تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 8

"ہر معاشرے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو گہری عقیدت کے باوجود تحقیق کے عادی ہوتے ہیں اس لیے کچھ لوگوں نے ان روایات کو ائمہ کے سامنے پیش کرنا اور ان سے تصدیق کروانا شروع کر دیا چنانچہ ائمہ نے جھوٹی اور من گھڑت روایات کی تکذیب شروع کر دی اور شیعہ پر لعنت کرتے رہے اس کا سبائی گروہ نے مطلب یہ نکالا کہ امام تقیہ کرتے ہیں عوام کے سامنے سنی ہوتے ہیں وہی نماز پڑھتے ہیں مگر درحقیقت شیعہ ہوتے ہیں اور پوشیدہ طور پر ہمیں شیعہ مذہب کی تعلیم دیتے ہیں پھر تقیہ کے فضائل بیان کرتے کرتے بات یہاں تک پہنچا دی کہ تقیہ ہی اصل دین ہے اور دین اسلام کا 9/10 حصہ تقیہ میں پوشیدہ ہے یعنی جو آدمی تمام عبادات کا پابند ہے فضائل اخلاق کا حامل ہے مگر تقیہ نہیں کرتا یعنی جھوٹ نہیں بولتا تو وہ 9 حصے دین ضائع کرتا ہے، اس عقیدہ کی وجہ سے شیعہ مذہب دنیا کے تمام مذاہب میں ممتاز نظر آتا ہے ہر مذہب میں خواہ وہ آسمانی مذہب ہو یا غیر آسمانی جھوٹ بولنا برا سمجھا جاتا یے اور بنیادی انسانی اخلاقیات میں جھوٹ کو رذائل میں شمار کیا جاتا ہے مگر شیعہ مذہب میں اسے عبادت سمجھا جاتا ہے۔

(تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین: صفحہ 22)

کتمان اور تقیہ کی تائید اور فضیلت میں ائمہ کی طرف منسوب کردہ روایات:
یہ بات ذہن میں رہے کہ شیعوں کی تمام کتابوں میں سے چار کتابیں بہت معتبر و مستند ترین مانی جاتی ہیں:
1: اصول کافی
2: تہذیب الاحکام 
3: الاستبصار 
4: من لایحضرہ الفقیہ 
پھر ان چار کتابوں میں سے اصول کافی کا درجہ سب سے بڑا ہے اور بہت ہی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کتاب پر شیعوں کے متفق علیہ عقیدہ کے مطابق امام غائب یعنی امام مہدی امام العصر جو کہ ساڑھے گیارہ سو برس سے سر من رائی غار میں بغداد کے قریب خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی روپوشی میں گذار رہا ہے اور کسی کو بھی نظر نہیں آتا اس کی رضامندی کا سرٹیفکیٹ ریکارڈ کیا ہوا ہے صفحہ428 پر میرے پاس اصول کافی ہے جس میں یہ دو ابواب بھی ہیں۔ 
1: باب التقیہ
2: باب الکتمان

ان دونوں ابواب میں جھوٹ بولنے اور ظاہری زندگی کو باطن کے خلاف گزارنے کے لیے بڑے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں اور جھوٹ نہ بولنے اور ظاہر کو باطن کے خلاف نہ رکھنے پر ذلیل اور رسوا ہونے کی سخت وعیدیں مذکور ہیں یہ تمام روایات ائمہ کی طرف منسوب کردہ ہیں ان ابواب میں سے چند روایتیں پیش کی جاتی ہیں۔

 1: عن أبي عمر الأعجمي قال: قال لي أبو عبد الله (عليه السلام): يا أبا عمر إن تسعة أعشار الدين في التقية ولا دين لمن لا تقية له والتقية

ترجمہ:  ابی عمر عجمی سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا اے ابوعمر دین کے 10 حصوں میں سے 9 حصے تقیہ (یعنی جھوٹ بولنے اور دوسرے کو دھوکہ دینے) میں ہیں اور جو آدمی تقیہ نہ کرے تو اس کا کوئی دین نہیں 
( اصول کافی عکس 464 پر ملاحظہ فرمائیں۔)
معلوم ہوا کہ تقیہ یعنی جھوٹ بولنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے میں دین کے 9 حصے موجود ہیں اور باقی ایک حصہ جس میں دوسرے تمام اعمال ہیں۔ یہ ایک حصہ جس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ آجاتے ہیں وہ اگر نہ بھی ادا کئے جائیں تو کوئی پرواہ نہیں شاید یہی سبب ہے کہ عام طور سے شیعہ نماز، روزہ، زکوٰۃ سے اکثر غافل نظر آتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ دین کے دسویں حصہ میں ہے البتہ شیعہ مذہب کے 9 حصوں یعنی تقیہ اور کتمان کے باقاعدہ پابند نظر آتے ہیں اور یہی ان کا اصل دین ہے اور سمجھنا بھی چاہیے۔

