صداقت مذہب اہل السنة والجماعة سے متعلق شیعہ سے چند سوالات -…

صداقت مذہب اہل السنة والجماعة سے متعلق شیعہ سے چند سوالات

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 1 از 2

صداقت مذہب اہل السنة والجماعة سے متعلق شیعہ سے چند سوالات

سوال نمبر1

مدعیان اسلام میں تین بڑے بڑے فرقے ہیں (شیعہ، خارجی، سنی) ان کے متعلق پیشن گوئی حضرت پیغمبر و شیر خدا نے کر دی ہے جیسے کہ نہج البلاغہ قسم اول ص261 پر حضرت امیر کا خطبہ موجود ہے: میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے حد سے زیادہ محبت کرنے والا جسے محبت ناحق (کفرو شرک) تک پہنچائے گی اور حد سے زیادہ نفرت رکھنے والا جسے نفرت حق (نفاق ونفی ایمان) تک پہنچائے گی۔ میرے متعلق سب سے اچھے حال والے وہ لوگ ہوں گے جو درمیانی راہ چلتے ہیں ۔پس تم ان کی اتباع لازم پکڑو اور اس سواد اعظم (عظیم اکثریت) سے چمٹے رہو کیونکہ ﷲ کا ہاتھ بڑی جماعت پر ہوتا ہے۔ تفرقہ اور جدا ہونے سے بچو۔ کیونکہ سب لوگوں سے الگ چلنے والا شیطان کا شکار ہوتا ہے جیسے ریوڑ سے علیحدہ بکری بھیڑيے کے ہاتھ لگتی ہے سنو! جو علیحدگی کا داعی ہو اسے قتل کرو اگرچہ میری پگڑی کے نيچے ہو “ تاریخ شاہد ہے کہ شیعہ اور خارجی دونوں فرقے عظیم اکثریت سے الگ اور افراط و تفریط کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ کیا مذہب اہل سنت کی صداقت پر اس سے زیادہ واضح فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے۔؟ 

سوال2

  یه مشاہدہ ہے کہ اللہ کی سب سے افضل کتاب قرآن مجید کو اہل سنت ہی نے سینہ سے چمٹایا، وہی لاکھوں کی تعداد میں حافظ و قاری ہیں اس کے مقابلے میں شیعہ کا تناسب کچھ بھی نہیں۔ 
(النادر کالمعدوم)
رمضان میں انہی کی مساجد قرآن مجید سننے سنانے سے آباد رہتی ہیں۔ اپنے مردوں کو قرآن کا ایصال ثواب یہی کرتے ہیں۔ شیعہ تو بے دین ذاکروں سے مجلس ماتم پڑھا کر ایصال ثواب کراتے ہیں ۔ اس پس منظر میں اصول کافی کتاب فضل القرآن سے امام باقر کی یہ حدیث ملاحظہ ہو  فرمایا :" اے سعد قرآن سیکھو، قرآن قیامت کے دن سب سے بہتر شکل میں آئے گا اور لوگ دیکھیں گے ۔ سب لوگوں کی ایک لاکھ بیس ہزار صفیں ہوں گی۔ اسی ہزار صفیں صرف امت محمدیہ (قرآن خوانوں) کی ہوں گی اور چالیس ہزار صفیں اور سب امتوں کی ہوں گی ۔ یہ کثرت صرف سنی المسلک قرآن خواں امت کی ہوگی۔ شیعہ کبھی نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ سب ائمہ کے تمام اصحاب وشیعہ چند صد سے متجاوز نہ تھے جیسے رجال کشی قلت اتباع اہلبیت کے سلسلے میں ہے :
کہ قیامت کے دن منادٰی ندا دے گا محمد بن عبداللہ کے  حواری کہاں ہیں جنہوں نے عہدشکنی نہ کی اور قائم رہے تو حضرت سلمان ، مقداد و ابو ذر رضی اللہ عنھم اٹھیں گے، حضرت علیؓ وصی رسول کے، عمرو بن الحمق، محمد بن ابی بکر ، میثم بن یحییٰ التمار اور اویس قرنی رحمہم الله اٹھیں گے ۔ حضرت حسن بن علیؓ کے حواریوں میں سفیان بن ابی لیلی، حذیفہ بن اسید غفاری ہوں گے ۔ حضرت حسین بن علیؓ کے ساتھ آپؓ کے ہمراہ شہید ہونے والے (72) ساتھی ہوں گے ۔ علیؓ بن حسین کے حواری جبیر بن معطم ، یحییٰ بن ام الطویل، ابو خالدکابلی، سعید بن المسیب ہوں گے۔ حضرت باقر کے حواری عبداللہ شریک زرارہ بن اعین،
برید بن معاویہ ،محمد بن مسلم، ابو بصیر، عبداللہ بن ابی یعفور، عامر بن عبداللہ، حجر بن زائدہ اور حمان بن اعین ہوں گے۔ پھر منادی ندا دے گا
۔ باقی ائمہ کے باقی سب شیعہ کہاں ہیں ؟؟
تو کسی کے اٹھنے کا ذکر روایت میں نہیں...
تو یہ (94 حضرات) جمع ہونے والے پہلے سابق ومقرب ہیں اور پیروکاروں میں سے ہیں۔ کیا اہل سنت والجماعت سواد اعظم کی حقانیت پر دنیا اور قیامت میں یہ نص قاطع نہیں ؟

