صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف
ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابیصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کی جائے اس لیے کہ ان کے باہمی تنازعات میں پڑنا فریقین میں سے کسی ایک کے لیے عداوت، کینہ اور بغض وغیرہ کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام سے محبت کرے، سب سے راضی رہے، ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرے، ان کے فضائل و مناقب کا لحاظ کرے اور انہیں عام کرے، اس کا یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ ان کے باہمی اختلافات ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھے۔ صواب اور خطا دونوں حالتوں میں انہیں اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، البتہ اپنے اجتہاد میں صحیح نتیجے پر پہنچنے والے کو غلطی کرنے والے کے ثواب سے دگنا ثواب ملے گا اور یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے قاتل بھی جنتی ہیں اور مقتول بھی۔ اہل سنت و الجماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات میں پڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ قبل اس کے کہ میں اس حوالے سے اہل سنت کے بعض اقوال ذکر کروں میں آپ کے سامنے کچھ ایسی نصوص پیش کرنا چاہوں گا جن میں ان کے باہم قتل و قتال اور اس دوران ان کے راویوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
[عقیدۃ اہل السنۃ و الجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: ۲/۷۲۷۔ تنزیہ خال امیر المومنین معاویۃ بن ابی سفیان، ص: ۴۱.]
۱۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِنْ فَائَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَo}
(الحجرات: ۹)
’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم سب زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات کا حکم دے رہا ہے کہ جب مومنین آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔ اس لیے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ قتل و قتال انہیں وصف ایمان سے خارج نہیں کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مومنین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جب عام مسلمانوں کو قتل و قتال ایمان سے خارج نہیں کرتا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو جنگ جمل کے موقع پر اور بعد ازاں آپس میں لڑ پڑے تو وہ سب سے پہلے اس ایمان کے دائرہ میں داخل ہیں جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اپنے رب کے نزدیک حقیقی مومن ہیں اور ان کے باہمی مشاجرات کسی بھی حالت میں ان کے ایمان پر اثر انداز نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ وہ ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھے۔
[العواصم من القواصم، ص: ۱۶۹، ۱۷۰۔ احکام القرآن: ۴/۱۷۱۷.]
۲۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی گروہ بندی کے وقت ایک گمراہ جماعت تیزی سے نکلے گی جسے دو جماعتوں میں سے حق سے زیادہ قریب جماعت قتل کرے گی۔‘‘
[مسلم: ۲/۷۴۵.]
اس حدیث میں جس گروہ بندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ مسلمان ہوں گی اور دونوں حق سے وابستہ ہوں گی، یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا سب کچھ اس کے مطابق ہی ہوا، اس میں اہل شام اور اہل عراق دونوں جماعتوں کو مسلمان بتایا گیا ہے اور جاہل رافضی فرقہ کی طرف سے اہل شام کی تکفیر کرنے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور اصحاب علی رضی اللہ عنہ حق سے زیادہ قریب تھے ، اہل سنت کا بھی یہی مذہب ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کا موقف درست تھا، اور اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے اور وہ ان شاء اللہ ماجور من اللہ بھی ہیں۔ مگر امام علی رضی اللہ عنہ تھے اور وہ دوہرے اجر کے حق دار ہیں، جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور صحیح نتیجے پر پہنچے تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر اجتہاد میں اس سے غلطی سرزد ہو جائے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘
[فتح الباری شرح صحیح بخاری: ۱۳/۳۱۸.]
۳۔ ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران حسن رضی اللہ عنہ آئے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، یقینا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔‘‘
[صحیح بخاری، کتاب الفتن، رقم: ۷۱۰۹.]
اس حدیث میں اہل عراق اور اہل شام کی دو جماعتوں کے اسلام کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شہادت دی گئی ہے اور اس میں ان خوارج کا ردّ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی تکفیر کرتے ہیں اس لیے کہ حدیث ان سب کے لیے اسلام کی شہادت کو متضمن ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں مسلمانوں کی دو جماعتیں قرار دینا ہمیں بہت پسند ہے۔ بیہقی فرماتے ہیں: ابن عیینہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس لیے پسند تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں جماعتوں کو مسلمان کے نام سے موسوم فرمایا اور جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد امارت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو سونپ دی۔
[الاعتقاد للبیہقی، ص: ۱۹۸، فتح الباری: ۱۳/۶۶.]
مذکورہ بالا احادیث میں اہل عراق کی طرف اشارہ ہے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اہل شام کی طرف بھی جو کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جن سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا امتی قرار دیا۔
صحیح مسلم: (۲/۷۴۶)
میں ہے: میری امت میں دو فرقے بن جائیں گے.