1:قال ابوجعفرؑ التقیۃ من دینی ودین آبائی ولا ایمان لمن لا تقیۃ له۔

ترجمہ: امام محمد باقر ع نے فرمایا کہ تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے اور جو تقیہ نہ کرے وہ بےایمان ہے۔ (نعوذباللہ) 
(اصول کافی: 484 اس کا عکس دیکھیں صفحہ 465)
یہ روایت ایسی معتبر ترین کتاب کی ہے جس کے لیے شیعہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب امام غائب نے دیکھی اور پڑھ کر پسند فرمائی اور اس کتاب پر امام العصر غائب مہدی کے الفاظ ھذا کاف لشیعتنا یعنی یہ کتاب ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے بطور سند تحریر شدہ ہیں۔

3: قال أبو عبد الله (عليه السلام): يا سليمان إنكم على دين من كتمه أعزه الله ومن أذاعه أذله الله ۔

ترجمہ: امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ اے سلیمان! تم شیعہ ایسے دین پر کہ جو شخص کتمان کریگا (یعنی اپنا دین چھپائے گا) تو اللہ تعالیٰ اس کو عزت سے نوازے گا اور جو اس کو ظاہر کرے گا اللہ  تعالیٰ اسکو ذلیل و خوار کرےگا۔

(اصول كافی: جلد 2 صفحہ 222)

حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت شیعہ مذہب کی سو فیصد ترجمانی کرتی ہے کیونکہ شیعہ مذہب کے عقائد جیسے تحریف قرآن کا عقیدہ، امامت کا عقیدہ، حضورﷺ کے اہل بیت ازواج مطہراتؓ اور صحابہ کرامؓ پر تبرا کرنے کا عقیدہ، کتمان اور تقیہ کا عقیدہ، امام العصر امام غائب مہدی کی رجعت کا عقیدہ، اور متعہ کا عقیدہ وغیرہ وغیرہ 
ایسے عقائد ہیں جو اگر کوئی شیعہ ان کو غیر مذہب کے آگے ظاہر کرے گا تو وہ بیشک ذلیل و خوار ہوگا لہٰذا  شیعہ مذہب اور ان کے پیروکاروں کی سلامتی اور عزت اسی میں ہے کہ وہ یہ دین غیر شیعہ لوگوں پر ظاہر نہ کریں۔

4: عن ابن ابی یعفور قال قال ابوعبداللهؑ من اذاع علینا حدیثنا سلبه اللّٰہ الایمان۔

( اصول کافی باب الاذاعتہ 551 فوٹو 468)

ترجمہ: عبداللہ بن ابی یعفور کہتا ہے کہ امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ جو ہماری حدیث ظاہر کرے گا تو الله تعالیٰ اس کا ایمان سلب کر لے گا۔
اس روایت میں فی الحقیقت شیعہ مذہب کو غیر شیعہ مذہب سے مخفی رکھنے کے راز کی نشاندہی ملتی ہے کہ وہ اپنے اصلی عقیدہ کو کیوں غیر شیعوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔ شیعہ اثناء عشریہ کے موجودہ دور کا امام العصر امام مہدی غائب کا نائب یا خلیفہ خمینی تقیہ کی تصدیق میں لکھتا ہے:

4: ثانیھا التکفیر وھو وضع احدی الیدین علی الاخری نحو ما یصنعه۔

(التقیة تحریر الوسیلہ: جلد اول 186 فوٹو 534)

ترجمہ: دوسرا عمل جو نماز کو باطل کرتا ہے وہ نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھنا ہے، جس طرح شیعوں کے سوا دوسرے تمام کرتے ہیں لیکن تقیہ کی حالت میں جائز ہے۔ 

5: تاسعا تعمد قول آمین بعد إتمام الفاتحۃ الا مع التقیة فلا بأس به کالساھی
صفحہ 4 از 8