صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف

  ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کی جائے اس لیے کہ ان کے باہمی تنازعات میں پڑنا فریقین میں سے کسی ایک کے لیے عداوت، کینہ اور بغض وغیرہ کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام سے محبت کرے، سب سے راضی رہے، ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرے، ان کے فضائل و مناقب کا لحاظ کرے اور انہیں عام کرے، اس کا یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ ان کے باہمی اختلافات ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھے۔ صواب اور خطا دونوں حالتوں میں انہیں اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، البتہ اپنے اجتہاد میں صحیح نتیجے پر پہنچنے والے کو غلطی کرنے والے کے ثواب سے دگنا ثواب ملے گا اور یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے قاتل بھی جنتی ہیں اور مقتول بھی۔ اہل سنت و الجماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات میں پڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ قبل اس کے کہ میں اس حوالے سے اہل سنت کے بعض اقوال ذکر کروں میں آپ کے سامنے کچھ ایسی نصوص پیش کرنا چاہوں گا جن میں ان کے باہم قتل و قتال اور اس دوران ان کے راویوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

[عقیدۃ اہل السنۃ و الجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: ۲/۷۲۷۔ تنزیہ خال امیر المومنین معاویۃ بن ابی سفیان، ص: ۴۱.] 

۱۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِنْ فَائَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَo}

(الحجرات: ۹) 

’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم سب زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات کا حکم دے رہا ہے کہ جب مومنین آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔ اس لیے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ قتل و قتال انہیں وصف ایمان سے خارج نہیں کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مومنین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جب عام مسلمانوں کو قتل و قتال ایمان سے خارج نہیں کرتا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو جنگ جمل کے موقع پر اور بعد ازاں آپس میں لڑ پڑے تو وہ سب سے پہلے اس ایمان کے دائرہ میں داخل ہیں جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اپنے رب کے نزدیک حقیقی مومن ہیں اور ان کے باہمی مشاجرات کسی بھی حالت میں ان کے ایمان پر اثر انداز نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ وہ ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھے۔

[العواصم من القواصم، ص: ۱۶۹، ۱۷۰۔ احکام القرآن: ۴/۱۷۱۷.] 

۲۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی گروہ بندی کے وقت ایک گمراہ جماعت تیزی سے نکلے گی جسے دو جماعتوں میں سے حق سے زیادہ قریب جماعت قتل کرے گی۔‘‘

[مسلم: ۲/۷۴۵.]

اس حدیث میں جس گروہ بندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ مسلمان ہوں گی اور دونوں حق سے وابستہ ہوں گی، یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا سب کچھ اس کے مطابق ہی ہوا، اس میں اہل شام اور اہل عراق دونوں جماعتوں کو مسلمان بتایا گیا ہے اور جاہل رافضی فرقہ کی طرف سے اہل شام کی تکفیر کرنے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور اصحاب علی رضی اللہ عنہ حق سے زیادہ قریب تھے ، اہل سنت کا بھی یہی مذہب ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کا موقف درست تھا، اور اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے اور وہ ان شاء اللہ ماجور من اللہ بھی ہیں۔ مگر امام علی رضی اللہ عنہ تھے اور وہ دوہرے اجر کے حق دار ہیں، جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور صحیح نتیجے پر پہنچے تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر اجتہاد میں اس سے غلطی سرزد ہو جائے تو اسے ایک اجر ملے گا۔‘‘

[فتح الباری شرح صحیح بخاری: ۱۳/۳۱۸.] 

۳۔ ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران حسن رضی اللہ عنہ آئے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، یقینا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔‘‘

[صحیح بخاری، کتاب الفتن، رقم: ۷۱۰۹.]

اس حدیث میں اہل عراق اور اہل شام کی دو جماعتوں کے اسلام کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شہادت دی گئی ہے اور اس میں ان خوارج کا ردّ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی تکفیر کرتے ہیں اس لیے کہ حدیث ان سب کے لیے اسلام کی شہادت کو متضمن ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں مسلمانوں کی دو جماعتیں قرار دینا ہمیں بہت پسند ہے۔ بیہقی فرماتے ہیں: ابن عیینہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس لیے پسند تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں جماعتوں کو مسلمان کے نام سے موسوم فرمایا اور جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد امارت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو سونپ دی۔

[الاعتقاد للبیہقی، ص: ۱۹۸، فتح الباری: ۱۳/۶۶.] 

صفحہ 1 از 3