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ وصف بھی بیان فرمایا کہ وہ حق سے وابستہ ہوں گے اور اس سے باہر نہیں جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس بات کی بھی گواہی دے دی کہ ان کا ایمان مسلسل برقرار رہے گا اور وہ آپس کے قتل و قتال کی بنا پر ایمان سے خارج نہیں ہوں گے، وہ لوگ اس ارشاد باری کے عموم میں داخل ہیں:
{وَ اِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا}
(الحجرات: ۹)
ہم قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم ان سب کا احاطہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ باہمی لڑائیوں کی وجہ سے کفر و فسوق کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ مجتہد اور متأول تھے، ان کے قتال کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ پہلے بتایا جا چکا ہے، بنا بریں مسلمان پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے فرقہ ناجیہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ اختیار کرے اور وہ یہ کہ: ان کے باہمی تنازعات و اختلافات کے بارے میں لب کشائی نہ کرنا اور ان کے بارے میں بحث و مباحثہ سے اجتناب کرنا بجز اس انداز کے جو، ان کے شایان شان ہو۔ اہل سنت کی کتابیں ان کے اس عقیدہ صافیہ کے بیان و وضاحت سے بھری پڑی ہیں جسے ان پسندیدہ اور منتخب شدہ ہستیوں کے بارے میں اپنانا ضروری ہے۔ علماء اہل سنت نے اپنے اقوال حسنہ میں ان کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اپنا موقف کھل کر بیان کر دیا ہے۔
[عقیدۃ اہل السنۃ فی الصحابۃ: ۲/۷۳۲.]
مثلاً:
۱۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان خونوں سے میرے ہاتھوں کو محفوظ رکھا، کیا میں اس سے اپنی زبان محفوظ نہ رکھوں؟‘‘
[الانصاف للباقلانی، ص: ۱۶۔ الطبقات: ۵/۳۹۴.]
عمر بن عبدالعزیز کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے امام بیہقی فرماتے ہیں: یہ بڑی عمدہ اور خوبصورت بات ہے، اس لیے کہ غیر متعلقہ باتوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہی امر صائب ہے۔
[مناقب الشافعی، ص: ۳۶.]
۲۔ جب حسن بصری سے قتال صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس قتال میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جبکہ ہم غیر موجود، وہ عالم تھے اور ہم جاہل، ان کی جمعیت کی ہم اتباع کریں اور ان کے اختلافات کے سامنے رک جائیں۔
[الجامع لاحکام القرآن: ۱۶/۳۳۲.]
حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان امور کا ہم سے زیادہ علم تھا، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جن معاملات میں ان کا اتفاق تھا ان میں ان کی اتباع کریں اور جن امور میں اختلاف تھا وہاں رک جائیں اور اپنی طرف سے کوئی رائے پیش نہ کریں۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ ان لوگوں نے اجتہاد کیا۔ اللہ کے لیے مخلص رہے اس لیے کہ دین کے حوالے سے ان پر کوئی تہمت عائد نہیں کی جا سکتی۔
[الجامع لاحکام القرآن: ۱۶/۳۳۲.]
۳۔ جعفر بن محمد صادق سے مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواباً فرمایا: میں اس بارے میں وہی کچھ کہتا ہوں جو اللہ نے
فرمایا:
{قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسٰیo}
(طٰہٰ: ۵۲)
[الانصاف للباقلانی، ص: ۱۶۴.]
’’اس نے کہا: ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔‘‘
۴۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو کچھ ہوا آپ اس کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’میں تو ان کے بارے میں اچھی بات ہی کہوں گا۔‘‘
[مناقب الامام احمد لابن جوزی، ص: ۱۶۴.]
ابراہیم بن آرز فقیہ سے ان کا یہ قول مروی ہے: میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا کہ اس دوران ایک آدمی نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والے امور کے بارے میں دریافت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے اس سے منہ موڑ لیا۔ ان سے کہا گیا: ابو عبداللہ! اس آدمی کا بنو ہاشم سے تعلق ہے۔ تو پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ لو:
{تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَ لَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ}
(البقرۃ: ۱۴۱)
’’یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کا کیا ان کے لیے اور تمہارا کیا تمہارے لیے، اور ان کے کیے کی تم سے پوچھ نہ ہو گی۔‘‘
۵۔ ابن ابی زید قیروانی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مسلمان کے عقیدہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہمیشہ اچھے انداز اور اچھے الفاظ سے ہونا چاہیے، ان کے مشاجرات کے بارے میں لب کشائی نہیں کرنی چاہیے اور ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کے امور کو اچھائی پر محمول کیا جائے۔
ان کا مشہور رسالہ شرح
’’الثمر الدانی‘‘: (۱۵۲) ص: ۲۳.
۶۔ ابو عبداللہ بن بطہ اہل السنہ و الجماعہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمیں مشاجرات صحابہ کے بارے میں لب کشائی سے باز رہنا چاہیے، وہ ہر میدان شہادت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، سب لوگوں سے بڑھ کر فضل و شرف حاصل کیا، اللہ نے خود ان کی مغفرت فرما دی اور تمہیں ان کے لیے مغفرت طلب کرنے اور ان سے محبت کر کے اپنا قرب حاصل کرنے کا حکم دیا اور اسے اپنے نبی مکرم کی زبان مبارک سے تم پر فرض قرار دیا، وہ بخوبی جانتا تھا کہ آگے چل کر ان سے کیا کچھ سرزد ہونا ہے، انہیں کل کائنات پر اس لیے فضیلت دی گئی کہ ان کے عمد و خطا کو معاف کر دیا گیا اور ان کے باہمی مشاجرات کی مغفرت فرما دی گئی۔
[الشرح و الابانۃ علی اصول السنۃ و الدیانۃ، ص: ۲۶۸.]
