مالک بن نویرہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مالک بن نویرہ کی حقیقت

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

کیا اہلسنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روساء مہاجرین اور السابقین سے مراد صرف  حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ ،حضرت جعفر بن طیارؓ،  اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ ہیں؟ یہ تو اہلسنت کا عقیدہ نہیں۔ پس شیعہ کو ماننا پڑے گا کہ  شیخ مفید اپنا ہی عقیدہ بیان کر رہے ہیں۔ اس کے لئے اہلسنت کے نظریات کا سہارا نہیں لے رہے، بلکہ اپنا موقف دلائل کی روشنی میں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ اہل تشیع کا عجیب وطیرہ ہے کہ جہاں اپنے امام یا عالم کا قول اپنے خلاف دیکھ لیتے ہیں تو اس کی عجیب و غریب تاویلیں کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ تقیہ کے طور پر تھا، کبھی کہتے ہیں کہ یہ الزامی جواب تھا۔ اور اس کے لئے دلیل ان کے پاس کوئی ہوتی نہیں، بس خیالی پلاؤ کا سہارا لیتے ہیں۔

اسی وجہ سے مشہور شیعہ عالم علی الکورانی نے شیخ مفید کی یہ عبارت نقل کرتے ہوئے مالک بن نویرہ کے ارتداد کے متعلق قول کو حذف کر کے تین نکتے (۔۔۔) لگا دیئے، لیکن یہ پردہ پوشی زیادہ دیر قائم نہ رہی اور اہل سنت نے موصوف کی ناکام کوشش کا پردہ چاک کر دیا۔

شیعہ کتابوں سے مسئلہ اس لئے حل نہیں ہوسکتا کہ شیعہ کتب میں مالک بن نویرہ مجہول الحال شخص ہے۔ اور اس کے متعلق کسی ایک صحیح شیعہ روایت کا ملنا محال ہے۔

*شیعہ کتب میں مالک بن نویرہ کی جھوٹی توثیق*

اہل تشیع کہتے ہیں کہ مالک بن نویرہ مجہول الحال نہیں ہے ، شیعہ کتاب منتہی المقال فی احوال الرجال ج 5 ص 277 میں رقم 2384 پر مالک بن نویرہ کے حالات میں لکھا ہے کہ : ۔

"مالک بن نویرہ ، علی ع سے اختصاص رکھتا تھا، اور اس نے خلیفہ اول کی بیعت نہیں کی اور خالد نے اس کے قتل کا حکم دیا اور اسی رات اس کی بیوی سے جماع کیا۔  اسی کتاب میں مجالس المومنین کے حوالے سے لکھا ہے کہ : جب مالک بن نویرہ رسول اللہ ص سے  ایمان کامل کی تعلیم لے چکا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو اہل جنت کو دیکھنا چاہے وہ اس کو دیکھے ۔''

کیا چودہ سو سال تک شیعہ معتبر علماء جنہوں نے بہت ساری اسماءالرجال کتب تصنیف کی ہیں ، ان کو مالک بن نویرہ کا معلوم ہی نہیں تھا؟

*ملاحظہ فرمائیں*

⬅️تنقیح المقال دور جدید کی کتاب ہے۔

⬅️مجالس المؤمنین کے حوالے سے جو روایت نقل کی گئی ہے، اس کی کوئی سند ہی نہیں ہے۔

⬅️جب اس روایت کی سند ہی نہیں تو وہ صحیح کیسے ہو گئی؟

*شیعہ کی طرف سے مالک بن نویرہ کی ایک اور جھوٹی توثیق*

⬅️مستدرکات علم رجال الحدیث بھی دور جدید کی کتاب ہے۔

⬅️ کیا دور جدید کے شیعہ علماء کو الہام ہوگیا تھا کہ مالک بن نویرہ صحابی رسول ہیں!!! اس سے پہلے کے شیعہ علماء نے اس بات کا ذکر کیوں نہیں کیا۔۔؟

♦️دوسری بات یہ ہے کہ شیعہ کے متقدمین نے رجال پر کئی کتابیں لکھیں۔ کسی میں بھی مالک بن نویرہ کی توثیق موجود نہیں۔ شیعہ رجال کی ایسی کتب سے مالک بن نویرہ کی توثیق دکھاتے ہیں جن کو لکھے ہوئے دو سو سال بھی نہیں گزرے۔  لگتا ہے کہ شیعہ علماء کو کافی عرصہ بعد کسی نامعلوم ذریعہ سے مالک بن نویرہ کا پتہ چلا ہے۔


صفحہ 2 از 2