تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 8

سوال: شیعہ مذہب کے ایجاد کرنے والوں کو کتمان اور تقیہ کو اہم اصول اور عقیدہ بتانے کی ضرورت کیسے پیش آئی؟
جواب: 1: اس کے بارے میں ماہنامہ میثاق لاہور اپریل 1985ء کے شمارے میں بعنوان "کیا ایرانی انقلاب اسلامی انقلاب ہے" میں لکھا  ہے"کہ ایک طرف تو اہل تشیع ائمہ کو مامور من اللہ اور معصوم تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف تاریخ سے خواہ وہ سنیوں کی مرتب کردہ ہو یا شیعوں کی جب انہیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ بات معروف و مسلم ہے کہ حضرت علیؓ سے لیکر حضرت حسن عسکریؒ تک کسی نے بھی عملاً عام مسلمانوں کے کسی بڑے اجتماع میں اپنی امامت اور اپنے حق ولایت و خلافت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت علیؓ نے تینوں خلفائے راشدین حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ہاتھ پر برضا ورغبت بیعت کی ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون فرماتے رہے، حضرت عمرؓ کے عقد میں اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کو (جو حضرت فاطمۃالزہراؓ کی لخت جگر تھیں) دیا تھا حضرت حسنؓ نے رضاکارانہ طور پر خلافت سے دستبرداری اختیار کی اور حضرت امیر معاویہؓ سے بیعت خلافت کر لی۔ حضرت حسینؓ اور حضرت علیؓ کے دیگر تمام خانوادوں نے بھی امیر معاویہؓ سے بیعت سمع و اطاعت کر لی اہل تشیع کی وہ تمام باتیں ریت کی بنیادیں ثابت ہو جاتی ہیں جن پر حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل اور ان کی فاطمی اولاد میں ائمہ معصومین کے تسلسل کے عقیدے کی عمارت تعمیر کی گئی ہے لہٰذا اس حقیقت کو جو ان کے عقیدے کا تضاد ثابت کرتی ہے باطل قرار دینے کے لیے یہودی سبائی ذہنیت نے جو دراصل شیعت کی بانی ہے شیعہ مذہب کے لیے کتمان اور تقیہ کے اصول وضع کئے ہیں کتمان کا مطلب ہے اصل عقیدہ اور مذہب و مسلک کو چھپانا اور دوسروں پر ظاہر نہ کرنا اور تقیہ کا مطلب ہوتا ہے اپنے عقیدے اپنے مذہب و مسلک اور ضمیر کے خلاف کوئی بات کہنا اور کوئی عمل کرنا اور اس طرح دوسروں کو دھوکہ اور فریب میں مبتلا کرنا یہ دونوں امور ان کے مذہب کے مطابق اعلیٰ درجہ کی نیکی اور اجر و ثواب کے مستوجب ہیں۔(ماہنامہ میثاق اپریل 1985)

2: نواب محسن الملک مہدی علی خان ولد سید ضامن علی ایک معروف شیعہ خاندان میں پیدا ہوا اور آگے چل کر شیعوں کا بڑا عالم بنا ایک عرصہ تک شیعہ مذہب کی ترویج و اشاعت کرتا رہا لیکن بعد میں آپ کے اوپر شیعہ مذہب کے بطلان کی حقیقت منکشف ہوگئی اور آپ اس مذہب کو ترک کرکے اہل سنت و الجماعت سنی مذہب یعنی "مذہب اسلام" میں داخل ہو گئے اس بات کے اوپر آپ اپنے پورے خاندان سے کٹ گئے اور آپ کو بہت کچھ تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔ آپ نے شیعوں پر حجت قائم کرنے کے لیے اور شیعیت کا بطلان ظاہر کرنے کے لیے ایک معرکۃ الآرا لاجواب کتاب  "آیات بینات"  کے نام سے لکھ دی یہ مہتم بالشان کتاب دو جلدوں میں ہے اور اس کا آج تک شیعہ دنیا کے کسی مجتہد نے مدلل انداز میں جواب نہیں دیا چنانچہ نواب محسن الملک محمد مہدی خان صاحب
 آیات بینات جلد دوم کے صفحہ 351 پر تقیہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔
اور مذہب تشیع کی جڑ مضبوط کی جائے تب ایک نہایت ہی سچا اور صاف اور عمدہ دلچسپ اصول قائم کیا یعنی ظاہر کا باطن سے مخالف ہونا اور جھوٹ بولنا مگر چونکہ یہ لفظ نہایت ثقیل اور مکروہ تھا اور اگر اسی کو عقیدہ میں داخل کرتے تو جو سنتا وہ اس لفظ کے سنتے ہی نفرت کرتا اس لیے اس کی حقیقت کو ایک خوشنما اور خوبصورت لفظ کے پردے میں ظاہر کیا اور جھوٹ بولنے اور ظاہر کا باطن سے مخالف ہونے کا نام تقیہ رکھا۔ (آیات بینات جلد دوم :صفحہ 351)

