حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا کوفہ جانے کا ارادہ، صحابہ و تابعین کی انہیں نصیحتیں اور ان کے کوفہ جانے کے بارے میں صحابہ و تابعین کی رائے
ابو شاہینحضرت حسین رضی اللہ عنہما کا کوفہ جانے کا ارادہ، صحابہ و تابعین کی انہیں نصیحتیں اور ان کے کوفہ جانے کے بارے میں صحابہ و تابعین کی رائے
1: کوفہ روانگی کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عزم:
کوفہ کے سرکردہ لوگوں کی طرف سے خطوط کی آمد کے بعد جن میں ان سے جلد از جلد کوفہ آنے کا مطالبہ کیا گیا تھا انہوں نے صورت حال سے آگاہ ہونے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ اصل حالات سے آگاہ ہو کر انہیں تحریری طور پر ان سے آگاہ کریں اور اگر ان کے بیانات درست ہوں تو وہ کوفہ چلے آئیں گے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 267 )
مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ، عبدالرحمن بن عبداللہ ارجی، قیس بن مسہر صیداوی اور عمارہ بن عبید سلولی کے ساتھ کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ جب مسلم رحمۃ اللہ مدینہ منورہ پہنچے تو انہوں نے دو راستہ دکھانے والے اپنے ساتھ لے لیے جن میں سے ایک کوفہ کے راستے میں پیاس کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ چونکہ مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کو ان مشکلات کا بخوبی احساس ہو گیا تھا ۔ جس کا انہیں کوفہ میں سامنا کرنا پڑ سکتا تھا لہٰذا انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو انہیں واپس بلانے کی درخواست پر مشتمل خط لکھا مگر انہوں نے ان کے اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کوفہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کا حکم دیا۔
( ایضا: جلد، 6 صفحہ، 267 )
جب مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کوفہ پہنچے تو مختار بن ابی عبید کے مکان پر اترے۔
( ایضا: جلد، 6 صفحہ، 267 )
مگر جب ابن زیاد نے کوفہ کی امارت سنبھالی اور وہ لوگوں پر تشدد کرنے لگا تو مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ ہانی بن عروہ کے پاس منتقل ہو گئے۔ جب انہیں یہاں بھی ابن زیاد سے خطرہ محسوس ہوا تو انتہائی مختصر عرصہ کے لیے ایک سرگرم شیعہ مسلم بن عوسجہ اسدی کے پاس ٹھہرے رہے۔
(ایضا: جلد، 6 صفحہ، 286)
جب اہل کوفہ کو مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کی آمد کی خبر ملی تو وہ ان کی طرف دوڑے چلے آئے اور بارہ ہزار کوفیوں نے ان سے بیعت کر لی،
( تہذیب الکمال: جلد، 2 صفحہ، 301 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 232)
جب مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہما اور ان کی کوفہ آمد میں لوگوں کی دلچسپی کا یقین ہو گیا تو انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تمام اہل کوفہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہیں ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرا خط پڑھتے ہی اِدھر چلے آئیں ۔
( انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 167)
خط پڑھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ کے ارادوں کی سچائی کا یقین ہو گیا اور جیسا کہ کوفہ والوں نے اس سے قبل انہیں بتایا تھا کہ ان کا کوئی امام نہیں ہے،
(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 272)
لہٰذا اب ان کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل کوفہ کے نام خط لکھا:
میں نے تمہارے پاس اپنے بھائی اور عم زاد کو بھیجا ہے اور میں نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ تمہارے حالات اور رائے سے مجھے تحریری طور پر آگاہ کرے، اس نے مجھے لکھا ہے کہ تمہارے سرکردہ اور عقل مند لوگوں کا مجھ پر اتفاق ہو چکا ہے۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس آنے ہی والا ہوں ۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 267)
جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کا وہ خط ملا جس میں ان سے کوفہ آنے کی درخواست کی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ کوفہ کے حالات ان کے لیے سازگار ہیں تو وہ اپنے اہل خانہ اور دیگر متعلقین کے ساتھ کوفہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔
( ایضا: جلد، 6 صفحہ، 267 )