کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟
نقیہ کاظمیکیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟
اہل تشیع الزام
حضرت عائشہ نے امام حسن کو روضہء رسول میں دفنانے نہ دیا، اور ان کی لاش پر تیر پھینکے تھے حضرت حسنؓ کا جب وقتِ وصال قریب آیا تو انہوں نے اپنے بھائی امام حسینؓ کو بلایا اور وصیت فرمائی کہ مجھے رسولﷺ کے روضہ مقدسہ میں دفن کیا جائے اور اگر میری اس وصیت پر عمل کرنے میں لوگ رکاوٹ ڈالیں تو پھر جنت البقیع میں دفن کردینا۔اس وصیت کے بعد جب حضرت حسنؓ کا وصال ہوگیا تو بنوامیہ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو کہا کہ حسنؓ کو حضور پاکﷺ کے روضہ مبارک میں دفن نہ کرنے دیا جائے، سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ان کی بات مان لی اور گدھے پر سوار ہو کر آگئیں اور حضرت حسنؓ کے جنازے پر تیر پھینکے۔
اہل تشیع کتاب منتہیٰ الآمال جلد اوّل صفحہ نمبر 274 ،275
اہل تشیع کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ کو چونکہ اہل بیت سے انتہائی دشمنی تھی جس کی بناء پر انہوں نے بنی امیہ کے کہنے پر حضرت حسنؓ کو روضہ رسولﷺ میں دفن کرنے کی اجازت دینے کے بجائے ان کی نعش پر تیر پھینکے۔
جوابِ اہلسنّت
اعتراض اور طعن کرنے والوں ( اہل تشیع) کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ اپنے مقصد کی عبارت ڈھونڈ کر مخالف پر اعتراض دے مارا، نہ اس کے سیاق و سباق کو دیکھا اور نہ واقعات کی صحیح ترجمانی کی، یہی کچھ اس اعتراض اور طعن میں کیا گیا ہےمذکورہ واقعہ کی تفصیل یوں ہے
بنوامیہ کو اس بات کا شدید صدمہ تھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کے شہید کرنے کے بعد ان کی نعش کو تو جنت البقیع میں بھی نہ دفنایا گیا بلکہ باغیوں کی شرارت کی وجہ سے جنت البقیع سے باہر دفن ہوئے، جب سیدنا حسنؓ وصال فرماتے ہیں تو انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ سیدنا حسنؓ کو روضہ رسول میں ہرگز دفن نہ کیا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ بنی امیہ اس وقت برسرِ اقتدار تھے۔ امام حسنؓ کو اس بات کے کچھ اشارات معلوم تھے کہ بنی امیہ مجھے روضہ رسولﷺ میں دفن نہیں ہونے دیں گے اس لیے آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے وہیں دفنایا جائے اور اگر کوئی مزاحمت ہو یا مخالفت ہو تو پھر ضد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، خون خرابا نہ ہونے پائے اور مجھے اپنی والدہؓ کے پہلو میں جنت البقیع کے اندر دفن کردینا۔
واقعات بتلاتے ہیں کہ جب امام حسنؓ کے جسد خاکی کو روضہ رسولﷺ میں دفنانے کی بنی ہاشم تیاری کر رہے تھے تو مروان آیا اور اسی موضوع پر بات چیت میں تلخی پیدا ہوگئی اور معاملہ مار کٹائی تک پہنچتا نظر آیا۔ اس دوران حضرت ابو ہریرہؓ تشریف لائے اور دونوں فریقوں میں جدائی کردی، اسکے بعد حضرت ابو ہریرہؓ نے بنو ہاشم کو فرمایا کہ امام حسنؓ کی وصیت کے دوسرے حصے کے مطابق ان کی والدہ ماجدہؓ کے قریب جنت البقیع میں دفن کردیا جائے۔
