تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 8
(تحریر الوسیلۃ: جلد اول 190 فوٹو 535)

ترجمہ: اور نویں چیز جس سے نماز باطل ہوتی ہے وہ ہے سورة فاتحہ پڑھنے کے بعد قصداً آمین کہنا لیکن تقیہ کے خیال سے جائز ہے اور کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 
یہاں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ جس مذہب میں اللہ کی سب سے افضل ترین عبادت یعنی نماز کے ذریعہ بھی دوسروں کو فریب دینے کی تعلیم دی گئی ہو۔

کیا وہ اللہ کا پسندیدہ مذہب ہو گا؟
کیا یہ نبی کا دین ہو گا؟

آپ اگر شیعوں کو کہیں کہ حضرت علیؓ نے پہلے تین خلفاء کرامؓ سے رضا و خوشی سے بیعت کی تھی اور چوبیس برس تک ان کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے اور آپ کے خلفاء ثلاثہؓ سے ایسے خوشگوار تعلقات رہے کہ اپنی اور سیدہ فاطمۃالزہراءؓ کی لخت جگر سیدہ ام کلثومؓ حضرت فاروق اعظمؓ کے عقد نکاح میں دی پھر تم کیسے کہتے ہو حضرت علیؓ پہلے 3 خلفاء کو معاذ الله کافر اور مرتد سمجھتے تھے؟
تو یہ لوگ جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ حضرت علیؓ کا تقیہ تھا نہ صرف یہ بلکہ شیعہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ تقیہ کے اتنے پابند تھے کہ آپ کی اپنی خلافت میں اصل قرآن جو آپ نے ہی جمع کیا تھا اور وہ اس موجودہ قرآن کے خلاف تھا وہ بالکل ظاہر نہ کیا اور پہلے 3 خلفاء والے قرآن کو خود پڑھتے رہے، پڑھانے کا انتظام کرتے رہے اور اس پر عمل کرتے رہے اسی طرح دیگر تمام ائمہ کرام ساری زندگی تقیہ کرتے رہے اور غیر شیعوں سے اپنا اصل مذہب چھپاتے رہے۔ 

 تقیہ اور کتمان کا قرآنی تعلیمات سے تقابل

1: وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏۞(سورہ ھود آیت 113)

اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔
2: هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ۔ 
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ بُرا مانیں مشرک۔
ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے حضورﷺ کو بھیجا ہی اس لئے تھا کہ آپﷺ دین اسلام کو تمام مذاہب پر غالب کریں اور ظاہر کریں، چنانچہ حضورﷺ نے ابتدا سے ہی بالکل تنہا ہوتے ہوئے بھی تمام دشمنوں کے سامنے دین کا اعلان حق کیا اور پوری عمر میں کبھی بھی کتمان اور تقیہ نہیں کیا اگر آپﷺ تقیہ کرتے تو آپﷺ کی پاکیزہ زندگی مبارکہ میں آپﷺ کو تکالیف پیش نہ آتیں اور آپﷺ کیوں ہجرت فرماتے اور کیوں اپنے صحابہ کرامؓ کو اپنے گھر بار اولاد وغیرہ سے جدا کر کے ہجرت کا حکم فرماتے؟
حضورﷺ اور ائمہ کرام کی طرف منسوب کردہ تقیہ کے چند عملی ثبوت بطور نمونہ
اب یہاں یہ لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب کے مصنفین نے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ آپﷺ اور ائمہ حضرات تقیہ کرتے تھے اسکے بارے میں بھی انہوں نے بہت سارے جھوٹے قصے بیان کئے ہیں تاکہ اس فعل بد یعنی تقیہ اور نفاق کو حضورﷺ اور ائمہ حضرات کہ طرف سے اہم اصول اور عقیدہ تسلیم کیا جائے چنانچہ اس کے سلسلے میں شیعہ مصنفین یہ بتاتے ہیں کہ حضورﷺ اور ائمہ حضرات نے فلاں فلاں جگہ تقیہ کیا ہے اور تقیہ ان کا اہم اصول اور عقیدہ تھا ثبوت کے لیے بطورِ نمونہ چند مثالیں لکھی جاتی ہیں:

1: عن ابی عبداللہؑ قال لما کان عبداللہ بن ابی بن سلول حضرت النبیﷺ جنازته فقال عمر لرسول اللّٰهﷺ ینھك اللّٰہ ان تقوم علی قبره فسکت، یا رسول اللّٰہ الم ینھك اللّٰہ ان تقوم علی قبره،؟ فقال له ویلک ومایدریک ماقلت، انی قلت اللھم احشر بطنہ نارا واملاء قبره واصله نارا قال أبو عبداللہؑ فابدا من رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ واله وسلم ماکان یکره

(فروع کافی: جلد 2 صفحہ 188عکس دیکھیں 472 پر)

یعنی امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو حضورﷺ اس کے جنازہ پر گئے اس وقت عمر نے کہا کہ یارسول اللہﷺ کیا الله نے آپ کو اس کی قبر پر کھڑے ہونے سے نہیں روکا؟ رسول اللہﷺ نے اس کا جواب نہیں دیا پھر عمر نے پوچھا یارسول اللہﷺ کیا اللہ نے آپ کو اس کی قبر پر کھڑے ہونے سے نہیں روکا پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عمر تجھے کیا خبر کہ میں نے کس طرح دعا کی؟ میں نے یہ دعا کی اے اللہ اس کے پیٹ میں آگ بھر دے اس کی قبر میں آگ بھر دے؛ اور اس کو دوزخ میں بھیج۔ پھر امام جعفر نے فرمایا کہ عمر نے رسول اللہﷺ کا یہ راز ظاہر کیا جس کو ظاہر کرنا نبیﷺ نے برا سمجھا تھا۔ 

2: عن ابی عبداللہؑ ان رجلا من المنافقين مات فخرج الحسین بن علی صلوة اللّٰہ علیھما یمشی معه مولی له فقال له الحسین علیہ السلام این تذہب یافلاں فقال لہ مولاہ افر من جنازة ھذا المنافق ان اصلی علیھا فقال له الحسینؑ انظر ان تقوم علی یمینی فما تسمعنی اقول فقل مثله فلما ان اکبر علیہ ولیہ قال الحسینؑ اللّٰہ اکبر اللھم العن فلانا عبدك الف لعنة مؤتلفة غیر مختلفة اللہم اخز عبدك فی عبادك وبلادك واصلہ حر نارك واذقہ عذاب الشدید فانہ تولی من اعدائک وتعادی من اولیائک ویبغض اھلبیت نبیک۔

(فروع کافی جلد 3 189 عکس473پر)
صفحہ 5 از 8