حضرت عمرؓ نے خالد بن ولیدؓ کو دشمن خدا کہا کہ تو نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔(اسدالغابہ)
زینب بخاریحضرت عمرؓ نے خالد بن ولیدؓ کو دشمن خدا کہا کہ تو نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔(اسدالغابہ)
(الجواب اہلسنت)
کسی سخت غلطی کو دیکھ کر تنبیہ کیلئے اس طرح کے سخت جملے کہنا کوئی الزام کی بات نہیں۔ عام طور پر استاد شاگردوں کو بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو اور ماں باپ اولاد کو اس طرح کے سخت جملے اصلاح احوال کیلئے کہتے رہتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا خالد بن ولیدؓ کو ایسے حال میں سخت جملہ کہنا جبکہ شبہ پیدا ہو چکا ہے کہ مالک بن نویرہ مسلمان تھا جسے قتل کیا گیا ۔ تو یہ کون سی الزام کی بات ہے البتہ بعد کے احوال سے یہ معلوم ہو گیا کہ مالک بن نویرہ وہی بد بخت انسان ہے جس نے وفات رسول مقبول ﷺ کے موقعہ پر گھر میں چراغاں کیا، خوشی و کھیل کود اور وظیفہ شادی ادا کیا اور مسلمانوں پر طرح طرح کی آوازیں کستا تھا، جس کی بنا پر خالدؓ نے اسے قتل کر دیا تھا۔ جب ان احوال کا علم ہوا تو حضرت فاروق اعظمؓ مطمئن ہو گئے مگر ابتداء میں یہ شبہ ضرور تھا کہ شاید وہ مسلمان ہو اس پر حضرت عمرؓ نے یہ سخت الفاظ استعمال کیے، ان الفاظ کے استعمال سے ان نفوس قدسیہ کا ان کے بارے میں سختی کر نا اہل ایمان کی جان کا تحفظ اور حدود اللہ کی حفاظت کیلئے ہر وقت مستعد رہنا معلوم ہوتا ہے نہ کہ باہمی عداوت جیسا کہ شیعہ تاثر دینا چاہتا ہے۔
*(مزید تلاش کر کے پڑھیں
سجاح اور مالک بن نویرہ (ایک تحقیق)
مالک بن نویرہ: اصل حقائق