حضرت ابوطالب اور صحیح بخاری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت ابوطالب اور صحیح بخاری

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 9 از 12

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد مسیب بن حزن نے کہ جب ابوطالب کے انتقال کا وقت ہو ا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ، اس وقت وہاں ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ( آپ ایک بار زبان سے کلمہ ) لاالہ الا اللہ کہہ دیجئے میں اسی کو ( آپ کی نجات کے لئے وسیلہ بناکر ) اللہ کی بارگاہ میں پیش کرلوںگا ۔ اس پر ابو جہل اور عبد اللہ ابی امیہ کہنے لگے ابوطالب ! کیا آپ عبد المطلب کے دین سے پھر جاؤ گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اب میں آپ کے لئے برابر مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے روک نہ دیا جائے ، تو یہ آیت نازل ہوئی ” نبی اور ایمان والوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے بخشش کی دعا کریں ۔ اگر چہ وہ ( مشرکین ) رشتہ دارہی کیوں نہ ہوں ۔ جب ان پر یہ ظاہر ہو چکے کہ وہ ( یقینا ) اہل دوزخ سے ہیں ۔ “
آیت کا شان نزول بتلایا گیا ہے۔ یہ حکم قیامت تک کے لئے عام ہے۔ 

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
باب: جنت و جہنم کا بیان

6557 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا ( یعنی ابوطالب سے ) اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں ( اس عذاب سے نجات پانے کے لیے ) دے دو گے۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدمی علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے ( توحید کا ) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
باب: جنت و جہنم کا بیان

6561 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو اسحاق سبیعی سے سنا، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہوگا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
صحیح مسلم میں آگ کی دو جوتیاں پہنانے کا ذکر ہے۔ اس سے ابوطالب مراد ہیں۔
تشریح :

ابوطالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ہی معزز چچا ہیں۔ ان کا نام عبدمناف بن عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کے فرزند ہیں۔ ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے مگر قوم کے تعصب کی بنا پر اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کی وفات کے پانچ دن بعد حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا بھی انتقال ہوگیا۔ ان دونوں کی جدائی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد رنج ہوا مگر صبر و استقامت کا دامن آپ نے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غالب فرمایا۔

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
باب: جنت و جہنم کا بیان

6564 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ

ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیاگیا تھا، تو آپ نے فرمایا ممکن ہے قیامت کے دن میری شفاعت ان کے کام آجائے اور انہیں جہنم میں ٹخنوں تک رکھا جائے جس سے ان کا بھیجا کھولتا رہے گا۔
قرآن شریف میں

فما تنفعہم شفاعۃ الشافعین۔

( مدثر: 48 )

( ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کام نہ دے گی ) لیکن آیت میں نفع سے یہ مراد ہے کہ وہ دوزخ سے نکال لیے جائیں، یہ فائدہ کافروں اور مشرکوں کے لیے نہیں ہوسکتا۔ اس صورت میں حدیث اور آیت میں اختلاف نہیں رہے گا مگر دوسری آیت میں جو یہ فرمایا

فلا یخفف عنہم العذاب

( البقرۃ:86 )

صفحہ 9 از 12