شیعہ مذہب سے متعلق شیعوں سے چند سوالات - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ مذہب سے متعلق شیعوں سے چند سوالات

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 2

سوال يہ ہے ائمہ معصومین سے وہ کون سے معصوم راوی ہیں یا علماء جرح وتعدیل میں سے وہ کون سے معصوم مؤلفین ہیں جن کی روایات یا تحقیق پر اعتماد کر کے مذہب شیعہ کو سچا مانا جائے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا يہ بہتر نہیں کہ پیغمبر معصوم کے تمام ارشادات کو عادل صحابۂ کرام رضی ﷲ عنہم۔۔۔۔۔ جو قرآن کے بھی جامع و راوی ہیں کے توسط سے ثقہ مؤلفین صحاح ستہ کی کتب سے ثابت اور واجب العمل سمجھا جائے ۔۔۔۔ جن کی ثقاہت ودیانت پر تمام لوگوں کا اتفاق رہا ہے۔

سوال نمبر8:
امام جعفر صادقؒ سے شیعہ مذہب کے مرکزی اور ہزاروں احادیث کے راوی چار ہیں۔ زرارہ بن اعین۔ ابو بصیر مرادی۔ محمد بن مسلم۔ برید بن معاويہ عجلی امام جعفر صادق کی طرف منسوب ہے۔آپ نے فرمایا، اگر زرارہ اور اس کے ساتھی نہ ہوتے تو میرے باپ کی احادیث مٹ جاتیں۔ نیز آپ نے فرمایا میں ان چار کے سوا کسی کو نہیں پاتا جس نے ہمارا ذکر اور میرے باپ کی حادیث کو زندہ کیا ہو اگر يہ نہ ہوتے تو کوئی شخص دین کا مسئلہ نہ جان سکتا يہ وہ حفاظ حدیث اور خدا کے حلال و حرام پر امین ہیں جو دنیا وآخرت میں ہمارے سابقون ہیں۔(رجال کشی ص90-91)

اب ذرا ان کی مذہبی پوزیشن ملاحظہ ہو۔

زرارہ امام باقر کو رحمہ ﷲ کہتا تھا اور امام صادقؒ سے منخرف تھا کیونکہ حضرت صادقؒ نے اس کی رسوائیوں کا پردہ چاک کیا تھا۔ امام ابوالحسن کہتے ہیں استطاعت میں زرارہ کا مذہب بالکل غلط تھا۔(رجال کشی 96)

بروایت ابو بصیر امام صادقؒ فرماتے ہیں۔ اسلام میں جو بدعتیں زرارہ نے نکالیں اور کسی نے نہیں نکالیں اس پر ﷲ کی لعنت ہو دوسری روایت میں ہے کہ امام صادقؒ نے اس پرتین دفعہ لعنت کی۔ (رجال کشی 101)ايک اور روایت میں فرمایا زرارہ يہود و نصاری سے بدتر ہے اور ان سے بھی جو تین خدا مانتے ہیں (رجال کشی:107)

ابو بصیر امام کو لالچی اور شکم پرست جانتا تھا۔ايک مرتبہ حضرت صادق نے اندر آنے کی اجازت نہ دی تو بولا: اگر ہمارے پاس حلوے کا تھال ہوتا تو اجازت مل جاتی اسی اثنا میں کتے نے ابو بصیر کے منہ میں پیشاب کر دیا۔ ايک غیر محرم عورت کو قرآن پڑھاتاتھا۔ ايک دفعہ ہاتھ کے اشار سے شرمناک مذاق کیا تو امام نے روک دیا۔( رجال کشی 116)

محمد بن مسلم کے متعلق امام صادقؒ نے فرمایا ﷲ کی اس پر لعنت ہو يہ کہتا ہے کہ خدا کسی چیزکو نہیں جانتا جب تک واقع نہ ہو جائے نیز فرمایا اپنے دین میں فریب کرنے والے ہلاک ہوگئے ، زرارہ، برید، محمد بن مسلم، اسمعیل جعفی (رجال کشی 113) برید بن معاويہ عجلی کے متعلق امام نے فرمایا: برید پر ﷲ کی لعنت ہو۔(رجال کشی156)

