Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا بنو امیہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر  اموی بد ترین بادشاہ تھے نعوذ باللہ

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

کیا بنو امیہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر  اموی بد ترین بادشاہ تھے نعوذ باللہ

Jam e Tirmazi Hadees #2226

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ:‌‌‌‏ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ:‌‌‌‏ قَالَ چھرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏    الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ   ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ:‌‌‌‏ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ:‌‌‌‏ وَخِلَافَةَ عُمَرَ، ‌‌‌‌‌‏وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ لِي:‌‌‌‏ أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، ‌‌‌‌‌‏قَالَ سَعِيدٌ:‌‌‌‏ فَقُلْتُ لَهُ:‌‌‌‏ إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‌‌‌‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، ‌‌‌‌‌‏وَعَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَا:‌‌‌‏ لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا، ‌‌‌‌‌‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‌‌‌‌‌‏قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ‌‌‌‌‌‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ.

ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

۱- یہ حدیث حسن ہے

 ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔

 اس روایت کو عذر بنا کر بہت سارے لوگ حضرت امیر معاویہ اور دیگر بنو امیہ پر طعن کرتے ہیں کہ وہ ظالم تھے شریر تھے اس پر ہم تحقیقی بات کریں گے انشاءاللہ اور اللہ نے چاہا تو یہ مسئلہ بھی سمجھ آ جائے گا یہ جو روایت ہے  کے خلافت  تیس تک رہے گا اور اس کے بعد ملوکیت ہو گی اس کو دشمنان امیر معاویہ بہت زیادہ بیان کرتے ہیں ان کا مقصد اس سے صرف اتنا ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ظالم بادشاہ تھے اور کچھ نہیں جیسا کہ ہم ثبوت پر پیش کریں گے کہ ان لوگوں نے اس روایت کو حضرت معاویہ کے ظالم اور برے ہونے پر ہی پیش کیا ہے حالانکہ ان کی خلافت و بادشاہت کو رحمت کہا گیا ہے صحیح حدیث موجود ہے وہ بھی ہم انشاءاللہ پیش کریں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد خلافت کی فضیلت بیان کرنا نہیں ہوتا صرف حضرت معاویہ پر طعن کرنا ہوتا ہے یہ روایت مرزا جہلمی کے پمفلٹ، 5 بی، بھی میں بھی سلسلہ الصحیحہ اور جامعہ ترمذی سے اور وہ ساری کتب کے حوالے سے درج کی گئی ہے۔


35 - كتاب الأوائل
۳۷۰۱۷ - حدثنا الفضل حدثنا حشرج بن نباته قال: حدثني سعيد بن جمهـان قـلـت لسفينة (١) : إن بني أميـة يزعمون أن الخلافة فيهم؟ قال: « كذب بنو الزرقاء، بل هم ملوك من شر الملوك، وأول الملوك: معاوية»./ ١٤/ ١٣٢

اب دیکھنا یہ ھے کہ یہ حدیث کس حد تک صحیح  ہے اس پمفلٹ میں مرزا اور اس کی طرح  بعض رافضی و تفصیلی نے بھی لکھا ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے السلسلہ صحیحہ کے حوالے سے تمام حدیث کو صحیح کہا ہے جب ہم نے علامہ ناصر الدین البانی کی السلسلہ الصحیحہ1/820 کو دیکھا تو اس میں حشرج بن نباتہ عن سعید بن جمہان کے حوالے سے لکھا تھا کے یہ اس روایت کرنے میں منفرد ہے(اکیلا) اور اس کی یہ روایت جس کا آخری حصہ یہ ھے بنو زرقا نیلی آنکھوں والے بنو امیہ شریر ترین بادشاہت ھے کی طرف جو اشارہ تھا یہ الفاظ جو سیدنا سفینہ کی طرف منسوب کیے گئے ہیں وہ ضعیف ہیں اس کو حشرج بن نبات عن سعید بن جمہان سے جو روایت کرتا ھے وہ اس میں تفرد اور زیادت میں اکیلا ہے اس کے علاوہ کسی نے بھی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ نقل نہیں کیے۔

