تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 8

تقیہ اور کتمان قرآن و سنت کی روشنی میں

 کتمان اور تقیہ کیا ہیں؟ یہ جھوٹ بولنے سے بھی بدترین گناہ اور عیب کیوں ہیں؟ 

شیعہ مذہب کی تعلیمات میں کتمان اور تقیہ بھی اہم اصول اور عقیدہ ہیں جبکہ ان دونوں لفظوں کے ترجمہ میں عام آدمی نمایاں فرق محسوس نہیں کر سکتا لہٰذا  کچھ علماء نے عوام کی آسانی کے لیے ان دو لفظوں کی جگہ صرف ایک لفظ  تقیہ استعمال کیا ہے۔ 
ان دو لفظوں کے معنیٰ اس  طرح ہیں
کتمان: کتمة (اسم مصدر) کسی چیز کا بہت ذیادہ چھپانا
(بیان اللسان عربی اردو ڈکشنری: 672)
تقیہ: دل میں عداوت ہو مگر بظاہر دوستی کا اظہار کیا جائے، وہ کام جس کے کرنے کو جی (دل) نہ چاہتا ہو مگر کسی کے خوف سے کیا جائے۔
(فیروز اللغات اردو حصہ اول: 394)
ماہنامہ میثاق اپریل 1985 میں ان دو لفظوں کا مطلب اس طرح بیان کیا گیا ہے:
کتمان: کا مطلب ہے کہ اصل عقیدہ مذہب و مسلک کو چھپانا اور دوسروں پر ظاہر نہ کرنا۔
تقیہ: کا مطلب اپنے عقیدہ مذہب و مسلک اور اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہنا اور عمل کرنا اور اس طرح دوسروں کو دھوکہ دینا اور فریب میں مبتلا کرنا۔ 
 اب دیکھیں موجودہ دور کا شیعہ رہنما خمینی "تقیہ" کا مطلب کیا بیان کرتا ہے۔
چنانچہ خمینی لکھتا ہے

1: معنیٰ تقیہ آنست کہ انسان حکمی رابر خلاف واقع بگوید یا عملی برخلاف میزان شریعت بکند

یعنی تقیہ کا معنیٰ ہے کہ انسان کسی حقیقت کے خلاف کچھ کہے یا کوئی کام قانون شریعت کے خلاف کرے۔

(کشف الاسرار صفحہ: 168 از خمینی عکس 562)
خمینی آگے لکھتا ہے:

2: عقل و ہرکس جزئی خردی داشتہ باشدمی فہد کہ حکم تقیہ از احکام قطعیہ خداست چنانچہ واردشدہ کہ ہرکس تقیہ ندارودین نرارد۔

(کشف الاسرار 129 از خمینی عکس 567)

مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو معمولی عقل اور فہم ہے وہ جانتا ہے کہ تقیہ اللہ  کے قطعی احکام میں سے ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ جو آدمی تقیہ نہ کرے تو اس  کا کوئی دین نہیں۔
اب دیکھیں مندرجہ بالا عبارت میں خمینی نے کیا کہا ہے وہ کہتا ہے کہ:
1: تقیہ کے معنیٰ خلافِ حقیقت بات کہنا بالفاظ دیگر تقیہ کے معنیٰ جھوٹ بولنا۔ جھوٹ بولا جاتا ہے دوسرے کو دھوکہ دینے کے لیے یا دوسرے سے دغا کرنے کے لیے تو پھر تقیہ کے معنیٰ ہوئے جھوٹ، دھوکہ، دغا وغیرہ وغیرہ۔
2: تقیہ کے معنیٰ شریعت کے قوانین کے خلاف کام کرنا اور شریعت کے قوانین قرآن و سنت ہیں تو پھر تقیہ کے معنیٰ ہوئے قرآن و سنت یعنی اسلام کے خلاف کرنا۔
3: سب سے بڑی اہم بات جو خمینی نے کی ہے وہ یہ کہ اس کے الفاظ میں تقیہ یعنی جھوٹ بولنا دوسرے کو دھوکہ دینا اور شریعت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ہیں (العیاذباللہ)۔

جھوٹ بولنا ایک تسلیم شدہ اور مانی ہوئی برائی ہے جس کی ہر مذہب و ملت، سماج و معاشرہ اور ہر ایک ملک میں اس کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو ہر ذی شعور انسان ان برائیوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے جو  ام الخبائث ہیں یعنی جھوٹ ایسی برائی اور بیماری ہے کہ اس سے دوسری برائیاں جنم لیتی ہیں اس لیے کسی مذہب کو تو چھوڑیں بلکہ انسانوں کی کوئی قوم، قبیلہ آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو جھوٹ کو عیب نہ سمجھتا ہو، برعکس اس حقیقت کے کہ یہ خصوصیت صرف شیعوں کو ہی حاصل ہے کہ ان کے ہاں جھوٹ، دھوکہ اور سچ کو چھپانا یعنی کتمان اور تقیہ نہ صرف جائز ہے بلکہ شیعیت کا اہم حصہ ہے بلکہ شیعہ مذہب کے 10 حصوں میں سے 9 حصے کتمان اور تقیہ میں موجود ہیں۔
تقیہ میں جھوٹ، دھوکہ، اور اس کی مکاری میں مندرجہ ذیل بدترین علامتیں موجود رہتی ہیں:
1: جھوٹ بولنا اور دوسرے کو دھوکہ میں رکھنا۔
2: جھوٹ بولنے اور دوسرے کو دھوکہ میں رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور یہ کہنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔(دیکھیں خمینی کے الفاظ)
3: جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کے لیے دوسرے کو حکم کرنے والے کو بھی جھوٹا اور دھوکہ باز کہا جاتا ہے۔
تو پھر تقیہ اور کتمان کے لیے یوں کہنا کہ یہ اللہ کا حکم ہے نعوذباللہ یہ خود پروردگار کی ذات عالی پر جھوٹ باندھنا ہے نعوذباللہ قرآن مجید میں جھوٹ بولنا اور الله تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا یہودیوں کی عادت بتائی گئی ہے۔
دیکھیں قرآن مجید میں ہے کہ
 

 فِىۡ  قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ‏  (سورۃ البقرۃ آیت 10)

ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ پس اللہ نے ان کی بیماری بڑھا دی اور ان کیلئے عذاب درد ناک ہے اس بات پر کہ جھوٹ کہتے تھے۔
(یہاں پر جھوٹ پر جھوٹ کو منافقین کے دل کی بیماری کہا گیا ہے اور جھوٹ منافقین کی نشانی ہے۔ دیکھیے جھوٹ کی کتنی مذمت کی گئی ہے۔

2: قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰٮةِ فَاتۡلُوۡهَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞
(سورۃ آل عمران آیت 93، 94)
صفحہ 1 از 8