صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف

  ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

مذکورہ بالا احادیث میں اہل عراق کی طرف اشارہ ہے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اہل شام کی طرف بھی جو کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جن سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا امتی قرار دیا۔

صحیح مسلم: (۲/۷۴۶)

میں ہے: میری امت میں دو فرقے بن جائیں گے.

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ وصف بھی بیان فرمایا کہ وہ حق سے وابستہ ہوں گے اور اس سے باہر نہیں جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس بات کی بھی گواہی دے دی کہ ان کا ایمان مسلسل برقرار رہے گا اور وہ آپس کے قتل و قتال کی بنا پر ایمان سے خارج نہیں ہوں گے، وہ لوگ اس ارشاد باری کے عموم میں داخل ہیں:

{وَ اِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا}

(الحجرات: ۹)

ہم قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم ان سب کا احاطہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ باہمی لڑائیوں کی وجہ سے کفر و فسوق کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ مجتہد اور متأول تھے، ان کے قتال کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ پہلے بتایا جا چکا ہے، بنا بریں مسلمان پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے فرقہ ناجیہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ اختیار کرے اور وہ یہ کہ: ان کے باہمی تنازعات و اختلافات کے بارے میں لب کشائی نہ کرنا اور ان کے بارے میں بحث و مباحثہ سے اجتناب کرنا بجز اس انداز کے جو، ان کے شایان شان ہو۔ اہل سنت کی کتابیں ان کے اس عقیدہ صافیہ کے بیان و وضاحت سے بھری پڑی ہیں جسے ان پسندیدہ اور منتخب شدہ ہستیوں کے بارے میں اپنانا ضروری ہے۔ علماء اہل سنت نے اپنے اقوال حسنہ میں ان کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اپنا موقف کھل کر بیان کر دیا ہے۔

[عقیدۃ اہل السنۃ فی الصحابۃ: ۲/۷۳۲.]

مثلاً:
۱۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان خونوں سے میرے ہاتھوں کو محفوظ رکھا، کیا میں اس سے اپنی زبان محفوظ نہ رکھوں؟‘‘

[الانصاف للباقلانی، ص: ۱۶۔ الطبقات: ۵/۳۹۴.] 

عمر بن عبدالعزیز کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے امام بیہقی فرماتے ہیں: یہ بڑی عمدہ اور خوبصورت بات ہے، اس لیے کہ غیر متعلقہ باتوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہی امر صائب ہے۔

[مناقب الشافعی، ص: ۳۶.] 

۲۔ جب حسن بصری سے قتال صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس قتال میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جبکہ ہم غیر موجود، وہ عالم تھے اور ہم جاہل، ان کی جمعیت کی ہم اتباع کریں اور ان کے اختلافات کے سامنے رک جائیں۔

[الجامع لاحکام القرآن: ۱۶/۳۳۲.]

حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان امور کا ہم سے زیادہ علم تھا، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جن معاملات میں ان کا اتفاق تھا ان میں ان کی اتباع کریں اور جن امور میں اختلاف تھا وہاں رک جائیں اور اپنی طرف سے کوئی رائے پیش نہ کریں۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ ان لوگوں نے اجتہاد کیا۔ اللہ کے لیے مخلص رہے اس لیے کہ دین کے حوالے سے ان پر کوئی تہمت عائد نہیں کی جا سکتی۔

[الجامع لاحکام القرآن: ۱۶/۳۳۲.] 

۳۔ جعفر بن محمد صادق سے مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواباً فرمایا: میں اس بارے میں وہی کچھ کہتا ہوں جو اللہ نے

فرمایا:

{قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسٰیo}

(طٰہٰ: ۵۲)

[الانصاف للباقلانی، ص: ۱۶۴.]

’’اس نے کہا: ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔‘‘
۴۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو کچھ ہوا آپ اس کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’میں تو ان کے بارے میں اچھی بات ہی کہوں گا۔‘‘

[مناقب الامام احمد لابن جوزی، ص: ۱۶۴.]

ابراہیم بن آرز فقیہ سے ان کا یہ قول مروی ہے: میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا کہ اس دوران ایک آدمی نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والے امور کے بارے میں دریافت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے اس سے منہ موڑ لیا۔ ان سے کہا گیا: ابو عبداللہ! اس آدمی کا بنو ہاشم سے تعلق ہے۔ تو پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ لو:

{تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَ لَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ}

(البقرۃ: ۱۴۱)

’’یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کا کیا ان کے لیے اور تمہارا کیا تمہارے لیے، اور ان کے کیے کی تم سے پوچھ نہ ہو گی۔‘‘
۵۔ ابن ابی زید قیروانی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مسلمان کے عقیدہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہمیشہ اچھے انداز اور اچھے الفاظ سے ہونا چاہیے، ان کے مشاجرات کے بارے میں لب کشائی نہیں کرنی چاہیے اور ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کے امور کو اچھائی پر محمول کیا جائے۔

ان کا مشہور رسالہ شرح

’’الثمر الدانی‘‘: (۱۵۲) ص: ۲۳.

۶۔ ابو عبداللہ بن بطہ اہل السنہ و الجماعہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمیں مشاجرات صحابہ کے بارے میں لب کشائی سے باز رہنا چاہیے، وہ ہر میدان شہادت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، سب لوگوں سے بڑھ کر فضل و شرف حاصل کیا، اللہ نے خود ان کی مغفرت فرما دی اور تمہیں ان کے لیے مغفرت طلب کرنے اور ان سے محبت کر کے اپنا قرب حاصل کرنے کا حکم دیا اور اسے اپنے نبی مکرم کی زبان مبارک سے تم پر فرض قرار دیا، وہ بخوبی جانتا تھا کہ آگے چل کر ان سے کیا کچھ سرزد ہونا ہے، انہیں کل کائنات پر اس لیے فضیلت دی گئی کہ ان کے عمد و خطا کو معاف کر دیا گیا اور ان کے باہمی مشاجرات کی مغفرت فرما دی گئی۔

صفحہ 2 از 3