 اسی  حشرج بن نبات کو علامہ ذہبی نے الضعفاء  میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور جامع ترمذی کی آخری عبارت سے جو استدلال کیا جاتا ہے وہ ضعیف ہے اور صرف مرفوع روایت ہی درست ہے جہاں تک خلافت کا شمار کیا گیا ہے، اس سے آگے کا حصہ ضعیف ہے اس لیے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس  کو ضعیف کہا ہے 1/820

اب سوال پیدا ہوتا ہے اگر اس کی روایت کا پچھلا حصہ ضعیف ہے تو پہلا حصہ کیسے صحیح ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے،، جیسا کہ امام ترمذی نے بھی کہا ہے یہ کئی واسطے سے روایت کی گئی ہےاور اس کے متابع بھی ہے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اس کی کہی مطابقت موجود ہیں اس وجہ سے پہلا حصہ درست ہے، یہ ہے اس کا اصل جواب  کہ پہلا حصہ کیوں صحیح ہے۔

اور پچھلا حصہ کیوں ضعیف ہے؟

کیونکہ اس حصہ کو بیان کرنے میں وہ اکیلے ہیں، اسی وجہ سے علامہ ناصر الدین البانی نے بلکہ امام ذہبی اور،، امام ابن حبان نے بھی المجروحین لابن حبان میں 1/277 پر کہا ہے کہ یہ قلیل الحدیث ہے اور منکر ہیں ہے ، جب یہ کسی روایت میں اکیلا ہوں تو اس کی روایت سے استدلال کرنا جائز نہیں نہ ہی دلیل پکڑنا درست ہے۔

اب اس روایت کو جتنی کتب میں درج کیا گیا ہے ان کا اصل ماخذ اسی روایت کا پچھلا حصہ ہے جس سے دلیل پکڑنا ہی سرے سے ناجائز ہے اور غلط ہے۔

 اب جو بھی اس سے استدلال کرے گا غلط اور ناجائز استدلال کرے گا، اس روایت کی حقیقت کا اب پتہ چل گیا آپ کو  کہ علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے  حدیث کے صرف اس حصے کو صحیح کہا ہے جو مرفوع نقل ہے پچھلے والے حصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔

ایک آدمی کی پوسٹ دیکھی جس نے اپنی ٹائم لائن پر اسی روایت کی پوسٹ لگائی ہوئی تھی اوپر اس نے لکھا ہے کہ بنو امیہ( حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر امویوں) کا شمار خلافت میں نہیں ہوتا بلکہ بدترین بادشاہوں میں ہوتا ہے آگے اسی سلسلہ الصحیحۃ کا حوالہ دیا ہے اور نیچے ابو داود الطیالسی کے حوالے سے لکھا ہے حضرت سفینہ سے پوچھا گیا کہ معاویہ تو آپ نے فرمایا کہ وہ تو اسلام کا پہلا بادشاہ ہے، اس پر اس ظالم انسان نے بریکٹ میں لکھا وہ تو بدترین بادشاہ ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں یہ بدترین کس لفظ کا ترجمہ ہے حالانکہ کے بریکٹ میں کوئی چیز جو لکھی  جاتی ہے وہ وضاحت کے لیے ہوتی ہے نہ کہ اپنا گندہ عقیدہ ٹھونسنے  کے لیے ۔

آج کے بعد یہ روایت مخالفین پیش نہیں کر سکیں گے ، اگر کوئی پیش کرے تو اس سے آپ کہیں کہ  اس کا وہ حصہ تو ضعیف روایت کا ہے جو تمہارا استدلال ہے، اسے ثابت کرو صحیح سند سے، اس حصے کو کبھی بھی صحیح ثابت نہیں کر سکیں گے انشاءاللہ

 اب ہم آپ کو  کچھ  احادیث صحیح سند سے پیش کریں گے ، کسی کے باپ میں بھی اتنی جرات نہیں ان کو غلط ثابت کرکے دکھائے ہر راوی کا رجال ساتھ دیا گیا ہے 

سیدنامعاویہ رض کی خلافت رحمت والی تھی

سیدناحذیفہ رض فرماتے ہیں:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا؛

بے شک تم نبوت ورحمت کے زمانہ میں ہو۔اورعنقریب خلافت ورحمت کازمانہ آئے گا۔پھراس کے رحمت بھری خلافت آئے گی۔..

