Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خروج کے اسباب اور وہ فتویٰ جس پر ان کا خروج مبنی ہے

  ابو شاہین

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خروج کے اسباب اور وہ فتویٰ جس پر ان کا خروج مبنی ہے 

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما یزید کی بیعت کے بارے میں مخالفانہ موقف رکھتے تھے اور جس میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے اور اس کا سبب ان کا اس امر پر حریص ہونا تھا کہ اسے شوریٰ پر چھوڑ دیا جائے اور منصب خلافت پر امت کے کسی نیک اور صالح فرد کا تقرر کیا جائے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے اس شدید مزاحمت نے بعد ازاں عملی شکل اختیار کر لی۔حسین رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کے بھی خلاف تھے البتہ انہوں نے اپنے بھائی حسن رضی اللہ عنہ کی وجہ سے اسے قبول فرما لیا۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے ساتھ مسلسل رابطہ میں تھے اور انہوں نے ان سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد معارضہ کا وعدہ کر رکھا تھا، ہمارے اس موقف کی دلیل یہ ہے کہ ان کی وفات کے فوراً بعد اہل کوفہ کے زعماء نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و کتابت شروع کر دی اور ان سے فوراً کوفہ روانگی کا مطالبہ کیا۔

 (مواقف المعارضۃ: صفحہ, 180)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خروج کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں :

1۔ ارادۂ اللہ عزوجل: 

اللہ رب کائنات جس چیز کا ارادہ کرے وہ ہو کر رہتی ہے ۔ اس کے حکم اور قضاء و قدر کو ردّ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اپنے حکم کو نافذ کر کے رہتا ہے اگرچہ سب کے سب لوگ اس کے روکنے پر اتفاق کر لیں 

( مواقف المعارضۃ: صفحہ، 260)

2۔ اقتدار کو شوریٰ سے موروثی بادشاہت میں تبدیل کرنا:

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جن شرائط پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا وہ ان کے التزام سے قاصر رہے، ان میں سے بقول ابن حجر ہیثمی یہ تھی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کی خلافت کا مسئلہ ان کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔

 (الصواعق المرسلۃ: جلد, 2 صفحہ, 299)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کی کوشش کرنا انتقال اقتدار کے بارے میں منہج ، اسلام کے مطابق نہیں تھا ، مگر اس کے باوجود انہوں نے ان کے خلاف خروج کرنے کا نہیں سوچا تھا اس لیے کہ وہ ان سے خلافت کی بیعت کر چکے تھے اور انہوں نے اس عہد کی حکمران کے طور پر پیش کرنے سے عبارت ہے اور یہ وہ چیز ہے جسے فقہائے کرام امام کے خلاف خروج سے تعبیرکرتے ہیں اس جگہ اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ عراق روانگی سے قبل کئی مہینوں تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، وہ اس طرح کہ آپ تین شعبان 0 ء ہجری کو مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اسی سال آٹھ ذوالحجہ کو عراق کے لیے روانہ ہوئے۔

 (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ, 36 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 696)

 اس دوران میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل عراق سے خط و کتابت کرتے رہے اور مختلف وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے، اسی دوران میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ظلم کا مقابلہ کرنا اور منکر کا خاتمہ کرنا ضروری ہو چکا ہے اور یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ عراق میں ان کے شیعہ ان سے رابطے میں تھے اور ان کے درمیان مراسلت کا سلسلہ جاری تھا۔ 

( تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 273 اور 276)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر سے یزید نے حکومت کے بارے میں حدود اللہ کا التزام نہیں کیا اور یہ کہ وہ رسولﷺ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منہج کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے فتویٰ کی بنیاد شرعی منطق کے تسلسل پر رکھی اور وہ یہ کہ یزید کی عدالت و صلاحیت میں شک ان پر عدم بیعت کو واجب قرار دیتا ہے۔ چونکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہیں کر رکھی تھی اور ان کا شمار علمائے امت اور ساداتِ امت میں ہوتا ہے لہٰذا وہ حدود اللہ کے قیام کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کا موقف امام کے خلاف خروج نہیں بلکہ برائی کا خاتمہ، باطل کا مقابلہ اور حکم کو صحیح اسلامی راہ پر نئے سرے سے چلانا کہلائے گا۔

( الفقہاء و الخلفاء: صفحہ، 23) 

اس امر کی دلیل کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس بات کے حریص تھے کہ یزید کی حکومت کے مقابلہ میں ان کا فتویٰ اور سیاسی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات و قواعد سے ہم آہنگ تھیں ان کا یزید کے ساتھ مقابلہ کرنے کے عزم کے وقت مکہ مکرمہ میں قیام سے انکار تھا تاکہ اس کی حرمت پامال نہ ہو اور وہ خوں ریزی اور قتل و قتال کے لیے میدان جنگ نہ بنے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ’’اگر مجھے فلاں فلاں جگہ قتل کر دیا جائے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ مجھے مکہ میں قتل کیا جائے اور میری وجہ سے اس کی حرمت کو پامال کیا جائے۔‘‘

(تاریخ طبری نقلا عن الفقہاء و الخلفاء: صفحہ، 25)