آپ نے واقعہ کی حقیقت پڑھی۔
اس میں کہیں سیدہ امی عائشہ صدیقہؓ کے منع کرنے اور روضہ رسولﷺ میں دفنانے سے انکار کرنے کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا بلکہ اس کے برعکس ام المؤمنینؓ نے تو روضہ رسولﷺ میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی مگر بنوامیہ کی مخالفت کی وجہ سے امام حسنؓ روضہ رسولﷺ میں دفن نہ ہوسکے، اس میں حضرت امی عائشہ صدیقہؓ کا کیا قصور تھا، جس پر ان کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے؟
مذکورہ حقیقت پر دونوں فریقین ( سنی، شیعہ) کی کتب سے تحقیقی جائزہ
اہلسنّت کتب کی عبارات
اہلسنت کتاب لکامل فی التاریخ
فاستأذن الحسین عائشہ فاذنت لہ فلما توفی ارادوا دفنہ عند النبیﷺ فلم یعرض الیہم سعید ابن العاص وھو الامیر فقام مروان بن الحکم وجمع بنی امیہ و شیعتہم و منع عنہ ذلک فأراد الحسین الامتناع فقیل لہ ان اخاک قال اذا خفتم الفتنۃ ففی مقابر المسلمین وھذہ فتنۃ فسکت وصل علیہ سعید ابن العاص فقال لہ الحسین لولا انہ سنۃ لما ترکتک تصلی علیہ
ترجمہ :
حضرت حسینؓ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے اجازت طلب کی کہ حضرت حسنؓ کو بعد از وصال روضہ رسولﷺ میں دفنانے دیا جائے، ام المومنینؓ نے اجازت دے دی۔ پھر جب حضرت حسنؓ کا وصال ہو گیا تو احباب نے انہیں حضورﷺ کے پاس دفنانے کا ارادہ کیا۔ حضرت سعید بن العاصؓ نے کوئی اس بارے میں تعرض نہ کیا۔ حالانکہ وہ امیر مدینہ تھے۔ یہ دیکھ کر مروان اٹھا۔ اس کے ساتھ بنی امیہ اور ان کے ساتھیوں کی ایک بہت بڑی جماعت بھی کھڑی ہوگئی۔ ان سب نے مل کر رکاوٹ ڈالی۔ اس کے بعد حضرت حسینؓ نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ لیکن انہیں بتلایا گیا کہ آپ کے بھائی بزرگوار نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ اگر فتنہ فساد کا خطرہ ہو تو جنت البقیع میں دفن کر دینا اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ حالات خطرناک ہورہے ہیں۔ ان حالات میں حضرت حسینؓ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ حضرت حسنؓ کا جنازہ سعید بن عاصؓ نے پڑھایا۔ انہیں حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ اگر طریقہ مسنونہ یہ نہ ہوتا کہ جنازہ کا امام حاکم و امیرِ وقت ہو تو میں آپ کو ان کا جنازہ نہ پڑھانے دیتا۔
الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج 3 ص 460، ذکر وفات حسن ابن علیؓ مطبوعہ بیروت
اہلسنت کتاب البدایہ والنہایہ
فاذنت له میں فاما مات لبس الحسین السلاح وتسلح بنو امیۃ وقالوا لا تدعه یدفن مع رسول اللہﷺ ایدفن عثمان بالبقیع ویدفن الحسن بن علی فی الحجرۃ فلما خاف الناس وقوع الفتنۃ اشار سعد بن ابی وقاص وابو ہریرۃ وجابر وابن عمر علی الحسین الا یقاتل فامتثل ودفن اخاہ قریبا من قبر امه بالبقیع
ترجمہ ؛