فرمائيے ایسے کذاب ملعون، بد اعتقاد، يہود ونصاری سے بدتر لوگوں سے جو دین مروی ہو وہ کيسے سچا ہوگا؟

سوال نمبر9:
اگر صادقؒ اور آپ کے اصحاب پر ﷲ تعالی نے تبلیغ دین کی نص کر دی تھی تو کیا وجہ ہے کہ آپ کے راوی اصحاب عصمت تو کجا، اطاعت، عدالت، راست گوئی اور تقوی سے بھی مشرف نہ ہو سکے۔ صرف تین شہادتیں ملاحظہ ہوں۔

1۔ ايک سچے آدمی شريک بن مفضل نے حضرت صادقؒ سے سنا فرماتے ہیں۔”مسجد میں کچھ لوگ ہیں جو ہم کو (امام) اورخود کو (شیعہ)مشہور کرتے ہیں يہ لوگ نہ ہم سے ہیں نہ ہم ان سے۔ میں ان سے چھپ کر پردہ پوش ہوتا ہوں وہ میری پردہ دری کرتے ہیں کہتے ہیں کہ امام۔ امام۔ خدا کی قسم میں صرف اس کا امام ہوں جو میرا فرمانبردار ہو، جو نافرمان ہو میں اس کا امام نہیں ہوں، کیوں میرا نام ليتے ہیں خدا انکو اور مجھے ايک جگہ جمع نہ کرے۔(روضہ کافی 374)

2۔ ابو یعفور نے امام صادق سے کہا میں لوگوں سے ملتا ہوں تو مجھے ان لوگوں پر بڑا تعجب ہوتا ہے جو آپ کو امام نہیں مانتے اور فلاں فلاں (ابو بکر عمر رضی ﷲ عنہما) کو امام مانتے ہیں يہ بڑے امانت دار، سچے اور وفادار ہوتے ہیں اور جو آپ لوگوں سے تولا رکھتے ہیں ان میں وہ امانت ،وفاداری اور راست گوئی نہیں ہے؟ امام سیدھے ہو کر بيٹھ گئے اور غضب ناک ہو کر کہنے لگے جو امام جائر کو خلیفہ مانے اس کا نہ کوئی دین ہے نہ وہ خدا کا کچھ لگتا ہے اور جو امام عادل کو مانے اس پر (ان گناہوں کی وجہ سے) کسی قسم کی گرفت نہیں۔ سبحان ﷲ (اصول کافی ج1ص375)

3۔ رجال کشی 210 پر ہے کہ شیعہ نے امام صادقؒ سے ایسا آدمی مانگا جو دین و احکام میں مرجع ہو ان کے اصرار پر آپ نے مفضل کو بھیجا کیونکہ يہ ﷲ پر سچ بولے گا۔ کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ لوگوں نے اس پر اور اس کے ساتھیوں پر يہ کہنا شروع کر دیا يہ نماز نہیں پڑھتے، نیز شراب پيتے ہیں حمام میں مرد و عورت ننگے نہاتے ہیں، ڈاکہ زنی کرتے ہیں اور مفضل ان کے ساتھ اور قریب ہوتا ہے۔

سوال نمبر10:
حضرت باقر وصادقؒ شارع دین تھے (شریعت ساز) یا راوی دین اگر شارع وحلال و حرام میں مختار تھے تو نبوت کے ساتھ کھلا شرک ہوا ۔ اگر راوی دین تھے تو راوی کے لئے عصمت کا اصول کس نے ایجاد کیا ہے جب کہ آپ کو اپنے شاگرد بھی غیر معصوم صرف نیک و کار عالم جانتے تھے۔علامہ مجلسی لکھتا ہے:” احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ روایوں کی جماعت جو ائمہ کرام علیہم السلام کے زمانے میں ہوئی وہ ان کی عصمت (گناہوں سے پاکدامنی) کا اعتقاد نہ رکھتے تھے بلکہ وہ ان کو نیک و کار علماء میں سے جانتے تھے جيسے رجال کشی سے ظاہر ہوتا ہے۔ مع ھذا ائمہ علیھم السلام ان کو مومن و عادل کہتے تھے (حق الیقین)


صفحہ 2 از 2