فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: ’’پھر اللہ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وہ لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے، اور کافروں کو پوری سزا دی، اوران کفار کا یہی بدلہ تھا۔‘‘

معرکہ حنین کے بعد مسلمان مدینہ لوٹے، جب وہ ’’جِعِرَّانہ‘‘(الفاروق مع النبی: د/ عاطف لماضۃ: صفحہ، 42) گزر رہے تھے تو رسول اللہﷺ بلالؓ کے کپڑے میں سے مالِ غنیمت کی چاندی پکڑتے اور لوگوں میں تقسیم کرتے، اسی دوران ایک آدمی آیا اور آپﷺ سے کہنے لگا: اے محمد! انصاف سے کام لیجیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تیری بربادی ہو، اگر میں انصاف نہ کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟ اگر میں نے عدل سے کام نہ لیا تو میں خسارے میں ہوا۔ سیدنا عمر بن خطابؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے، اس منافق کو قتل کردوں؟

آپﷺ نے فرمایا: 

 مَعَاذَ اللّٰہ أَنْ یَّتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّیْ أَقْتُلُ أَصْحَابِیْ ، إِنَّ ہٰذَا وَأَصْحَابُہٗ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنْہُ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام:جلد، 2 صفحہ، 289 أخبار عمر: صفحہ، 41)

’اللہ کی پناہ، خوف ہے کہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں، بے شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق (صحیح البخاری: حدیث، 4066،4067) سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے ایسے ہی خارج ہوں گے جیسے کہ تیر کمان سے۔‘‘ 

اس واقعہ سے سیّدنا عمرؓ کے مؤقف کی عظمت و منقبت جلوہ گر ہے، بایں طور کہ جب آپؓ کے سامنے شرعی محرمات کی تحقیر و بےحرمتی کی گئی تو آپؓ قطعاً برداشت نہ کرسکے، اُس خارجی نے مقام نبوت و رسالت پر جوں ہی حملہ کیا آپؓ فوراً یہ کہتے ہوئے سامنے آئے: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔‘‘ سیدنا عمر فاروقؓ کا یہی ردّ عمل ان تمام لوگوں کے ساتھ ہوتا تھا جو نبوت و رسالت کے تقدس کی بے حرمتی کرنا چاہتے تھے۔

(مکہ کے شمال مشرق میں ننانوے 99 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔)

جعرانہ میں سیّدنا عمرؓ نے یعلی بن امیہؓ، جنہوں نے رسول اللہﷺ پر نزول وحی کا عینی مشاہدہ کیا۔۔ کی رغبت پر لبیک کہا۔ صفوان بن یعلی کا بیان ہے کہ یعلیؓ کہتے تھے

’’کاش میں رسول اللہﷺ کو اس وقت دیکھتا جب آپﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔‘

(صحیح مسلم: حدیث، 1063 صحیح البخاری: حدیث، 3138 )

ایک مرتبہ نبیﷺ جعرانہ میں تھے، آپﷺ کے اوپر کپڑے کا سائبان تھا، آپﷺ کے ساتھ اس میں آپﷺ کے دوسرے ساتھی بھی تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آیا، وہ ایک جبہ میں ملبوس تھا جو کہ خوشبو سے تر تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کسی آدمی نے اس جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو جو خوشبو سے بھیگا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ سیدنا عمرؓ نے یعلیؓ کو ہاتھوں سے اشارہ کیا اور کہا: آؤ، یعلیؓ آئے، دیکھا تو نبیﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے، کچھ دیر تک آپﷺ سے خراٹے جیسی آواز سنائی دیتی رہی، پھر آپﷺ سے وہ کیفیت ختم ہو گئی، اور آپﷺ نے کہا:

أَمَّا الطِّیْبُ الَّذِیْ بِکَ فَاغْسِلْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّۃُ فَانْزِعْہَا ثُمَّ اصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔ 

اس کے دو مطلب بتائے گئے ہیں : 

1ـ ان کی تلاوت صرف زبان تک محدود ہے، دل سے اسے قبول نہیں کرتے نہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔

2ـ نہ ان کا عمل ہی قبول ہے نہ تلاوت ہی۔ (مترجم)

خوشبو کو تین مرتبہ دھو دو اور جبہ اتار پھینکو، اپنے عمرہ میں ویسا ہی کرو جیسا حج میں کرتے ہو۔‘‘

اور غزوۂ تبوک کے موقع پر آپؓ نے اپنا نصف مال اللہ کے راستہ میں صدقہ کر دیا اور جب لوگوں کو شدت کی بھوک لگی تو آپ نے رسول اللہﷺ کو مشورہ دیا کہ لوگوں کے لیے برکت کی دعا کریں۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ سخت بھوک سے دوچار ہوئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپﷺ اجازت دیں تو ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح کر دیں، انہیں کھائیں اور چربی استعمال کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: ایسا کر لو۔ سیدنا عمرؓ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو سواریوں کی کمی ہوجائے گی، بلکہ ان سے کہیے کہ وہ اپنا باقی ماندہ توشہ لے کر آپﷺ کے پاس آئیں، چنانچہ کوئی مٹھی بھر مکئی، کوئی کھجور، کوئی روٹی کا ٹکڑا لے کر آیا، اس طرح دستر خوان پر کچھ کھانا جمع ہو گیا، پھر آپﷺ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی، اور فرمایا:

خُذُوْا فِیْ أَوْعِیَتِکُمْ ’’اپنے برتنوں میں لے جاؤ‘‘ وہ اپنے برتنوں میں لے جانے لگے اور مجاہدین کا کوئی برتن ایسا نہ رہا جس کو انہوں نے نہ بھرا ہو۔ انہوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور اس سے کچھ بچ بھی گیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا

أَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا یَلْقَی اللّٰہَ بِہِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍ فَیُحجَبَ عَنِ الْجَنَّۃِ۔ 

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ، 200)

ترجمہ: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ نہیں ہے کوئی بندہ جو اس بات کا اقرار کرتے ہوئے اللہ سے ملے کہ وہ اس ملاقات میں شک نہ کرتا ہو، تو اسے جنت میں جانے سے روک دیا جائے۔‘‘

یہ چند فاروقی مواقف ہیں جنہیں آپؓ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ اختیار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزوات نبویﷺ میں جو عبرت و موعظت اور دینی و فقہی مسائل پیش آئے انہیں آپؓ نے اچھی طرح سمجھا اور شریعت الہٰی کی روشنی میں لوگوں کی قیادت و رہنمائی کے لیے یہی چیز آپؓ کے لیے زادِ راہ بنی۔


صفحہ 3 از 3