حضرت حسنؓ نے اپنے بارے میں روضۂ رسول کے اندر دفنانے کی اجازت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مانگی۔مائی صاحبہ نے اجازت دے دی۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا، حضرت حسینؓ نے ہتھیار پہنے۔ ادھر بنوامیہ بھی مسلح ہوگئے اور کہنے لگے، ہم حضرت حسن کو روضہ رسول میں ہرگز دفن نہیں کرنے دیں گے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ عثمان غنی تو جنت البقیع میں مدفون ہوں اور حسین بن علی حجرہ مبارکہ میں دفنائے جائیں۔ لوگوں نے جب فتنہ فساد کے آثار دیکھے۔ تو حضرت سعید بن ابی وقاص،ابوہریرہ، جابراور عبداللّٰہ بن عمرؓم نے حضرت حسین رضی اللّٰہ کو اشارہ کیا کہ جھگڑا چھوڑو۔ حضرت حسین نے ان حضرات کی بات مان لی۔ ان کے بھائی حضرت حسن کو ان کی والدہ کے قریب جنت البقیع میں دفنایا گیا۔ البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد8، صفحہ 44،سننہ تسع دار بعین مطبوعہ بیرو
اہلسنت کتاب تاریخ الخلفاء
فلما مات اتی الحسین الی ام المومنین عائشۃ رضی اللہ عنھا فقالت نعم وکرامۃ فمنعھم مروان فلبس الحسین ومن معه السلاح حتی ردہ ابو ھریرۃ ثم دفن بالبقیع الی جنب امه رضی اللہ عنھا
ترجمہ: جب حضرت حسنؓ نے وصال فرمایا تو ان کے بھائی حسینؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روضہ رسولؐ میں دفنانے کی اجازت طلب کی۔ ام المومنینؓ نے برغبت و رضا اجازت مرحمت فرمادی۔ مروان نے حضرت حسینؓ کے احباب کو وہاں دفنانے سے منع کیا۔ اس پر حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار اٹھا لیے تاکہ مقابلہ کیا جائے۔لیکن حضرت ابو ہریرہؓ(وغیرہ) نے حضرت حسینؓ کو سمجھایا بجھایا ۔پھر انہیں (حضرت حسنؓ) ان کی والدہ کے قریب جنت البقیع میں دفنایا گیا۔
تاریخ الخلفاء للسیوطی ،ص 194وفات الحسن بن علی۔مطبوعہ مصر
کتب اہل سنت کی عبارات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے
1) ۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت حسینؓ کو برضا و رغبت اس بات کی اجازت دے دی کہ حضرت حسنؓ کو روضہ رسولﷺ میں دفن کر سکتے ہیں بلکہ اس کو مبارک سمجھا
2۔)مروان اور اس کے معاونین نے یہ گوارا نہ کیا کہ عثمان غنیؓ تو جنت البقیع میں مدفون ہوں اور حسن بن علیؓ روضہ رسولؐ میں دفنائے جائیں
3) ۔حضرت حسنؓ کی وصیت میں متبادل یہ وصیت بھی تھی کہ بصورت فتنہ وفساد مجھے اپنی والدہؓ کے ساتھ جنت البقیع میں دفن کر دینا
4) حضرت حسنؓ کی نماز جنازہ حضرت سعید بن العاصؓ نے پڑھائی اور یہ با اجازت حضرت حسینؓ ہوا۔ حضرت حسینؓ نے اسی لیے اس موقع پر کہا چونکہ حاکم وقت ارشاداتِ نبوی کے مطابق نماز کی ادائیگی کا سب سے زیادہ حقدار ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں تمہیں اپنے بھائی کی نماز جنازہ کی امامت نہ کرنے دیتا۔
سیدنا حسنؓ کے جنازے کے متعلق کتب اہل تشیع کی عبارات
اہل تشیع کتاب الاخبار الطوال
ثم قال ادفنونی مع جدیﷺ فان منعتم فالبقیع ثم توفی فمنع مروان ان یدفن مع النبیﷺ فدفن فی البقیع
ترجمہ:
