مسلمان بیوی کو طلاق دے کر غیر مسلم عورت سے نکاح کرنا اور اُس سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب
مسلمان بیوی کو طلاق دے کر غیر مسلم عورت سے نکاح کرنا اور اُس سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص جو کہ مسلمان ہے اور اس نے ایک مسلم لڑکی سے شادی بھی کی اور اس سے اولاد بھی پیدا ہوئی، کچھ عرصہ کے بعد اس نے اس لڑکی کو طلاق دیدی، پھر اس لڑکے نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کر لی اور اس لڑکی کو مسلمان بھی نہیں کرایا گیا اور وہ لڑکی آج بھی اس کے گھر میں بیوی کی حیثیت سے رہ رہی ہے، اور وہ شخص جو اس فعل بد میں گرفتار ہے یہ شخص مسلمانوں کی کسی بھی طرح رہنمائی کر سکتا ہے؟ اور اب اس ہندو لڑکی سے جو اولاد ہو رہی ہے کیا وہ اولاد جائز ہے یا نا جائز؟
جواب: مسئولہ صورت میں اگر غیر مسلم لڑکی کو مسلمان کرکے اس سے نکاح کیا ہے تو شرعاً کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر غیر مسلم لڑکی سے اس کے مسلمان ہوئے بغیر نکاح کیا ہے، جیسا کہ سوال میں درج ہے تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، اور اس سے جو اولاد ہوئی ہے ان کا نسب بھی اس شخص سے ثابت نہ ہو گا، دونوں میں فوراً تفریق لازم ہے، ورنہ سخت گنہگار ہوتے رہیں گے۔
:فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة لقوله تعالىٰ: ولا تنكحو المشركت حتى يؤمن:
(بدائع الصنائع جلد 2، صفحہ 552)
(كتاب النوازل جلد 10، صفحہ 270)