(المجم الاوسط للطبرانی ج6حدیث 6581)

چونکہ سیدنامعاویہ رض کی خلافت رحمت والی ہونے کے باوجود خلافت راشدہ سے کم درجہ کی تھی اسی لئے اس کو الگ سے ذکر فرمایا۔اسی سے علماء سیدنامعاویہ رض کی حکومت کوخلافت عادلہ سے تعبیرفرماتے ہیں۔

احوال الروات:
امام طبرانی بلاتفاق ثقہ امام محمدبن جعفربن اعین:
قال ابن یونس
کان ثقہ(تاریخ ابن یونس ج2ص196)ابوبکربن ابی شیبہ;
نامورثقہ امام۔
الامام العلم سیدالحفاظ صاحب الکتب الکبار
(سیراعلام النبلاء 11/1122)
زیدبن حباب:
کوفی تابعی ثقہ
(تاریخ الثقات للعجلی 1/171)
العلاء بن المنھال:
قال ابوزرعہ
ثقہ
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 6/361)مھند القیسی:
کوفی ثقہ
(تاریخ الثقات للعجلی 1/442)
قیس بن مسلم:
قال ابن معین
ثقہ
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 7/104)
طارق بن شھاب:
ثقہ وقدرای النبی صلی اللہ علیہ وسلم
(تاریخ الثقات للعجلی 1/233)
 سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ صحابی
جلیل القدر صحابی معاویہ رض کی حکومت کیسی تھی

 سیدناعبداللہ بن عباس رض فرماتے ہیں ۔:

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا؛

بےشک اس دین کی ابتدا رحمت بھری نبوت ہے۔پھررحمت والی خلافت ہوگی۔ پھررحمت والی بادشاہت ہوگی۔..

(المعجم الکبیرللطبرانی (جلد11حدیث11138)
قال الہیثمی رواہ الطبرانی ورجالہ الثقات
(مجمع الزوائد5/190)
احوال الروات!
امام طبرانی :
بالاتفاق ثقہ امام
احمد بن النضرالعسکری:
قال الخطیب؛
کان من ثقات الناس
(تاریخ بغداد6/413)
سعید بن حفص النفیلی:
وثقہ ابن حبان
(تاریخ اسلام ذہبی 5/826)
موسی بن اعین :
قال ابوحاتم وابوزرعہ
ثقہ
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 8/138) ابن شھاب الزہری:
ثقہ امام
فطربن خلیفہ :
قال احمد
ثقہ صالح الحدیث
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 7/90) امام مجاہد:
مکی تابعی ثقہ
(تاریخ الثقات للعجلی 1/420)
 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما
جلیل القدرصحابی  عظمت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ  
عن ابن عمر رضی اللہ عنھماقال ما رایت احدا کان اسود من معاویہ بن ابی سفیان قال قلت ولا عمر قال کان عمر خیرا من معاویہ وکان معاویہ رضی اللہ عنہ اسود منہ

ترجمہ:

