کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟ -…

کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3

 ترجمہ ؛
حضرت حسنؓ نے اپنے بارے میں روضۂ رسول کے اندر دفنانے کی اجازت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مانگی۔مائی صاحبہ نے اجازت دے دی۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا، حضرت حسینؓ نے ہتھیار پہنے۔ ادھر بنوامیہ بھی مسلح ہوگئے اور کہنے لگے، ہم حضرت حسن کو روضہ رسول میں ہرگز دفن نہیں کرنے دیں گے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ عثمان غنی تو جنت البقیع میں مدفون ہوں اور حسین بن علی حجرہ مبارکہ میں دفنائے جائیں۔ لوگوں نے جب فتنہ فساد کے آثار دیکھے۔ تو حضرت سعید بن ابی وقاص،ابوہریرہ، جابراور عبداللّٰہ بن عمرؓم نے حضرت حسین رضی اللّٰہ کو اشارہ کیا کہ جھگڑا چھوڑو۔ حضرت حسین نے ان حضرات کی بات مان لی۔ ان کے بھائی حضرت حسن کو ان کی والدہ کے قریب جنت البقیع میں دفنایا گیا۔  البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد8، صفحہ 44،سننہ تسع دار بعین مطبوعہ بیرو

 اہلسنت کتاب تاریخ الخلفاء 
فلما مات اتی الحسین الی ام المومنین عائشۃ رضی اللہ عنھا فقالت نعم وکرامۃ فمنعھم مروان فلبس الحسین ومن معه السلاح حتی ردہ ابو ھریرۃ ثم دفن بالبقیع الی جنب امه رضی اللہ عنھا


ترجمہ: جب حضرت حسنؓ نے وصال فرمایا تو ان کے بھائی حسینؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ ام المومنین  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روضہ رسولؐ میں دفنانے کی اجازت طلب کی۔ ام المومنینؓ نے برغبت و رضا اجازت مرحمت فرمادی۔ مروان نے حضرت حسینؓ کے احباب کو وہاں دفنانے سے منع کیا۔ اس پر حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار اٹھا لیے تاکہ مقابلہ کیا جائے۔لیکن حضرت ابو ہریرہؓ(وغیرہ) نے حضرت حسینؓ کو سمجھایا بجھایا ۔پھر انہیں (حضرت حسنؓ) ان کی والدہ کے قریب جنت البقیع میں دفنایا گیا۔
تاریخ الخلفاء للسیوطی ،ص 194وفات الحسن بن علی۔مطبوعہ مصر

   کتب اہل سنت کی عبارات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے
1) ۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت حسینؓ کو برضا و رغبت اس بات کی اجازت دے دی کہ حضرت حسنؓ کو روضہ رسولﷺ میں دفن کر سکتے ہیں بلکہ اس کو مبارک سمجھا
2۔)مروان اور اس کے معاونین نے یہ گوارا نہ کیا کہ عثمان غنیؓ تو جنت البقیع میں مدفون ہوں اور حسن بن علیؓ روضہ رسولؐ میں دفنائے جائیں
3) ۔حضرت حسنؓ کی وصیت میں متبادل یہ وصیت بھی تھی کہ بصورت فتنہ وفساد مجھے اپنی والدہؓ کے ساتھ جنت البقیع میں دفن کر دینا
4) حضرت حسنؓ کی نماز جنازہ حضرت سعید بن العاصؓ نے پڑھائی اور یہ با اجازت حضرت حسینؓ ہوا۔ حضرت حسینؓ نے اسی لیے اس موقع پر کہا چونکہ حاکم وقت ارشاداتِ نبوی کے مطابق نماز کی ادائیگی کا سب سے زیادہ حقدار ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں تمہیں اپنے بھائی کی نماز جنازہ کی امامت نہ کرنے دیتا۔

 سیدنا حسنؓ کے جنازے کے متعلق کتب اہل تشیع کی عبارات 

 اہل تشیع کتاب الاخبار الطوال 

ثم قال ادفنونی مع جدیﷺ فان منعتم فالبقیع ثم توفی فمنع مروان ان یدفن مع النبیﷺ فدفن فی البقیع

 ترجمہ:
(پھر حضرت حسنؓ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا) مجھے اپنے نانا جان کے پہلو میں دفن کر دینا۔ پھر اگر تمہیں اس وصیت پر عمل کرنے سے روک دیا جائے تو جنت البقیع میں دفن کر دینا
پھر جب آپ (حضرت حسنؓ) انتقال فرما گئے تو مروان نے حضور اکرمﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کر دیا لہذا انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
 الاخبار الطوال مصنفہ احمد بن داؤد الدینوری صفحہ 221 موت الحسن بن علی مطبوعہ بیروت

 اہل تشیع کتاب روضتہ الصفاء 

قولی آنکہ عائشہ بوصیت حسن رضا دادہ اما سعید ابن العاص کہ
والی مدینہ بودو طائفہ از عثمانیہ بمع پیش آمدندصاحب مستقصی گوید کہ درآں زماں حکومت مدینہ بمروان الحکم تعلق میداشت داد نگذاشت کہ امام حسین را پیش رسول خداوند دفن کنند و ابوحنیفہ دینوری نیز در تاریخ خویش ایں حرکتِ ناپسندیدہ رابہ مروان نسبت کردہ است

ترجمہ:
ایک قول کے مطابق عائشہ صدیقہؓ نے حسنؓ کی وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے دی - لیکن مدینہ کے حاکم سعید بن العاصؓ بمعہ بہت سے عثمانیوں کے آگے بڑھے صاحب مقتضی کہتا ہے کہ ان دنوں مدینہ کی حاکمیت مروان بن الحکم کے پاس تھی۔ اس نے یہ اجازت نہ دی کہ امام حسن(رضی اللہ عنہ) کو روضہ رسولﷺ میں دفن کیا جائے۔ اور ابو حنیفہ دینوری نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا کہ یہ ناپسندیدہ حرکت مروان کی تھی۔ 
 روضہ الصفا جلد سوم صفحہ 541 ذکر وفات امام حسن۔ مطبوعہ لکھنئو

اہل تشیع کتاب مقاتل الطالبین 

إن الحسن بن علی أرسل إلى عائشة ان تأذن له أن يدفن مع النبی صلى الله عليه وسلم فقالت نعم ماكان بقي إلا موضع قبر واحد فلما سمعت بذلك بنو أمية اشتملوا بالسلاح ھم و بنو ہاشم للقتال وقالت بنو أمية و الله لا يدفن مع النبي صلى الله عليه واله ابدا فبلغ ذلک الحسن فارسل إلى أهلہ اما إذا كان هذا فلا حاجة لي فيه ادفنوني إلى جانب امی فاطمة فدفن إلى جنبِ أمہِ فاطمة عليها السلام.

ترجمہ:  حسن بن علیؓ نے حضرت عائشہؓ کے پاس کسی کو بھیجا تاکہ انہیں روضہ رسولﷺ میں دفن کرنے کی اجازت عطا فرمائیں، تو انہوں نے یہ کہ کر اجازت دے دی ، کہ وہاں صرف ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ وہ تم انھیں دے دو۔ جب بنوامیہ کو اس کاعلم ہوا تو انھوں نے بنی ہاشم کے ساتھ دنگا فساد کی ٹھان لی اور ہتھیار اٹھائے۔ بنوامیہ نے کہا۔ خداکی قسم! ہم حسنؓ کو کبھی بھی حضورﷺ کے حجرے میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ جب یہ بات  حسنؓ کو پہنچی توانھوں نے ایک آدمی کو اپنے اقارب و احباب کی طرف بھیجا اور کہلا بھیجا۔ اگر معاملہ اس قدر پیچیدہ ہو گیا ہے تو مجھے وہاں نہ دفنائیں بلکہ مجھے اپنی والدہ سیدہ فاطمہؓ کے پہلو میں دفن کر دیں۔ لہذا انھیں ( جنت البقیع) والدہ کے قریب دفن کر دیا گیا۔۔
 مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصفھانی صفحہ نمبر 75 

قال او الفرج وقد روى الزبير بن بكار أنّ الحسن عليه السلام أرسل إلى عائشة أن تأذن له ان يدفن مع النبي صلى الله عليه الہِ فقالت نعم فلما سمعت بنو أمية بذلك استلامو في السّلاح و تنادوهم وبنو هاشم في القتال فبلغ ذلك الحسن فأرسل إلى بني هاشم أما إذا كان هذا فلا حاجة لي فيه إدفنوني إلى جنب أمى فدفن إلى جنب فاطمة عليها السلام 
صفحہ 2 از 3