تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 8

تو کہہ لاؤ تورات اور پڑھو اگر سچے ہو، پھر جو کوئی باندھے اللہ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بڑے بےانصاف۔
یہاں پر یہودیوں کی عادت بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
مذکورہ بالا آیات سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا یہ یہودیوں کی عادت ہے معلوم ہوا کہ یہودی بدترین منافق ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ حضورﷺ کے پاس سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل شدہ کتابیں موجود نہیں تھیں اگر آپﷺ کے پاس تورات موجود ہوتی تو آپ یہودیوں کو دکھا کر ان کا جھوٹ ثابت کرتے لیکن چونکہ کتابیں نہیں تھیں اس لیے ایسا نہیں کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضورﷺ کے پاس سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی کتابیں توریت و انجیل ہوتیں تو پھر یہودیوں کو حضورﷺ کے پاس آنے اور توریت و انجیل سے سوال کرنے کی جرأت بھی نہ ہوتی۔ لہٰذا  یہاں قرآن پاک شیعوں کے اس دعوے کو رد کردیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ائمہ کے پاس تمام انبیاؑء پر نازل شدہ آسمانی کتابیں موجود ہوتی تھیں اور وہ یہ کتابیں پڑھتے بھی تھے۔ چنانچہ شیعوں کی سب سے معتبر و مستند ترین کتاب اصول کافی میں ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ ہمارے پاس زبور، توریت، انجیل اور ابراہیمؑ پر نازل شدہ صحیفے بھی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ کتابیں حضورﷺ کے پاس بھی نہیں تھی تو پھر یہ حضرت علیؓ کو کہاں سے دستیاب ہوئیں؟؟؟
اور دوسرے ائمہ کے پاس کہاں سے پہنچیں اور کیسے پہنچیں؟؟؟

معلوم ہوا کہ شیعہ مذہب کے مصنفین نے یہ تمام روایات خود تراش کر اور ائمہ کے ناموں سے منسوب کر کے اس پورے مذہب کی عمارت بنائی ہے۔
مذکورہ تحریر سے جھوٹ کی مذمت اور کتمان و تقیہ کا سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہونے کے بارے میں کافی واقفیت ہوئی، اب یہ فیصلہ آپ کریں کہ کیا کتمان اور تقیہ کرنے کے لیے اللہ کا حکم ہوگا؟؟؟
یا اماموں کی تعلیم ہوگی؟؟؟
یا یہ تمام باتیں شیعہ مذہب کے مخترعین کی ایجاد کردہ ہیں جنہوں نے خود روایتیں تیار کر کے اماموں کے نام سے کتابوں میں درج کی ہیں اور یہ پورا مذہب تیار کیا ہے؟؟؟ 
شیعوں کے تقیہ سے علماء محققین نے کیا معنیٰ مراد لئے ہیں؟
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃالله کے مکتوبات جلد 2 مکتوب 36 تقیہ کے بارے میں ہے کہ

1: واین جماعت بحکم تقیہ کہ دارند اکابر اہل بیت را منافق ومخادع انگاشتہ اندوحکم کردہ اند کہ حضرت امیر تا سی سال بحکم تقیہ باخلفاء ثلاثہ صحبت نیفاق داشتہ اندوبنا حق تعظیم و توقیرایشان نمود۔

(مکتوبات: جلد 2 مکتوب 36 صفحہ 83)

اور اس (شیعہ) جماعت کے تقیہ کے سبب جو وہ خود کرتے ہیں اہل بیت کے بزرگوں کو منافق اور مکار تصور کیا ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ تقیہ کر کے پہلے 3 خلفاء کے ساتھ تیس برس تک منافقوں کی طرح وقت گزارتے رہے اور خواہ مخواہ ان کی تعظیم و عزت کرتے رہے۔ 
اس مکتوب میں حضرت دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ:

2تاسی سال دراسد اللہ این جبانت اثبات نمود و مصر بر تقیہ داشت بسیار مستکرہ است۔

30 برس تک شیر خدا میں ایسی بزدلی کا عیب ثابت کرنا کہ وہ 30 برس تک تقیہ کرتے رہے، انتہائی نفرت کی بات ہے۔
مکتوبات جلد 2 مکتوب 36 صفحہ 83
اسی مکتوب کے صفحہ 91 پر حضرت مجدد رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

3: در اثبات تقیہ تنقیص و توھین لازم است کہ این صفت از خصائص ارباب نفاق است واز لوازم اصحاب مکروخداع۔

تقیہ کو اہل بیت کے لیے ثابت کرنے میں تنقیص اور توہین ہے کیونکہ تقیہ منافقین، مکار اور دھوکہ باز آدمیوں کی خصوصیت ہے۔
(مکتوبات: جلد 2 مکتوب 36 صفحہ 91)

2: لکھنؤ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر مصطفٰی حسن علوی ماہنامہ دارالعلوم مارچ 1957 کے صفحہ4 پر اپنے ایک مضمون میں علامہ ذہبی متوفی 748ھ کی تصنیف المنتقی خلاصہ منہاج السنہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔

والرافضة یقرون بالکذب حدیثا، یقولون دیننا التقیة وھذا ھو النفاق

رافضی جھوٹ بولنے کے لیے خود قبول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے دین میں تقیہ (جھوٹ بولنا) لازمی ہے اور تقیہ کو نفاق کہا جاتا ہے۔ 
3: امام اشھب سے روایت ہے کہ حضرت امام مالک رحمۃاللہ سے رافضیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا

لا نکلمھم ولا ترو عنھم فانھم یکذبون

(المنتقی من منہاج السنۃالنبویہ: صفحہ 31)

رافضیوں سے بات نہ کر نہ ہی ان سے روایت بیان کر کیونکہ وہ جھوٹے ہیں۔
4: حضرت امام حرملہ متوفی 243ھ کا بیان ہے کہ حضرت امام شافعیؒ نے فرمایا؛

لم ارا احدا اشھد بالزور من الرافضة (المنتقی: صفحہ 31)

گواہی دینے میں مجھے رافضیوں سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نظر نہیں آیا 

5: فتنہ ابن سبا المعروف بہ تاریخ مذہب شیعہ کا مصنف کہتا ہے:
"تقیہ کا دوسرا نام ہے جھوٹ، اس جھوٹ میں فریب، مکاری، وعدہ خلافی وغیرہ شامل ہیں۔ 
تقیہ کیا ہے نیز اس لفظ کے معنیٰ مفہوم اور حقیقت کہ یہ لفظ مذہب شیعہ میں جھوٹ، دغا، فریب اور منافقت کا دوسرا نام ہے امید ہے کہ آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے مصنفین کو تقیہ اور کتمان ایجاد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

صفحہ 2 از 8