Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ اپنے والد کی طرح بد کلام بد مذاج اور تشدد پسند تھے۔ (سرکاری خطوط )

  زینب بخاری

 حضرت عمرؓ اپنے والد کی طرح بد کلام بد مذاج اور تشدد پسند تھے۔ (سرکاری خطوط)

  (الجواب اہلسنّت) 

دہلی کے ڈاکٹر صاحب کو لگتا ہے یا تو مال زیادہ لگ گیا یا پھر خود مریض ہیں ۔ مشہور مثل ہے المرء يقيس على نفسه ہر شخص دوسروں کو اپنے جیسا خیال کرتا ہے ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے یہی دو صفحے پڑھ کر ہی ایک عدالت پسند شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی ذہنی حالت کیا ہے اور خود ان کی تحریر کسی قدر بد مزہ اور نفرت کی بدبو سے متعفن ہے۔ کبھی کبھی تنخواہ حلال کرتے ہوئے بعض قلم کار اتنا زیادہ مسالہ ڈال بیٹھتے ہیں کہ لکھی ہوئی لکیریں بھی غلاظت کا ڈھیر معلوم ہونے لگتی ہیں ایسی قلم فروش تحریر سے خیر اسلاف امت پر تو کیا اثر پڑے گا جن کی توصیف کیلئے کتاب اللہ اور لسان نبوتﷺ سے علوم و عرفان کے موتی برستے رہتے تھے، ان کی عظمت رفتہ کے لیے کیا یہ مشاہدہ کافی نہیں کہ مصر کے دریائے نیل کی روانیاں آج تک ان کے لکھے خط اور خط میں تحریر عبارت کی عظمت پر شہادت دے رہی ہیں۔ جس جگہ سے اللہ تعالی نے رحمت عالمﷺ کے وجود اطہر کو تخلیق فرمانے کے واسطے خمیر لیا تھا سیدنا فاروق اعظمؓ کا خمیر بھی وہیں سے لیا تھا، البتہ قلم فروشوں کی ضمیر فروشی پر رہتی دنیا تک وہی کچھ زبانیں برساتی رہتی ہیں جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔ موصوف ڈاکٹر صاحب کی یہ تحریر اہل سنت و الجماعت کی ترجمان تو کیا ہوگی اہلسنّت تو موصوف کے بارے میں اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ اس کا انجام بارگاه الہی میں کیا ہو گا اور کس حال میں وہ موت کی دہلیز پر آ وارد ہوا ہوگا۔

  ڈاکٹر کے کذب و افتراء کے جھوٹا ہونے کے لئے بس اتنا کافی ہے۔ جو لکھا کہ انہیں صفات سے خائف ہو کر خواتین ان کی شادی کے پیغام رد کر دی تھیں۔

چند لفظوں کے بعد لکھا: 26 سال کی عمر تھی وہ کئی شادیاں کر چکے تھے۔ ( شیعہ کتاب تحقیقی دستاویز عکسی ) ان دونوں جملوں کو ملا کر دیکھ لیا جائے کہیں تقیہ شریفہ کا مردہ تو ان لفظوں سے برآمد نہیں ہو رہا؟ یہ امر دریافت طلب ہے کہ جاننے والی خواتین تو پیغام رد کر دیتی تھیں پھر یہ اتنی بیویاں ان پر قربان ہونے کو کیسے تیار ہو گئیں؟ سیدہ، طیبہ، طاہرہ، فاطمۃ الزہراؓ کی لخت جگر ام کلثوم 50 سال سے متجاوز فاروق اعظمؓ کے ساتھ عقد پر کیسے آمادہ ہو گئیں؟ امید ہے ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہو گا کہ کربلا کے راوی کی طرح مجلس عزا پڑھنے والے موصوف ڈاکٹر صاحب کے بارے میں اندیشہ ہے کہ یہ بھی سبائی مذہب کے کارندہ ہوں لہذا ڈاکٹر صاحب جیسے دروغ گو شخص کی کتاب یا ان کی تحریر ہمارے ہاں قابل اعتبار نہیں۔