حضرت امیر معاویہ کی وفات کی وجہ ان کے جسم میں پھوڑا (دبیلہ) ہوجانا تھا!
دبیلہ کا معنی:
الدبيلة سراج من نار أي دمل يظهر في أكتافهم وفيه حمرة وحرارة كأنها سراج وشعلة من نار
ترجمہ:
دبیلہ آگ کا سراج ہے یعنی ایک بڑا پھوڑا ہے جو کندھے(سینے پیٹھ وغیرہ)پے نکلتا ہے اس میں سرخ پیپ اور حرارت ہوتی ہے گویا کہ آگ کا سراج و شعلہ ہو
[الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم ,25/357]
الدُّبَيلة هِيَ خُرَاج ودُمَّل كَبِيرٌ
دبیلہ بڑے پھوڑے پھنسیوں کو کہتے ہیں
[لسان العرب ,11/235].
دبیلہ کیوجہ سے مسلمان وفات پا جائےتو #شہید ہے:
وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ
ذات الجنب(پھوڑے پھنسیاں پسلیوں وغیرہ کی بیماری) سے جس مسلمان کی وفات ہو وہ شہید ہے
[سنن أبي داود ,3/188حدیث3111].
وَالْمَجْنُوبُ، – يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ – شَهَادَةٌ
مجنوب یعنی ذات الجنب(پھوڑے پھنسیاں پسلیوں وغیرہ کی بیماری) سے جس مسلمان کی وفات ہو تو وہ شہادت کی موت ہے
[سنن ابن ماجه ,2/937حدیث2803].
وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ
ذات الجنب(پھوڑے پھنسیاں پسلیوں وغیرہ کی بیماری)سے جس مسلمان کی وفات ہو وہ شہید ہے
[صحيح ابن حبان – مخرجا ,7/461حدیث3189].
ذات الجنب مطلق ہے جس کا معنی وسیع ہے یعنی پسلی سینے پیٹھ کی دبیلہ وغیرہ کوئی بھی بیماری…….!!
ذو الجنب الذي يشتكي جنبه لسبب الدبيلة ونحوها
ترجمہ:
ذات الجنب ایسا مرض کہ انسان کی پسلیوں(سینے پیٹھ وغیرہ) میں پھوڑے وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے
[فيض القدير ,4/178].
ذاتُ الجَنْب شَهادةٌ..وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ:ذُو الجَنْبِ شَهِيدٌ
هُوَ الدُّبَيْلةُ والدُّمَّل الْكَبِيرَةُ، وقَلَّما يَسْلَمُ صاحِبُها. وذُو الجَنْبِ: الَّذِي يَشْتَكي جَنْبَه بِسَبَبِ الدُّبيلة
ذات الجنب شہادت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ ذات الجنب سے جس مسلمان کی وفات ہو وہ شہید ہے…ذات الجنب کو دبیلہ کہتے ہیں یعنی جان لیوا بڑا پھوڑا کہ جس کو لگ جائے اس کا بچنا بہت کم ہی ہوتا ہے..ذو الجنب اس کو کہتے ہیں کہ جسکو دبیلہ پھوڑے کی وجہ سے بیماری و درد ہو
[لسان العرب ,1/281].
ذَات الْجنب وَهِي قرحَة تثقب الْبَطن وَتسَمَّى الدُّبَيْلَة
ترجمہ:
ذات الجنب سے مراد دبیلہ پھوڑا ہے کہ جو اندر کو کھا جاتا ہے
[غريب الحديث لابن الجوزي ,1/176].
وذات الجنب الدبيلة والدمل الكبيرة…وقلما يسلم صاحبها،
اور ذات الجنب سے مراد دبیلہ یعنی بڑا پھوڑا مراد ہے، جس کو یہ پھوڑا ہوتا ہے وہ کم ہی بچتا ہے
[مجمع بحار الأنوار ,1/397بحذف یسیر].
وَصَاحب ذَات الْجنب) الَّذِي يشتكى جنبه بِسَبَب الدُّبَيْلَة وَنَحْوهَا (شَهِيد
اور ذات الجنب سے مراد یہ ہے کہ دبیلہ پھوڑے وغیرہ کی وجہ سے پسلیوں(سینے پیٹھ وغیرہ)میں بیماری و درد ہو..اسی مین وفات ہو تو شہید ہے
[التيسير بشرح الجامع الصغير ,2/84].