اس  کے بعد نواب صاحب لکھتے ہیں کہ:

بڑی بڑی فضیلت کی حدیثیں اماموں کی زبان سے شیعوں کی کتابوں سے سنیوں نے نکالیں اور اپنے خلفاء کی بزرگی اور فضیلت پر سند لائے اپنے نزدیک شیعوں کو لاجواب کرنا چاہا مگر ایک ادنیٰ طالب علم بلکہ جاہل شیعہ نے جواب دے دیا کہ یہ حدیث تقیہ کے سبب سے امام نے فرمائی ہے اور بڑے بڑے متکلمین فقہاء کو شیعوں کی ایسی دلیل سے چپ کروا دیا حقیقت میں جو فائدہ مذہب تشیع کو تقیہ کے سبب سے ہوا ہے اور جو حفاظت ان کی اس روش سے ہوئی ہے وہ کسی دوسرے عقیدے سے نہیں ہوئی۔ (آیات بینات: جلد دوم :صفحہ 352)

تقیہ کی ضرورت کیوں سمجھی گئی اسکی حکمت نواب صاحب یوں بیان کرتے ہیں اگر تقیہ کا اصول مذہب تشیع میں نہ ہوتا تو مذہب ہی خاک میں مل جاتا ایک قول کی دوسرے قول سے اور ایک فعل کی دوسرے فعل سے اور ایک حدیث کی دوسری حدیث سے بسبب تخالف اور تناقض کے مطابقت نہ ہو سکتی اور سب کا جھوٹ اور غلط ہونا کھل جاتا پس نہایت ذکی اور ذہین تھا وہ شخص (عبداللہ بن سباء) جس نے مذہب تشیع کو ایجاد کیا کہ جھوٹ کو جھوٹ سے بچایا تقیہ کی وہ گرم بازاری ہوئی اور اس عقیدہ باطل کو ایسی رونق دی گئی کہ امام اول سے لیکر امام آخر زمان تک سب کی زبان سے اس کی فضیلت میں احادیث نقل کی گئیں اور تقیہ کرنے والوں کے بڑے درجے مقرر کیے گئے۔ (آیات بینات: جلد دوم)

3: حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ قدسہ العزیز بانی دارالعلوم دیوبند اپنی کتاب "ہدیۃالشیعہ" میں لکھتے ہیں:
آفرین ہے ان لوگوں کی ہوشیاری پر جن کا یہ دین ساختہ پرداختہ (گھڑا ہوا) ہے ایسی نامعقول باتوں کا بجز تقیہ کے رواج ہو ہی نہیں سکتا اگر سنیوں نے کلام اللہ کا حوالہ دیا تو عذر کیا، اماموں کا قول پیش کیا تو تقیہ سے الزام دیا۔
(ہدیۃالشیعہ: 157،158)

4: فاتح رافضیت حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمۃاللہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف "تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین" میں فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 3 از 8