حضرت ابن عمر رض فرماتے ہیں: میں نے حضرت معاویہ رض سے بڑا سردار کوئی نہیں دیکھا۔

( مکارم الاخلاق للخرائطی ١/حدیث 544)   
(کتاب الاحاد والمثانی 1/516 )
(کتاب السنہ للخلال  2/680 )
(شرح اصول اعتقاد اھل السنہ 8/2781) (معجم کبیر طبرانی 12 /13432)
احوال الروات:
1:ابو بکر الخرائطی :
وکان من الاعیان الثقات
(تاریخ 7/539)
2:ابراھیم بن الجنید:
وثقہ ابو بکر الخطیب
(تاریخ ذہبی 4/267 )
3:ھشیم:
ثقہ وکان یدلس
(العجلی 2/334)
4:اسحاق بن ابراھیم:
قال ابن معین ثقہ
( تاریخ ذہبی 5/792)
5:عوام بن حوشب :
قال احمدثقہ ثقہ
(تاریخ ذہبی 3/947)
6:جبلہ بن سحیم
کوفی تابعی ثقہ
 امیرمعاویہ رضی اللہ کے گستاخ کاعلاج!
ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں:
میں نے حضرت عمربن عبدالعزیزرحمہ اللہ کو کبھی کسی کو مارتے نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جس نے سیدنامعاویہ رضی اللہ کو برابھلا کہا۔آپ نے اس کے تین کوڑے لگائے:
(طبقات ابن سعد5/384)
احوال الروات:
ابن سعد:
بالاتفاق ثقہ امام۔
احمدبن محمدبن ولیدالازرقی المکی:
وثقہ ابوحاتم وغیرہ(تاریخ اسلام للذہبی 5/261)
محمدبن دینار:
قال ابوزرعہ صدوق (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 7/250)
محمدبن مسلم الطائفی:
1:قال ابن معین ثقہ (تاریخ ابن معین بروایت الدارمی 1/197)
2:قال علی ابن المدینی :
کان صالحاوسطا (سوالات ابن ابی شیبہ لابن المدینی 1/136)
3:قال العجلی:
ثقہ (تاریخ الثقات للعجلی رقم 1503 )
4:قال ابوداود:
لیس بہ باس (تہذیب الکمال 26/415)
5:قال ابن عدی:
صالح الحدیث لاباس بہ(الکامل لابن عدی7/296)
6:ذکرہ ابن حبان فی الثقات
(کتاب الثقات7/399)
7:قال یعقوب بن سفیان :
ثقہ لاباس بہ (تہذیب التہذیب 9/445)
8:ذکرہ الذہبی
فی من تکلم فیہ وھوموثق(1/169)
9:قال الحاکم:عن حدیثہ
ھذاحدیث صحیح الاسناد( المستدرک رقم:٣٣١٨)
10:قال ابن عبدالبر:
ثقہ (الاستذکار 8/594)
ابراہیم بن میسرہ:
قال ابن معین :
ثقہ
(تاریخ ابن معین بروایت الدارمی 1/65)
(تاریخ ذہبی 1/265)
اور حدیث سفینہ کو پیش کر رہے ہیں... کہ خلافت تو 30 سال ہے بس. اس پر بھی محدثین نے کلام کیا ہے اس کی حقیقت بھی بیان کروں گا فی الحال
ان کی عقل ٹھکانے لگانے یہ دو حدیث کافی ہے
صحیح بخاری وصحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ میری امت میں 12 خلیفہ ہوں گے، سب قریش سے ہوں گے.
(صحیح بخاری؛ 7222، صحیح مسلم؛ 4709)
جو لوگ 30 سال خلافت والی روایت پیش کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنا چاہتے ہیں اور اس دور کو ظالمانہ قرار دینا چاہتے ہیں، وہ ذرا بتائیں کہ 30 سال تک 4 یا 5 خلفاء ہوئے، باقی 7 یا 8 خلفاء کب اور کیسے ہوں گے؟
عقل کے ڈھکنو، اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ حکومت کریں تو اسے خلافت راشدہ کہتے ہو، کس منہ سے؟ 
حالانکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت قرار دیا ہوا ہے. (المعجم الکبیر للطبرانی؛ 11138، بسند حسن) جو  اوپر گزر چکی ہے
پھر 12 خلفاء والی حدیث بھی مانتے ہو، کس منہ سے؟ 
امام مہدی کی خلافت کے بھی قائل ہو، کس منہ سے؟ 
تم اہل سنت نہیں، رافضی ہو رافضی..نوٹ جس شخص کو میری تحریر کا رد کرنا ہے وہ ترکی بہ ترکی جواب دے تاکہ بات واضح ہو جائے شکریہ۔