۷۔ ابوبکر بن الطیب باقلانی فرماتے ہیں: ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں مشاجرات صحابہ کرام کے بارے میں لب کشائی نہیں کرنی، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا اور مدح و ثناء کرنی ہے۔ ہم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے رضوان، امان، فوز و فلاح اور جنتوں کے خواستگار ہیں، ہمارا اعتقاد ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے جو کچھ بھی کیا درست کیا اور ان کے لیے دوہرا اجر ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جس چیز کا بھی صدور ہوا وہ ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھا جس کے لیے وہ اجر کے مستحق ہیں وہ نہ تو فسق و فجور کے مرتکب ہوئے اور نہ کسی بدعت کے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد باری ہے:
{لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاo}
(الفتح: ۱۸)
’’یقینا اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں میں جو کچھ تھا اس نے اسے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔‘‘
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور درست نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب وہ اجتہاد کرے اور اس سے غلطی ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔‘‘ اگر ہمارے وقت کے حاکم کو اس کے درست اجتہاد کی وجہ سے دوہرا اجر مل سکتا ہے تو آپ کا ان لوگوں کے اجتہاد کے بارے میں کیا خیال ہے جن سے اللہ راضی ہو چکا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، اس قول کی صحت کی دلیل حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔‘‘
[بخاری، کتاب الفتن، رقم: ۷۱۰۹.]
اس ارشاد گرامی میں دونوں جماعتوں کے لیے عظمت کا اثبات کیا گیا اور دونوں کے لیے صحت اسلام کا حکم لگایا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے سینوں سے رنجش و کینہ نکال دینے کا وعدہ کر رکھا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
{وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَo}
(الحجر: ۴۷)
’’ان کے دلوں میں جو رنجش و کینہ ہے ہم وہ سب کچھ نکال دیں گے وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔‘‘ اور آگے چل کر فرماتے ہیں: ان کے مشاجرات و تنازعات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا واجب ہے۔
[الانصاف فیما یجب اعتقادہ و لا یجوز الجہل بہ، ص: ۶۷-۶۹.]
۸۔ اس حوالے سے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل سنت مشاجرات صحابہ کرام کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائیوں کے بارے میں مروی آثار میں سے کچھ تو محض جھوٹے ہیں اور بعض میں کمی بیشی کر کے انہیں ان کے اصل مقصد سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ صحیح طور سے ثابت شدہ امور میں وہ معذور ہیں، یا تو وہ صائب فیصلہ پر پہنچنے والے مجتہد ہیں یا مبنی پر خطا فیصلہ کرنے والے اور دونوں صورتوں میں اجر و ثواب کے مستحق۔
[العقیدہ الواسطیہ مع شرح از محمد خلیل ہراس، ص: ۱۷۳.]
۹۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رونما ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تنازعات و مشاجرات میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی حیثیت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ تو غیر ارادی طور سے واقع ہوئے جیسا کہ جنگ جمل کا واقعہ اور کچھ اجتہاد کے نتیجہ میں، جیسا کہ جنگ صفین اور اجتہاد میں خطاء کا امکان بھی ہوتا ہے اور صواب کا بھی، لیکن غلطی کرنے والا مجتہد معذور بھی ہوتا ہے اور عند اللہ ماجور بھی۔ جبکہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے والا مجتہد دوہرے اجر کا مستحق ہوتا ہے۔
[الباعث الحیثیت، ص: ۱۸۲.]
۱۰۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ان سے صادر ہونے والے بعض امور کی وجہ سے طعن و تشنیع کرنا منع ہے، اس لیے کہ انہوں نے ان جنگوں میں اجتہاد کی بنیاد پر قتال کیا تھا، بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں سے غلطی کرنے والے کو ایک اجر اور صحیح فیصلہ کرنے والے کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔
[فتح الباری: ۱۳/۶۳۴۔ عقیدہ اہل السنۃ: ۲/۷۴۰.]
الغرض اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سراٹھانے والے فتنوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا واجب ہے، نیز ان کے لیے رحمت کی دعا کرنا، ان کے فضائل کا خیال رکھنا، ان کے سابق الاسلام ہونے کا اعتراف کرنا اور ان کے محاسن کو عام کرنا بھی ضروری ہے۔ رضی اللّٰہ عنہم و ارضاہم۔
[عقیدۃ اہل السنۃ: ۲/۷۴۰.]
اسم الكتاب:
سیدنا معاویہ بن سفیان شخصیت اور کارنامے