خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند سوالات

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 1 از 2

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند سوالات

سوال 1.
ذرا بتلائیں مقام نصرت میں اللّہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ٫٫صاحبہ،، پیغمبر کا ساتھی فرما کر آپکی افضلیت کو نمایاں نہیں کر دیا کیا کسی اور کا بھی اللہ تعالیٰ نے اس مدحیہ لفظ  سے قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے جیسے سورۂ توبہ رکوع 6 میں ٫٫

اذ یقول لصاحبه لا تحزن ان اللہ معنا،،ہے


پیغمبر اپنے ساتھی سے کہتا تھا (میرا )غم نہ کھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

سوال2:
فرمائیے حضور علیہ السلام کے آخری ایام مرض میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نہ جا سکتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  مصلی خالی رہا یا کسی نے بامر پیغمبر نمازیں پڑھائیں ؟اگر پڑھائیں تو کس بزرگ نے۔ کیا دنیا کی کسی بھی کتاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھی مصلی نبوی صلی اللہ علیہ پر نماز پڑھانے کا ذکر ہے اگر نہیں ہے اور تاریخ و سیرت کتب شیعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہی نام بتاتی ہیں  تو پھر آپ کو کیوں ضد ہے ؟انھیں خلیفہ بلا فصل کیوں تسلیم نہیں کرتے، کیا حضور کا فیصلہ اور عمل نص جلی سے کم ہے؟

سوال 3:
اگر بقول متعصب ملا باقر علی ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ازخود نمازیں پڑھانے لگے تو صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واویلا کر کے ان کو پیچھے کیوں نہ ہٹایا؟آج جب کسی معمولی واعظ و امام کے منبر ومصلی پر کوئی جرات نہیں کر سکتا نہ مقتدی اسے تسلیم کرتے ہیں تو امام الانبیاء ﷺ کے مصلی پر خلاف مرضی کیسے ایک شخص قابض ہوگیا ؟ کسی نے مخالفت نہ کی، نہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ڈانٹ ملامت کی اگر ایسا کچھ ذرا بھی ہوتا تو متواتر منقول ہوتا ۔

سوال 4:
کیا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بجائے خلیفہ بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بنتے تو شیعہ عقائد کی رو سے آپ کو کامیابی ہوتی؟ ذرا غور کریں شیعہ عقائد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں بسنے والے محبوب اور ہر دلعزیز ہرگز نہ تھے سب لوگوں کو آپ سے حسد اور دشمنی تھی ۔حضور علیہ السلام ان کے شر کی وجہ سے فضائل مرتضیٰ رض صراحتاً بیان نہیں فرماتے تھے اور مسئلہ امامت کو تاکید وحی کے باوجود بیان نہ کرتے تھے تاکہ لوگ مرتد نہ ہو جائیں حتی کہ اللّہ تعالیٰ کو ٫٫بلغ ما انزل الیک ،،سے تہدید دینی پڑی اور تبلیغ رسالت کی نفی کا حکم لگایا (حیات القلوب وغیرہ) بالفرض آپ اگر چند ساتھیوں کی بیعت سے خلیفہ بن جاتے تو عام عوام دشمنی کی وجہ سے آپ کی مطیع نہ ہوتی ، آپ جنوں اور ملائکہ کی مدد سے لشکر کشی کرتے تو پوری امت کا صفایا ہوجاتا ۔اللہ کی تقدیر میں امت کی فلاح و نجات اسی میں تھی کہ حضرت ابوبکر و عمر ،عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین بالترتیب خلیفہ ہوں ۔اندرونی مخالفت کا تصور ہی نہ ہو مسلمان سب دنیا کو فتح کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں اگر عہد رابع میں منافقانہ سازش سے اسی ہزار مسلمان کام بھی آجائیں تو مجموعی طور پر انکی قوت مضمحل نہ ہو ٫٫ان ربک علیم حکیم،،

سوال 5:
ذرا انصاف سے بتلائیں کیا حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین رضی اللہ عنہم کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا تھا اور کیا آپؓ نے قبول فرمایا تھا ۔اگر جواب اثبات میں تو آپکی فتوحات جہاد اور خلافت راشدہ برحق ہوئی کیونکہ آئمہ حرام خوری  اور مفاد پرستی سے بالا تھے ۔حضرت شہر بانو کی آمد اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے نکاح اسی قبیل سے ہے ۔جو کتب شیعہ میں مشہور ہے 

سوال 6:
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت فاروقی رضی اللہ عنہ میں مشیر تھے؟ اور کئی مشورے نہج البلاغہ میں مذکور ہیں ۔کیا آپ دور ثانی میں جج بھی تھے ؟ کیا آپؓ کئی امور میں حکومت کے ساتھ تعاون بھی کرتے تھے؟اور حکومت آپکو مالی وظیفہ دیتی تھی ؟اگر یہ تاریخ سے ناقابل انکار حقائق ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ بر حق خلیفہ تھے۔ ظالم و جابر ہرگز نہ تھے کیونکہ عامل بالقرآن علی رضی اللہ عنہ ظالموں کے معاون اور ان کے ہم مشرب و ہم کاسہ نہ بن سکتے تھے۔ارشاد خداوندی ان کے سامنے تھا۔

٫٫ولا ترکنوا
الی الذین ظلموا فتمسکم النار ،


ظالموں کی طرف تم جھکو بھی نہیں ورنہ تم کو آگ گھیر لے گی۔

سوال 7
کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لاثانی داماد اور سیدہ ام کلثوم بنت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے؟اگر آپ کو انکار ہے توکیا تسلیم کرنے والے مندرجہ ذیل شیعہ علماء آپ سے کم تر جانتے تھے یا ان میں انصاف کا کچھ شائبہ تھا؟
1_صاحب کافی نے کن گندے لفظوں میں اس حقیقت کو ادا کیا ہے:_٫٫ان ھذا اول فرج غصبناہ،،
یہ پہلی شرمگاہ ہے جو ہم سے چھین لی گئی ۔
2:_علامہ شوستری لکھتا ہے ٫٫اگر دختر نبی بعثمان دار ولی دختر بعمر فرستاد ،،اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دختر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔
3:_ابو جعفر طوسی کہتا ہے (الاستبصار ص185)جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ام کلثوم کو عدت گزارنے  کے لئے گھر لے آئے۔نیز تہذیب میں یہ روایت ہے کہ٫٫ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ اور ام کلثوم کا بیٹا زیاد بن عمر ابن الخطاب ایک ہی ساعت میں مدفون ہوئے اور یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کون پہلے مرا پس ایک دوسرے کا وارث نہ ہوا 
:_4سید مرتضیٰ علم الھدی المتوفی 355 ھ نے شافی میں لکھا ہے کہ حضرت امیر نے اپنی بیٹی کا نکاح بطیب خاطر نہیں کیا بلکہ یہ عقد بار بار کی درخواست پر ہوا ۔نکاح تو بہر حال ہوگیا ۔اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مومن نہ تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی لخت جگر سے ظلم کیا اور ناجائز کام کرایا؟

صفحہ 1 از 2