شیعوں کا منصبِ نبوت و ہدایت سے ایک گنا انکار
مولانا علی معاویہشیعوں کا منصبِ نبوت و ہدایت سے ایک گنا انکار
سوال1
شیعہ کے دعوی حب آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم علم کی یہ حقیقت معلوم ہو چکنے کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ٫٫بانیان تشیع نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے کچھ لگتے تھے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محب تھے صرف چار حضرات کی محبت کا دعوی کر کے پورے اسلام کو ختم کرنا صحابہ و اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گھر گھر اور ایک ایک فرد کے درمیان نفاق اور دشمنی کو مشہور کرنا تھا تاکہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیم و تربیت کی ناکامی آشکارا کر کے قرآن پاک اور دعوی نبوت کی تغلیط ذہنوں میں بٹھا دی جائے، کیا ایسے شخص کی بات غلط ہو گی؟ دلائل سے واضح کریں۔
سوال2
قرآن پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبشر، نذیر، ہادی، داعی الی اللہ،سراج منیر، رؤف رحیم، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین،سب لوگوں کی طرف مرسل، مطاع مبین، وغیرھا اوصاف سے نوازا اور یہ اسناد دے کر آپکو پیغمبر، معلم، مزکی، رہبر کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے۔
اتنے عظیم الشان امام الانبیاء معلم الکائنات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے لوگوں کو مسلمان کیا ، قرآن اور حکمت کی تعلیم دی، کتنوں کا تزکیہ نفس کیا ، کتنے گم گشتگان کو خدا سے ملایا، تعلیم و تربیت کے کیا ان مٹ نقوش چھوڑے اور پھر دنیا سے کوچ فرمایا چند ہی لوگوں کے نام بتائیے اگر بواسطہ علی رضی اللہ عنہ 3_4 حضرات کے علاوہ کسی کا نام نہیں لے سکتے کیونکہ دعوت ایمان اور اتباع کو وسیع ماننے سے شیعہ مذہب کا خاتمہ ہوجائے گا تو کیا بلاواسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دس صحابہ رضی اللہ عنھم کو بھی کامل مومن و مسلمان نہ ماننا انکار پیغمبر کے مترادف نہیں ہے ؟
سوال 3:
جن چار حضرات کو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم مان کر مومن تسلیم کیا اس میں بھی دھوکہ بازی ہے کیونکہ وہ حضرات حسب شیعہ اعتقاد شاگرد علی رضی اللہ عنہ ہونے کی وجہ سے مومن تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مدرسہ ان کو بتایا تھا جیسے کشف الغمہ صفحہ 179 پر ہے ۔صحابہ میں زاہدوں کی جماعت جیسے ابو درداء، ابو ذر، سلمان فارسی رضی اللہ عنہم یہ سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی پا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کی نیز وہ چار حضرات کامل الایمان اور تابعدار نہ تھے۔ کتاب اختصاص میں بسند معتبر حضرت صادق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمان رضی اللہ عنہ تیرا علم مقداد رضی اللّہ عنہ کو بتایا جائے تو وہ کافر ہو جائے اور اے مقداد رضی اللہ عنہ اگر تیرا علم سلمان رضی اللہ عنہ کو بتایا جائے تو وہ کافر ہو جائے( حیات القلوب صفحہ 633 جلد دوم _ 676 جلد 2 )شیخ کشی نے بسند حسن امام محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ تین کے سوا سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بعد وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرتد ہوگئے۔ سلمان، ابوذر ،مقداد رضی اللہ عنہم۔ صحابی نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا پوچھا حضرت نے فرمایا اس نے بھی کچھ میلان بسوئے کفر یعنی بیعت صدیق کیا مگر جلدی بدل گیا پھر فرمایا اگر تو ایسا چاہتا ہے جس نے کوئی شک نہ کیا ہو اور اسے شبہ نہ پڑا ہو تو وہ مقداد رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ شبہ بیٹھ گیا تھا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پاس اسم اعظم ہے اگر وہ منہ سے نکالیں تو زمین منافقوں کو نگل لے۔ پس آپ کیوں اس طرح ان کے ہاتھوں مظلوم ہو چکے ہیں (اس شبہ کی آپ کو سزا بھی ملی) رہے ابوذر رضی اللہ عنہ تو حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ چپ رہے مگر وہ ملامت کی پرواہ کیے بغیر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹا اور حضرت کی بات قبول نہ کی الخ۔(حیات القلوب ص676ج2) انصاف سے بتائیے کیا درج ذیل آیت میں مذکور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مناصب کا شیعہ نے انکار نہیں کر دیا؟
لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا من انفسهم يتلوا عليهم اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمه وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين (آل عمران ع17)
ترجمہ:٫٫بلاشبہ اللہ نے مومنوں پر بڑا ہی احسان کیا جبکہ ان میں انہی میں سے ایک عظیم پیغمبر بھیجا جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو ہر قسم کی برائی سے پاک کرتا ہے اور کتاب سکھاتا ہے اور حکمت (سنت نبوی) سکھاتا ہے اگرچہ اس سے پہلے وہ گمراہی میں تھے _
سوال4
ہر چیز کے صحبت رنگ لاتی ہے برے کی محفل میں برائی کا نیک کی محفل میں نیکی کا اثر بالمشاہدہ محسوس ہوتا ہے۔ فرمائیے صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تربیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا خامی تھی کہ بیس، تئیس سال تک ہر وقت آپﷺ کی خدمت میں رہنے والوں اور قریبی رشتہ داروں پر بھی ایمان، اخلاص اور اعمال کا رنگ نہ چڑھا