ گئے، کوئی کسی کی پروا نہ کرتا تھا۔ رسول اللہﷺ داہنی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:

أَیْنَ أَیُّہَا النَّاسُ؟ ہَلُمَّ إِلَیَّ ، أَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ۔

ترجمہ: ’’اے لوگو! تم کہاں بھاگ رہے ہو؟ میری طرف آؤ، میں اللہ کا رسول ہوں، میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں۔‘‘

لیکن کسی نے آپﷺ کی بات نہ سنی، اونٹ ایک دوسرے پر گر رہے تھے، اکثر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مہاجرین، انصار اور آپﷺ کے اہلِ بیتؓ کے چند لوگ ہی آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقی رہے۔ مہاجرین میں سے ابوبکرؓ اور عمرؓ اور اہل بیتؓ میں سے علی بن ابی طالبؓ، عباس بن عبدالمطلبؓ، ان کے لڑکے فضل بن عباسؓ، ابوسفیان بن حارثؓ، ان کے لڑکے، اور ربیعہ بن حارثؓ وغیرہ آپﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔

(السیرۃ النبویۃ: صفحہ،: 518، 519، 520)

اس غزوہ میں فاروقی مؤقف کو ابوقتادہؓ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’غزوۂ حنین کے سال ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے، جب معرکہ شروع ہوا تو فتح کی پہلی بالی مسلمانوں کے حق میں آئی، میں نے دیکھا کہ ایک مشرک آدمی ایک مسلمان کو زیر کیے ہے۔ میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار سے وار کیا، جس سے اس کا بازو کٹ گیا، وہ میری طرف پلٹا اور مجھے اتنا سخت دبوچ لیا جیسے کہ میں مرجاؤں گا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں سیدنا عمر بن خطابؓ سے ملا اور کہا: لوگوں کو کیا ہوچگیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا: اللہ کا یہی حکم ہے۔ پھر سب دوبارہ واپس آئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس غزوہ کی منظر کشی اس طرح کی ہے:

لَـقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ‌ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ‌ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ‌۞

(سورۃ التوبۃ: آیت، 25)

ترجمہ: ’’یقینا اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔‘‘

پھر ایسے وقت میں جب کہ مسلمان ہزیمت کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور اپنے محبوب بندوں کی مدد فرمائی۔ یہ تائید اس وقت ملی جب کہ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس دوبارہ لوٹ کر گئے، اور آپﷺ کے پاس جمع ہوئے، پھر اللہ نے اپنی فوج پر اپنی رحمت اور مدد نازل کی:

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا‌ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ وَذٰ لِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞

(سورۃ التوبة: آیت، 26)

صفحہ 2 از 3