سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس امت کے الہام یافتہ ہیں
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس امت کے الہام یافتہ ہیں
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَقَدْ کَانَ فِیْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ ، فَاِنْ یَکُنْ فِیْ أُمَّتِیْ أَحَدٌ فَإِنَّہٗ عُمَرُ۔
(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد، 1 صفحہ ، 348)
ترجمہ:’’تم سے پہلے کی امتوں میں الہام یافتہ افراد ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہیں۔‘‘
اس حدیث میں سیدنا عمرؓ کی عظمت ومنقبت کا واضح بیان ہے۔ البتہ حدیث میں وارد لفظ ’’ مُحَدَّثٌ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔
بعض کا کہنا ہے: الہام یافتہ شخص مراد ہے۔
بعض کا کہنا ہے: وہ شخص مراد ہے جس کی زبان سے بلا قصد و ارادہ درست رائے کا اظہار ہو۔ اور بعض کا کہنا ہے: ہم کلام ہونا مراد ہے یعنی آپؓ سے فرشتے ہم کلام ہوئے لیکن نبوت نہیں عطا کی گئی۔
اور بعض کا کہنا ہے: اس سے بصیرت ودُور اندیشی مراد ہے۔
حافظ ابن حجرؒ کا قول ہے کہ سیدنا عمرؓ کو خاص طور سے اس صفت سے متصف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دورِ نبویﷺ کے بعد بھی آپؓ کی کئی باتیں اصابت رائے پر مبنی رہیں۔
اور اس مقام پر یہ واضح رہے کہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چھوڑ کر آپؓ کا اس عظیم شرف و منزلت سے مشرف ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپؓ ابوبکر صدیقؓ سے افضل ہیں۔
علامہ ابن القیمؒ فرماتے ہیں: تم یہ گمان نہ کرو کہ سیدنا عمرؓ کی یہ خصوصیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت کی دلیل ہے بلکہ یہ تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اہم مناقب و فضائل میں سے ہے کہ حوض نبوت سے آپ کی مکمل سیرابی اور چشمہ رسالت سے براہِ راست فیض یابی کی وجہ سے الہام وغیرہ سے مستغنی رہے۔ لہٰذا اس مقام پر غور کرو اور سوچو اور اچھی طرح سوچو اور اس میں اللہ کے حکیم و خبیر ہونے پر شہادت دینے والی عظیم حکمتوں پر پھر غور کرو۔
(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 47اور48 شرح النووی: جلد، 15 صفحہ، 165اور167 )