Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ نے حضرت ابوہریرہؓ کو کتاب وسنت کا دشمن کہا۔ (اعلاءالسنن )

  زینب بخاری

♦️ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوہریرہؓ کو کتاب وسنت کا دشمن کہا۔ (اعلاءالسنن ) 

  (الجواب اہلسنّت) 

حضرت ابوہریرہؓ کو حضرت عمرؓ نے گورنر بنا کر بھیجا اس وقت ان کے پاس مال نہیں تھا جب گورنری سے واپس آئے تو 10 ہزار درہم تھے حضرت عمرؓ کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کے مال میں سے یہ 10 ہزار حضرت ابو ہریرہؓ نے رکھ لیے ہیں اس اندیشہ کی تحقیق وتفتیش کیلئے حضرت عمرؓ نے حضرت ابو ہریرہؓ کو فرمایا اے دشمن خدا اور اللہ کی کتاب کے دشمن کیا تو نے اللہ کا مال چرایا ہے؟ حضرت ابوہریرہؓ نے براءت کا اظہار کیا اور مال حاصل ہونے کی تفصیل بیان فرمائی کہ میرے گھوڑوں کی نسل پھیلی جس سے مجھے یہ رقم حاصل ہوئی نیز دوست احباب کے عطیات سے بھی مجھے مال حاصل ہوا اس پر حضرت عمرؓ مطمئن ہو گئے ۔ کسی اپنے جماعتی فرد کی غلطی دیکھ کر اصلاح کیلئے ڈانٹنا اور اس کی اصلاح کرنا بھی کیا قابل اعتراض ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی باپ بیٹے کو چوری کرنے پر ڈانٹے کہ اے دشمن خدا و رسول تو نے اللہ کا حکم توڑ کر چوری کی راہ اختیار کر لی ہے؟ اور شیعہ کرم فرما یہ خبر نشر کر دے کہ باپ نے بیٹے کو دشمن خدا کہہ دیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ مسلمانوں کے اموال پر نگران تھے اور بظاہر ان کے پاس مال کی موجودگی نے یہ شک پیدا کر دیا تھا کہ یہ مسلمانوں کے اموال سے حاصل کیا گیا ہو گا، ایسی صورت میں سختی کے یہ الفاظ عین حکمت کے مطابق نہیں تا کہ مسلمانوں کے اجتماعی اموال پوری طرح سے محفوظ رہیں اور کوئی شخص خیانت کا بوجھ کندھوں پر اٹھا کر اخروی سزا کا مستحق نہ بن جائے یہ تو سوچ و فکر کا درست زاویہ ہے اس کے مقابلے میں شیعہ لوگوں کا ارشاد ہے کہ یہ حضرت عمرؓ کی ابو ہریرہؓ سے دشمنی کی دلیل ہے۔ اور یہ کہ فاروق اعظمؓ اچھے اخلاق کے مالک نہ تھے۔ حالانکہ اس خیال باطل کا مذکورہ واقعہ میں شائبہ تک نہیں۔