ذَاتِ الجَنْبِ هِيَ الدُّبَيْلَةُ وَهِي قَرْحَةٌ تَنْقُبُ البَطْنَ، وإِنما كَنَوْا عَنْهَا فَقَالُوا: ذَات الجَنْبِ، وَفِي الحَدِيث (المَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ) وَيُقَال أَراد بِهِ: الَّذِي يَشتَكي جَنْبَه مُطلقًا. وَفِي حَدِيث الشُّهَدَاءِ. (ذَاتُ الجَنْبِ شَهَادَةٌ) وَفِي حديثٍ آخَرَ (ذُو الجَنْبِ شَهِيدٌ) هُوَ الدُّبَيْلَةُ والدُّمَّلُ
ترجمہ:
ذات الجنب سے مراد دبیلہ و قرحہ ہے یعنی ایسا پھوڑا جو بطن کو(پھیل کر)کھا جاتا ہے اسی پھوڑے کو کنایتا ذات الجنب کہتے ہیں، اور حدیث میں ہے کہ مجنوب اللہ کی راہ میں شہید ہے اور کہتے ہیں کہ اس مطلقا پسلی (پیٹھ سینہ وغیرہ) کا درد و بیماری مراد ہے….شہداء والی حدیث میں ہے کہ ذات الجنب شہادت ہے دوسری حدیث مین ہے کہ ذات الجنب میں وفات پانے والا شہید ہے تو ذات الجنب ذو الجنب سے مراد دبیلہ یعنی بڑا پھوڑا مراد ہے
[تاج العروس ,2/192]..
ذَاتُ الجَنْب: هِيَ الدُّبَيْلَة والدُّمّل الكَبِيرة
ذات الجنب سے مراد دبیلہ یعنی بڑے پھوڑی کی بیماری مراد ہے
[النهاية في غريب الحديث والأثر ,1/303].
سیدنا_معاویہ کو پھوڑا تھا،اسی میں وفات ہوئی:
[حسن صحيح] وعن أبي بُردة قال:كنتُ عند معاوَيةَ، وطبيبٌ يعالِجُ قُرْحةً في ظَهْرِه….سمِعْتُ رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يقول:”ما مِنْ مُسْلمٍ يُصيبُه أذَىً مِنْ جَسَدِه؛ إلا كانَ كَفَّارةً لِخَطاياهُ”.
ترجمہ:
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس تھا اور ایک معالج ان کا علاج کر رہا تھا اس پھوڑے کا جو ان کی پیٹھ میں تھا۔۔۔۔سیدنا معاویہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کو اس کے جسم میں تکلیف پہنچے تو وہ اس کے لئے اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے
[صحيح الترغيب والترهيب ,3/333بحذف یسیر].
: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَبِهِ قُرْحَتُهُ الَّتِي مَاتَ فِيهَا
میں سیدنا معاویہ کے پاس گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک جان لیوا بڑا پھوڑا تھا جس میں ان کی وفات ہوئی
[الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم ,1/380]
Ñ842 – حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْواَدِعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَبِظَهْرِهِ قَرْحَةٌ….قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى فِي جَسَدِهِ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِخَطَايَاهُ» ، وَهَذَا أَشَدُّ الْأَذَى
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس گیا انکی پیتھ پے بڑا پھوڑا تھا۔۔۔۔سیدنا معاویہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کو اس کے جسم میں تکلیف پہنچے تو وہ اس کے لئے اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے…اور یہ پھوڑا شدید تکلیف دہ ہے
[المعجم الكبير للطبراني ,19/359 روایت842بحذف یسیر].
الحاصل:
دبیلہ پھوڑے پھنسیوں کی بیماری کے متعلق دو قسم کی احادیث ہیں۔۔۔۔کچھ میں منافقین کی نشانی کہا گیا ہے تو کچھ احادیث میں اسے شہادت کی موت قرار دیا گیا ہے۔۔۔احادیث میں بظاہر تضاد ہو تو اس کو حقیقتا تضاد پر محمول نہیں کرتے بلکہ احادیث میں تطبیق دیتے ہیں کہ جس سے دونوں احادیث کا معنی صحیح صحیح بیٹھ جائے۔۔۔لہذا کہنا پڑے گا کہ منافقت اعتقادی کی دیگر نشانیوں میں سے کوئی نشانی پائی جائے اور یہ بڑا پھوڑا بھی پایا جائے تو اسے منافق کہا جائے گا
اور اگر مسلمان کہ جس میں منافقت اعتقادی کی کوئی نشانی نہ پائی جائے اس میں اگر یہ دبیلہ یعنی پھوڑا پھنسی کی بیماری ہو جائے اور اس میں وفات ہو جائے تو شہادت کی موت ہے۔۔۔..
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ میں منافقت کی کوئی نشانی ثابت نہیں لہذا ان کا پھوڑا منافقت کی نشانی ہی نہیں۔ بلکہ یہ تو شہادت کی نشانی ہے، لھذا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منافق نہیں بلکہ شہید ہیں…….!!