Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو تحفہ نبویﷺ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطابؓ اور ان کے بیٹے کو تحفہ نبویﷺ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو ریشم کا ایک جوڑا پہنے دیکھا، آپؓ اس جوڑے کو لے کر نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ اسے خرید لیں اور وفود کے استقبال کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

إِنَّمَا یَلْبَسُ ہٰذہِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہٗ فِی الْآخِرَۃ ِ

ترجمہ: ’’ریشم کا کپڑا وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں …‘‘ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد، آپﷺ نے آپؓ کے پاس ایک جوڑا ہدیہ بھیجا، آپؓ اسے لے کر نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپﷺ نے مجھے یہ جوڑا بھیجا ہے، حالانکہ آپﷺ نے اس جیسے جوڑے، یا تمیمی کے جوڑے کے بارے میں دوسری بات کہی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ سے (بیچ کر) مال کما لو۔ آپؓ نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا اور اسلام نہیں لایا تھا۔

(مسند احمد: حدیث، 281 اس کی سند صحیح ہے، اور شیخین کی شرط پر ہے۔)

ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کو تحفہ نبویﷺ پیش کیے جانے کی تفصیل یہ ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایک جوان اور اڑیل اونٹ پر سوار تھا، وہ میرے اشارے کو نہ مانتا اور قوم سے آگے بڑھ جاتا، سیدنا عمرؓ اسے ڈانٹتے اور پیچھے کر دیتے۔ نبیﷺ نے سیدنا عمرؓ سے فرمایا: ’’بعنیہ‘‘ اسے مجھے فروخت کر دو۔ آپؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپﷺ کا ہے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا اسے مجھے فروخت کر دو۔ چنانچہ آپؓ نے اسے رسول اللہﷺ کو فروخت کر دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرؓ! یہ تمہارے لیے ہے جس طرح چاہو اسے استعمال کرو۔ 

(صحیح البخاری: الوصایا: حدیث، 2737)