 سوال 3
اللہ پاک کا ارشاد ہے ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم ! اللہ کے ہاں سب سے بڑا تمہارا وہ شخص ہے جو تم  سب سے بڑا پرہیزگار ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے قریشیو؛ آدمی کا مرتبہ اس کے دین،شرافت ،خوش اخلاقی اور عقل سے بڑا ہوگا۔ نیز فرمایا اے سلمان سوائے تقوی کے تجھ پر کوئی فضیلت والا نہیں۔ (رجال کشی 1009) 
حضرت باقر کا فرمان ہے، اللہ کے ہاں سب سے پیارا اور معزز وہ ہے جو سب سے بڑا پرہیزگار اور عمل کرنے والا ہو۔ (اصول کافی ص47)
 اہل سنت اس تعلیم کی روشنی میں صرف تقوی اور عمل سے مرق مراتب کے قائل ہیں۔ حسب نسب ثانوی چیز ہے ۔ کیا مذہب سنی برحق ہے یا وہ مذہب شیعہ جو صرف فضیلت نسبی کے قائل ہیں اور جو شخص اہل بیت کی طرف کسی قسم کی نسبت کرے اسے سب سے افضل اور پاک جانتے ہیں خواہ کتنا بڑا بدکار و بدعمل کیوں نہ ہو ملاحظہ ہو۔ (روضه کافی ص101، 7 روایات)

 سوال 4
سنی و شیعہ میں سے کوئی شخص براہ راست امام وقت اور پیغمبر سے کسب فیض حاصل نہیں کر سکتا۔ شیعہ اپنے وسائط سے امام معصوم اور مطاع صرف اہل بیت کو جانتے ہیں اور اہل سنت اپنے وسائط سے رشتہ مودت واطاعت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استوار کرتے ہیں۔ اور آپ ﷺ ہی کو معصوم پیشوا تا قیامت مانتے ہیں۔ پیغمبر افضل ہے یا امام اور اتباع پیغمبر سے اہل سنت کی صداقت اظہر من الشمس نہیں ہے؟؟

سوال 5
۔ اہل سنت کا دین ہزاروں صحابۂ کرامؓ، اہل بیتؓ و اقربا پیغمبر کی روایت سے خود حضور ﷺ سے منقول ہوا پھر لاکھوں کروڑوں تابعین، تبع تابعین من بعدهم کی روایت سے ہم تک پہنچا جس کے متواتر اور یقینی ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں کیونکہ عقل سلیم انسانی ہزاروں، لاکھوں افراد کو امر باطل پر متفق نہیں مان سکتی۔ اس کے برعکس شیعہ مذہب صرف چند افراد کے واسطے سے بطور تقیہ منقول ہوتا رہا، بر سرعام ائمہ نے ان لوگوں کی تکذیب کی۔ وہ اپنی مخصوص مذہبی بات وعقیدہ کی تصدیق ائمہ سے کرا ہی نہیں سکتے تھے ۔ ملاحظہ ہو : اصول کافی فروع کافی ( ص 467 ج3) ہے کہ مدینہ میں امام جعفر صادق کے پاس شیعہ اعلانیہ نہیں آسکتے تھے ۔ انصاف فرمائیے مذہب اہل سنت حق پر ہوگا یا شیعہ برحق ہو نگے۔۔۔

 سوال 6
ارشاد خداوندی ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو دین حق اور ہدایت دے کر اس لیے بھیجا:

لیظهرہ على الدين كله وكفى بالله شھیدا


. تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے اور خود خدا اس پر کافی گواہ ہے ۔

صفحہ 1 از 2