(پھر حضرت حسنؓ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا) مجھے اپنے نانا جان کے پہلو میں دفن کر دینا۔ پھر اگر تمہیں اس وصیت پر عمل کرنے سے روک دیا جائے تو جنت البقیع میں دفن کر دینا
پھر جب آپ (حضرت حسنؓ) انتقال فرما گئے تو مروان نے حضور اکرمﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کر دیا لہذا انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
الاخبار الطوال مصنفہ احمد بن داؤد الدینوری صفحہ 221 موت الحسن بن علی مطبوعہ بیروت
اہل تشیع کتاب روضتہ الصفاء
قولی آنکہ عائشہ بوصیت حسن رضا دادہ اما سعید ابن العاص کہ
والی مدینہ بودو طائفہ از عثمانیہ بمع پیش آمدندصاحب مستقصی گوید کہ درآں زماں حکومت مدینہ بمروان الحکم تعلق میداشت داد نگذاشت کہ امام حسین را پیش رسول خداوند دفن کنند و ابوحنیفہ دینوری نیز در تاریخ خویش ایں حرکتِ ناپسندیدہ رابہ مروان نسبت کردہ است
ترجمہ:
ایک قول کے مطابق عائشہ صدیقہؓ نے حسنؓ کی وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے دی - لیکن مدینہ کے حاکم سعید بن العاصؓ بمعہ بہت سے عثمانیوں کے آگے بڑھے صاحب مقتضی کہتا ہے کہ ان دنوں مدینہ کی حاکمیت مروان بن الحکم کے پاس تھی۔ اس نے یہ اجازت نہ دی کہ امام حسن(رضی اللہ عنہ) کو روضہ رسولﷺ میں دفن کیا جائے۔ اور ابو حنیفہ دینوری نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا کہ یہ ناپسندیدہ حرکت مروان کی تھی۔
روضہ الصفا جلد سوم صفحہ 541 ذکر وفات امام حسن۔ مطبوعہ لکھنئو
اہل تشیع کتاب مقاتل الطالبین
إن الحسن بن علی أرسل إلى عائشة ان تأذن له أن يدفن مع النبی صلى الله عليه وسلم فقالت نعم ماكان بقي إلا موضع قبر واحد فلما سمعت بذلك بنو أمية اشتملوا بالسلاح ھم و بنو ہاشم للقتال وقالت بنو أمية و الله لا يدفن مع النبي صلى الله عليه واله ابدا فبلغ ذلک الحسن فارسل إلى أهلہ اما إذا كان هذا فلا حاجة لي فيه ادفنوني إلى جانب امی فاطمة فدفن إلى جنبِ أمہِ فاطمة عليها السلام.
ترجمہ: حسن بن علیؓ نے حضرت عائشہؓ کے پاس کسی کو بھیجا تاکہ انہیں روضہ رسولﷺ میں دفن کرنے کی اجازت عطا فرمائیں، تو انہوں نے یہ کہ کر اجازت دے دی ، کہ وہاں صرف ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ وہ تم انھیں دے دو۔ جب بنوامیہ کو اس کاعلم ہوا تو انھوں نے بنی ہاشم کے ساتھ دنگا فساد کی ٹھان لی اور ہتھیار اٹھائے۔ بنوامیہ نے کہا۔ خداکی قسم! ہم حسنؓ کو کبھی بھی حضورﷺ کے حجرے میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ جب یہ بات حسنؓ کو پہنچی توانھوں نے ایک آدمی کو اپنے اقارب و احباب کی طرف بھیجا اور کہلا بھیجا۔ اگر معاملہ اس قدر پیچیدہ ہو گیا ہے تو مجھے وہاں نہ دفنائیں بلکہ مجھے اپنی والدہ سیدہ فاطمہؓ کے پہلو میں دفن کر دیں۔ لہذا انھیں ( جنت البقیع) والدہ کے قریب دفن کر دیا گیا۔۔
مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصفھانی صفحہ نمبر 75
