کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟ -…

کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟ 

اہل تشیع الزام

  حضرت عائشہ نے امام حسن کو روضہء رسول میں دفنانے نہ دیا، اور ان کی لاش پر تیر پھینکے تھے حضرت حسنؓ کا جب وقتِ وصال قریب آیا تو انہوں نے اپنے بھائی امام حسینؓ کو بلایا اور وصیت فرمائی کہ مجھے رسولﷺ کے روضہ مقدسہ میں دفن کیا جائے اور اگر میری اس وصیت پر عمل کرنے میں لوگ رکاوٹ ڈالیں تو پھر جنت البقیع میں دفن کردینا۔
اس وصیت کے بعد جب حضرت حسنؓ کا وصال ہوگیا تو بنوامیہ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو کہا کہ حسنؓ کو حضور پاکﷺ کے روضہ مبارک میں دفن نہ کرنے دیا جائے، سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ان کی بات مان لی اور گدھے پر سوار ہو کر آگئیں اور حضرت حسنؓ کے جنازے پر تیر پھینکے۔
 اہل تشیع کتاب منتہیٰ الآمال جلد اوّل صفحہ نمبر 274 ،275
اہل تشیع کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ کو چونکہ اہل بیت سے انتہائی دشمنی تھی جس کی بناء پر انہوں نے بنی امیہ کے کہنے پر حضرت حسنؓ کو روضہ رسولﷺ میں دفن کرنے کی اجازت دینے کے بجائے ان کی نعش پر تیر پھینکے۔

  جوابِ اہلسنّت 

اعتراض اور طعن کرنے والوں ( اہل تشیع) کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ اپنے مقصد کی عبارت ڈھونڈ کر مخالف پر اعتراض دے مارا، نہ اس کے سیاق و سباق کو دیکھا اور نہ واقعات کی صحیح ترجمانی کی، یہی کچھ اس اعتراض اور طعن میں کیا گیا ہے
مذکورہ واقعہ کی تفصیل یوں ہے
بنوامیہ کو اس بات کا شدید صدمہ تھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کے شہید کرنے کے بعد ان کی نعش کو تو جنت البقیع میں بھی نہ دفنایا گیا بلکہ باغیوں کی شرارت کی وجہ سے جنت البقیع سے باہر دفن ہوئے، جب سیدنا حسنؓ وصال فرماتے ہیں تو انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ سیدنا حسنؓ کو روضہ رسول میں ہرگز دفن نہ کیا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ بنی امیہ اس وقت برسرِ اقتدار تھے۔ امام حسنؓ کو اس بات کے کچھ اشارات معلوم تھے کہ بنی امیہ مجھے روضہ رسولﷺ میں دفن نہیں ہونے دیں گے اس لیے آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے وہیں دفنایا جائے اور اگر کوئی مزاحمت ہو یا مخالفت ہو تو پھر ضد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، خون خرابا نہ ہونے پائے اور مجھے اپنی والدہؓ کے پہلو میں جنت البقیع کے اندر دفن کردینا۔
واقعات بتلاتے ہیں کہ جب امام حسنؓ کے جسد خاکی کو روضہ رسولﷺ میں دفنانے کی بنی ہاشم تیاری کر رہے تھے تو مروان آیا اور اسی موضوع پر بات چیت میں تلخی پیدا ہوگئی اور معاملہ مار کٹائی تک پہنچتا نظر آیا۔ اس دوران حضرت ابو ہریرہؓ تشریف لائے اور دونوں فریقوں میں جدائی کردی، اسکے بعد حضرت ابو ہریرہؓ نے بنو ہاشم کو فرمایا کہ امام حسنؓ کی وصیت کے دوسرے حصے کے مطابق ان کی والدہ ماجدہؓ کے قریب جنت البقیع میں دفن کردیا جائے۔
آپ نے واقعہ کی حقیقت پڑھی۔
اس میں کہیں سیدہ امی عائشہ صدیقہؓ کے منع کرنے اور روضہ رسولﷺ میں دفنانے سے انکار کرنے کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا بلکہ اس کے برعکس ام المؤمنینؓ نے تو روضہ رسولﷺ میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی مگر بنوامیہ کی مخالفت کی وجہ سے امام حسنؓ روضہ رسولﷺ میں دفن نہ ہوسکے، اس میں حضرت امی عائشہ صدیقہؓ کا کیا قصور تھا، جس پر ان کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے؟

  مذکورہ حقیقت پر دونوں فریقین ( سنی، شیعہ) کی کتب سے تحقیقی جائزہ 

 اہلسنّت کتب کی عبارات

 اہلسنت کتاب لکامل فی التاریخ

 فاستأذن الحسین عائشہ فاذنت لہ فلما توفی ارادوا دفنہ عند النبیﷺ فلم یعرض الیہم سعید ابن العاص وھو الامیر فقام مروان بن الحکم وجمع بنی امیہ و شیعتہم و منع عنہ ذلک فأراد الحسین الامتناع فقیل لہ ان اخاک قال اذا خفتم الفتنۃ ففی مقابر المسلمین وھذہ فتنۃ فسکت وصل علیہ سعید ابن العاص فقال لہ الحسین لولا انہ سنۃ لما ترکتک تصلی علیہ 

ترجمہ :
حضرت حسینؓ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے اجازت طلب کی کہ حضرت حسنؓ کو بعد از وصال روضہ رسولﷺ میں دفنانے دیا جائے، ام المومنینؓ نے اجازت دے دی۔ پھر جب حضرت حسنؓ کا وصال ہو گیا تو احباب نے انہیں حضورﷺ کے پاس دفنانے کا ارادہ کیا۔ حضرت سعید بن العاصؓ نے کوئی اس بارے میں تعرض نہ کیا۔ حالانکہ وہ امیر مدینہ تھے۔ یہ دیکھ کر مروان اٹھا۔ اس کے ساتھ بنی امیہ اور ان کے ساتھیوں کی ایک بہت بڑی جماعت بھی کھڑی ہوگئی۔ ان سب نے مل کر رکاوٹ ڈالی۔ اس کے بعد حضرت حسینؓ نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ لیکن انہیں بتلایا گیا کہ آپ کے بھائی بزرگوار نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ اگر فتنہ فساد کا خطرہ ہو تو جنت البقیع میں دفن کر دینا اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ حالات خطرناک ہورہے ہیں۔ ان حالات میں حضرت حسینؓ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ حضرت حسنؓ کا جنازہ سعید بن عاصؓ نے پڑھایا۔ انہیں حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ اگر طریقہ مسنونہ یہ نہ ہوتا کہ جنازہ کا امام حاکم و امیرِ وقت ہو تو میں آپ کو ان کا جنازہ نہ پڑھانے دیتا۔
 الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج 3 ص 460، ذکر وفات حسن ابن علیؓ مطبوعہ بیروت

 اہلسنت کتاب البدایہ والنہایہ

فاذنت له میں فاما مات لبس الحسین السلاح وتسلح بنو امیۃ وقالوا لا تدعه یدفن مع رسول اللہﷺ ایدفن عثمان بالبقیع ویدفن الحسن بن علی فی الحجرۃ فلما خاف الناس وقوع الفتنۃ اشار سعد بن ابی وقاص وابو ہریرۃ وجابر وابن عمر علی الحسین الا یقاتل فامتثل ودفن اخاہ قریبا من قبر امه بالبقیع
صفحہ 1 از 3