خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند سوالات

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 2

 سوال 8:
کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تین دن ،تین راتیں بدستور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے  انتخاب کے سلسلے میں متفکر رہے گھر گھر جا کر لوگوں سے پوچھا، پردہ دار خواتین سے بھی رائے لی بالآخر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے  حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور فرمایا ٫٫حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے برابر لوگ کسی اور کو نہیں جانتے ،،
تبھی تو اس حقیقت کا اظہار حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے بقول شیعہ ان الفاظ سے کیا ہے٫٫کہ لوگوں نے عزت خاندان اہل بیت سے پائی مگر سب نے اتفاق کر لیا کہ خلافت انکے بجائے دوسروں کو ملے ۔(حیات القلوب ص 276 ج 2)۔
فرمائیے جنت ورضا کی سندیں پانے والے تمام مہاجرین و انصار کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر اتفاق آپکے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہونے پر شاہد و برہان نہیں اور اس بھرے مجمع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیعت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کر دینا آپکی خلافت حقہ پر مہر تصدیق نہیں؟ نہج البلاغہ کے یہ الفاظ بھی اسی روشن بیعت کا پتہ دیتے ہیں٫٫وان ترکتمونی فانا کاحدکم ولعلی اسمعکم و اطوعکم لمن ولیتموہ امرکم،،
اگر تم مجھے خلیفہ نہیں چنوگے تو میں تمہاری طرح رعایا کا ایک فرد ہوں گا اور شاید میں تم سے زیادہ مطیع اور فرمانبردار اس خلیفہ کا ہوں گا جسے تم خلافت کے لیے چنو گے۔

سوال 9:
کیا داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہونا ایک  شرف اعزاز ہے اگر ہے اور واقعی ہےتو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد ،ذوالنورین سے ملقب، کیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل نہ ہوں جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکو خود فرمایا ٫٫ ونلت من صہرہ مالم ینالا،،(نہج البلاغہ)آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا وہ شرف پایا ہے جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں پایا ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی دامادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کتب شیعہ میں بھی متواتر ہے۔
:_1نور اللہ شوستری جیسا متعصب بھی آپ رضی اللہ عنہ کو  ذوالنورین لکھتا ہے ( مجالس المؤمنین صفحہ 158،ج1)
:_2مجلسی لکھتا ہے کہ مہاجرین حبشہ میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور آپکی زوجہ محترمہ دختر پیغمبر ﷺ تھیں ۔(حیات القلوب ص305 ج 2)
:_3اپنی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بیاہ دی ۔وہ رخصتی سے پہلے فوت ہوگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا بیاہ دیں۔(حیات القلوب ج 2)
:_4ام کلثوم و رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے  حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا پیدا ہوا جو چار سال کی عمر میں مرغ کی چونچ مارنے سے فوت ہوگیا۔( نخبۃ الاخبار ص 36)۔

سوال 10:
کیا آپ کو تسلیم ہے کہ حدیبیہ کے نازک موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سفارت کا ذمہ دار منصب سونپا تھا آپ رضی اللہ عنہ بخوشی قبول کر کے مکہ گئے ۔کفار کے اصرار کے باوجود کعبۃ اللہ کا طواف نہ کیا ۔کفار نے جب بند کر دیا اور قتل کی افواہ مشہور ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بدلہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں جان قربان کرنے کی بیعت لی۔اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر کے انکو جنت ورضوان کی بشارت دی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بائیں ہاتھ پر مارا اور غائبانہ بیعت کی تاکہ وہ اس شرف سے محروم نہ رہیں ( ملاحظہ ہو حیات القلوب قصہ حدیبیہ)۔کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ایمان پر یہ روشن برہان نہیں ہے ؟
جس دلہا کی خاطر 1500 باراتیوں کو ایمان و رضا کا تحفہ ملے کیا وہ دلہا دولتِ ایمان و رضا کے تحفے سے محروم رکھا جائے گا ؟

سوال *11 :
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگنے پر کس نے آمادہ کیا؟آپ کی مالی کمزوری کے عذر میں تعاون کی ڈھارس کس نے بندھائی؟
400 درہم حق مہر کس کی کمائی تھی؟جہیز کا سامان خریدنے بازار کون گیا تھا ؟گواہوں میں اہم شخصیات کون تھیں؟ اگر تاریخ و سیرت اور علماء شیعہ شادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں حضرت ابوبکر و عمر عثمان و سعد بن معاذ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام لیتے ہیں( جلاء العیون وکشف الغمہ قصہ تزویج) تو  کیا یہی محسنین  دشمن اہل بیت ہو گئے  اور محب ہونے کی سند آپکو الاٹ ہو گئی ؟


صفحہ 2 از 2