قال او الفرج وقد روى الزبير بن بكار أنّ الحسن عليه السلام أرسل إلى عائشة أن تأذن له ان يدفن مع النبي صلى الله عليه الہِ فقالت نعم فلما سمعت بنو أمية بذلك استلامو في السّلاح و تنادوهم وبنو هاشم في القتال فبلغ ذلك الحسن فأرسل إلى بني هاشم أما إذا كان هذا فلا حاجة لي فيه إدفنوني إلى جنب أمى فدفن إلى جنب فاطمة عليها السلام
ترجمہ: ابوالفرج نے کہا کہ زبیر بن بکار نے روایت کی ہے ،کہ امام حسنؑ نے کسی کو حضرت عائشہ کے ہاں بھیجا ، تاکہ وہ اجازت دیں کہ مجھے حضورﷺ کے ساتھ روضہ اقدس میں دفن کیا جائے ۔ تو جنابِ صدیقہؓ نے اجازت دے دی۔ جب بنو امیہ کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے ہتھیار سنبھال لیے۔ ادھر بنی باشم بھی مقابلے کے لیے تیار ہو گئے ۔ اس کا علم جب امام حسنؑ عنہ کو ہوا۔ تو انھوں نے کہلا بھیجا کہ اے بنی ہاشم! اگر معاملہ ایسا بن گیا ہے، تو مجھے میری والدہ کے پہلو میں دفن کر دیا جائے۔ مجھے وہیں منظور ہے ۔ لہذا انھیں ان کی وصیت کے مطابق جنت البقیع میں ان کی والدہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
ابن حدید جلد چہارم صفحہ ١٧ بیروت
قال وقدم الحسين عليه السلام للصلٰوة عليه سعيد بن العاص وهو يومئِذٍ امير المدينة وقال تقدم فلولا انها سنة لما قدمتك.
ترجمہ : راوی کہتا ہے ، کہ جب امام حسینؑ نے سعید بن عاص کو امام حسنؑ کی نماز جنازہ کی امامت کرانے کے لیے آگے کیا ۔ کیونکہ ان دنوں مدینہ کا امیر یہی تھا، تو فرمایا ،چلو بھائی نماز پڑھاؤ۔ اگر رسول اللہﷺ نے یہ سنت قائم نہ کی ہوتی کہ نماز کی امامت امیر شہر کرائے گا تو میں تمھیں آگے نہ کرتا۔
ابن حدید شرح نهج البلاغہ جلد چہارم صفحہ ١٨ بیروت)
الحاصل
اہلسنّت کی کتب سے جو امور ثابت ہوئے بعینہ وہی امور اہل تشیع کی عبارات سے بھی ثابت ہیں۔ ان تمام عبارات میں یہ باتیں مشترکہ طور پر موجود ہیں۔
1۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت حسن ؓ کو روضہ رسول میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی لیکن بنی امیہ نے مروان کی سرکردگی میں اس پر عمل درآمد نہ ہونے دیا۔ دونوں قسم کی کتب میں اس رکاوٹ کو مروان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
2- اہل سنت اور اہل تشیع کی کتب میں سے کسی میں بھی حضرت حسن ؓ کو نہ دفنانے کی نسبت یا اس کا ذمہ دار حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نہیں ٹھہرایا۔ لہٰذا حضرت حسنؓ جو روضہ رسول میں دفنائے نہیں گئے، اس کا بار حضرت ام المومنین سیدہ عائشہؓ پر ڈالنا قطعاً نا انصافی ہے ۔ طعن کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ سیدہ عائشہؓ نے نعشِ حضرت حسنؓ پر تیر مارے تو اس بارے میں ہم معترض کے گھر کی گواہی پیش کر دیتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو۔
قلت وليست في رداية یحییٰ بن الحسین ما يؤخذ على عائشة لانه لم یرو انھا استنفرت الناس لما ركبت البغل و إنما المستنفرون ھم بنو امیہ و يجوز أن تكون عائشة ركبت لتسكين الفتنة لاسيما و قد روى عنها انه لما طلب منها الدفن قالت نعم فهذه الحال و القصة منقبة من مناقب عائشۃ.
ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ یحییٰ بن حسین کی روایت میں قطعاً وہ بات نہیں، جو حضرت عائشہؓ پر بطور الزام لگائی جاتی ہے۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی روایت نہیں ملتی جس میں حضرت عائشہ ؓکے بارے میں یہ آیا ہو کہ انھوں نے لوگوں کو بھگا دیا۔ حالانکہ بھگانے والے درحقیقت بنوامیہ تھے۔ (باقی رہا یہ معاملہ کہ حضرت عائشہؓ خچر پر سوار کیوں ہوئیں ؟ تو اس کا جواب خود شیعہ عالم ابن حدید یہ دیتا ہے)
اور یہ بھی بات درست ہے۔ کہ حضرت عائشہؓ کا خچر پر سوار ہونا صرف فتنہ و فساد کی آگ کے ٹھنڈا کرنے کی خاطر ہوا، خاص کر جب یہ ان سے روایت نظر آتی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت حسنؓ کے دفن کے مطالبہ کو مان لیا تھا ۔ اور روضہ رسول میں جگہ دینے کی حامی بھر لی تھی۔ تو یہ حال اور قصہ بھی حضرت عائشہؓ کے مناقب میں سے ایک منقبت ہے۔۔۔
ابن حدید شرح نهج البلاغہ جلد ۴ص١٨ بیروت)
ابن حدید نے اس مقام پر انصاف سے کام لے کر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ حضرت عائشہ پر یہ طعن کرنا کہ اُنھوں نے نعشِ حسن پر خچر دوڑایا۔ بالکل غلط اور مخض الزام ہے۔ الزام کی بجائے یہ واقعہ تو ان کے فضائل و مناقب بیان کرتا ہے کہ دنیا و آخرت میں سے بہترین جگہ روضہِ رسولﷺ کے اندر خالی جگہ میں حضرت حسنؓ کو دفنانے کی اجازت دے رہی ہیں۔ حالانکہ اگر چاہتیں تو اپنی خاطر انکار بھی کر سکتی تھیں۔ لیکن اُنھوں نے اجازت مرحمت فرما کر دنیا کو دکھا دیا کہ ان کے دل میں عقیدت اور محبت اہل بیت کس قدر موجزن تھی، اگر کسی کے دل میں رائی بھر بھی ایمان ہو تو مذکورہ طعن کو واقعی جھوٹ کا پلندہ ہی سمجھے گا
نوٹ: غیرت مند مسلمانوں اپنی ماں جو رسولﷺ کی محبوب ترین زوجہ ہیں، بیوی ہی شوہر کی عزت ہوتی ہے قرآن نے جن کی پاکی بیان کی، آپ رضی اللہ عنہا کا دفاع اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا، اور اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کا دفاع خود کیا ان پر یہ بدبخت تشیع ٹولہ لعنت کر رہا ہے اور آپ لوگ کبھی ان سے رشتے کر رہے ہیں اپنی بہن، بیٹیاں شیعہ سے بیاہ رہے ہیں، شیعہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، ان سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں کیا یہ قرآن کا انکار نہیں؟ کہ قرآن جن کا دفاع کرے جو قرآن ان کی پاکی بیان کرے اور شیعہ ان پر لعنت کریں جبکہ یہ قرآن کا صریح انکار ہے اور شیعہ کے کافر ہونے والی واضح دلیل ہے اور آپ پھر بھی شیعہ کو گلے لگائیں تو پھر مسلمانوں اپنے انجام کا انتظار کریں،
غیرت مند مسلمانوں کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دفاع کے لیے کتنا اٹھنا چاہئے، اپنی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دشمن اہل تشیع سے مکمّل دوری اختیار کرنی چاہیے ورنہ تم بھی روز محشر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دشمنوں کے ساتھ اٹھوں گے
(فَاعْتَبِـرُوْا يَآ اُولِى الْاَبْصَارِ)
پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو