کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟ -…

کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر تیر چلائے گئے؟؟

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: ابوالفرج نے کہا کہ زبیر بن بکار نے روایت کی ہے ،کہ امام حسنؑ نے کسی کو حضرت عائشہ کے ہاں بھیجا ، تاکہ وہ اجازت دیں کہ مجھے حضورﷺ کے ساتھ روضہ اقدس میں دفن کیا جائے ۔ تو جنابِ صدیقہؓ نے اجازت دے دی۔ جب بنو امیہ کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے ہتھیار سنبھال لیے۔ ادھر بنی باشم بھی مقابلے کے لیے تیار ہو گئے ۔ اس کا علم جب امام حسنؑ عنہ کو ہوا۔ تو انھوں نے کہلا بھیجا کہ اے بنی ہاشم! اگر معاملہ ایسا بن گیا ہے، تو مجھے میری والدہ کے پہلو میں دفن کر دیا جائے۔ مجھے وہیں منظور ہے ۔ لہذا انھیں ان کی وصیت کے مطابق جنت البقیع میں ان کی والدہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
 ابن حدید جلد چہارم صفحہ ١٧ بیروت

قال وقدم الحسين عليه السلام للصلٰوة عليه سعيد بن العاص وهو يومئِذٍ امير المدينة وقال تقدم فلولا انها سنة لما قدمتك.

ترجمہ : راوی کہتا ہے ، کہ جب امام حسینؑ نے سعید بن عاص کو امام حسنؑ کی نماز جنازہ کی امامت کرانے کے لیے آگے کیا ۔ کیونکہ ان دنوں مدینہ کا امیر یہی تھا، تو فرمایا ،چلو بھائی نماز پڑھاؤ۔ اگر رسول اللہﷺ نے یہ سنت قائم نہ کی ہوتی کہ نماز کی امامت امیر شہر کرائے گا تو میں تمھیں آگے نہ کرتا۔
  ابن حدید شرح نهج البلاغہ جلد چہارم صفحہ ١٨  بیروت) 

الحاصل
اہلسنّت کی کتب سے جو امور ثابت ہوئے بعینہ وہی امور اہل تشیع کی عبارات سے بھی ثابت ہیں۔ ان تمام عبارات میں یہ باتیں مشترکہ طور پر موجود ہیں۔
1۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت حسن ؓ کو روضہ رسول میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی لیکن بنی امیہ نے مروان کی سرکردگی میں اس پر عمل درآمد نہ ہونے دیا۔ دونوں قسم کی کتب میں اس رکاوٹ کو مروان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
 2- اہل سنت اور اہل تشیع کی کتب میں سے کسی میں بھی حضرت حسن ؓ کو نہ دفنانے کی نسبت یا اس کا ذمہ دار حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نہیں ٹھہرایا۔ لہٰذا حضرت حسنؓ جو روضہ رسول میں دفنائے نہیں گئے، اس کا بار حضرت ام المومنین سیدہ عائشہؓ پر ڈالنا قطعاً نا انصافی ہے ۔ طعن کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ سیدہ عائشہؓ نے نعشِ حضرت حسنؓ پر تیر مارے تو اس بارے میں ہم معترض کے گھر کی گواہی پیش کر دیتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو۔

قلت وليست في رداية یحییٰ بن الحسین ما يؤخذ على عائشة لانه لم یرو انھا استنفرت الناس لما ركبت البغل و إنما المستنفرون ھم بنو امیہ و يجوز أن تكون عائشة ركبت لتسكين الفتنة لاسيما و قد روى عنها انه لما طلب منها الدفن قالت نعم فهذه الحال و القصة منقبة من مناقب عائشۃ.

ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ یحییٰ بن حسین کی روایت میں قطعاً وہ بات نہیں، جو حضرت عائشہؓ پر بطور الزام لگائی جاتی ہے۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی روایت نہیں ملتی جس میں حضرت عائشہ ؓکے بارے میں یہ آیا ہو کہ انھوں نے لوگوں کو بھگا دیا۔ حالانکہ بھگانے والے درحقیقت بنوامیہ تھے۔ (باقی رہا یہ معاملہ کہ حضرت عائشہؓ خچر پر سوار کیوں ہوئیں ؟ تو اس کا جواب خود شیعہ عالم ابن حدید یہ دیتا ہے)
اور یہ بھی بات درست ہے۔ کہ حضرت عائشہؓ کا خچر پر سوار ہونا صرف فتنہ و فساد کی آگ کے ٹھنڈا کرنے کی خاطر ہوا، خاص کر جب یہ ان سے روایت نظر آتی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت حسنؓ کے دفن کے مطالبہ کو مان لیا تھا ۔ اور روضہ رسول میں جگہ دینے کی حامی بھر لی تھی۔ تو یہ حال اور قصہ بھی حضرت عائشہؓ کے مناقب میں سے ایک منقبت ہے۔۔۔
 ابن حدید شرح نهج البلاغہ جلد ۴ص١٨ بیروت) 

 ابن حدید نے اس مقام پر انصاف سے کام لے کر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ حضرت عائشہ پر یہ طعن کرنا کہ اُنھوں نے نعشِ حسن پر خچر دوڑایا۔ بالکل غلط اور مخض الزام ہے۔ الزام کی بجائے یہ واقعہ تو ان کے فضائل و مناقب بیان کرتا ہے کہ دنیا و آخرت میں سے بہترین جگہ روضہِ رسولﷺ کے اندر خالی جگہ میں حضرت حسنؓ کو دفنانے کی اجازت دے رہی ہیں۔ حالانکہ اگر چاہتیں تو اپنی خاطر انکار بھی کر سکتی تھیں۔ لیکن اُنھوں نے اجازت مرحمت فرما کر دنیا کو دکھا دیا کہ ان کے دل میں عقیدت اور محبت اہل بیت کس قدر موجزن تھی، اگر کسی کے دل میں رائی بھر بھی ایمان ہو تو مذکورہ طعن کو واقعی جھوٹ کا پلندہ ہی سمجھے گا

نوٹ: غیرت مند مسلمانوں اپنی ماں جو رسولﷺ کی محبوب ترین زوجہ ہیں، بیوی ہی شوہر کی عزت ہوتی ہے قرآن نے جن کی پاکی بیان کی، آپ رضی اللہ عنہا کا دفاع اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا، اور اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کا دفاع خود کیا ان پر یہ بدبخت تشیع ٹولہ لعنت کر رہا ہے اور آپ لوگ کبھی ان سے رشتے کر رہے ہیں اپنی بہن،  بیٹیاں شیعہ سے بیاہ رہے ہیں،  شیعہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں،  ان سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں کیا یہ قرآن کا انکار نہیں؟ کہ قرآن جن کا دفاع کرے جو قرآن ان کی پاکی بیان کرے اور شیعہ ان پر لعنت کریں جبکہ یہ قرآن کا صریح انکار ہے اور شیعہ کے کافر ہونے والی واضح دلیل ہے اور آپ پھر بھی شیعہ کو گلے لگائیں تو پھر مسلمانوں اپنے انجام کا انتظار کریں، 
غیرت مند مسلمانوں کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دفاع کے لیے کتنا اٹھنا چاہئے، اپنی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دشمن اہل تشیع سے مکمّل دوری اختیار کرنی چاہیے ورنہ تم بھی روز محشر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دشمنوں کے ساتھ اٹھوں گے 

(فَاعْتَبِـرُوْا يَآ اُولِى الْاَبْصَارِ)

پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو


صفحہ 3 از 3