تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 8

یعنی امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص مر گیا تو امام حسین ع کو ان کا غلام ملا۔ امام حسین ع نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جاتے ہو؟ اس نے کہا اس منافق کی نماز جنازہ سے بھاگ رہا ہوں، امام حسین ع نے اس کو کہا تو اس کی نماز میں میرے دائیں طرف کھڑے ہونا اور میرے پڑھنے کو سننا اور جو کہوں تو بھی وہ کہنا پھر جب ولی نے تکبیر کہی تو امام حسین ع نے الله اکبر کے بعد اس طرح کہنا شروع کیا؛ اے اللہ اس اپنے بندے پر لعنت کر ہزار لعنتیں جو اکھٹی ہوں اور الگ الگ ہوں اے اللہ اس بندہ کو اپنے بندوں اور شہروں میں ذلیل کر اور اپنی آگ کے جلانے سے اس کو جلا اور اپنے عذاب کی سختی اسکو چکھا بیشک یہ ان میں سے تھا جو تیرے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں اور تیرے نبیﷺ کے اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں 
فروع کافی کی جلد سوم کے باب الصلوٰۃ علی الناصب میں 7 روایات دی گئی جن میں غیر شیعوں پر نماز جنازہ پڑھنے اور ان پر مختلف بددعائیں کرنے کا ذکر تاکید سے موجود ہے۔
مذکورہ دونوں روایتوں میں سے پہلی روایت میں حضورﷺ اور دوسری روایت سے حضرت حسینؓ سے منافقین اور ان کی منافقی کی تائید ہوتی ہے۔ ان روایتوں میں منافقین اور مؤمنین صادقین کو دھوکہ میں رکھا گیا ہے مسلمانوں کو دھوکہ اس لیے کہ نبیﷺ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ دوسرے بہت سے مسلمانوں نے بھی اب جنازوں میں شرکت کی ہوگی اور پھر حضورﷺ اور حضرت حسینؓ نے ان اموات کے لیے مخفی طور پر بددعا کی اور بظاہر دعا کا نمونہ دکھلایا یعنی کتمان اور تقیہ کیا (نعوذباللہ)۔ دوسرے مسلمانوں نے ظاہر اور باطن دونوں طریقوں سے دعا کا طریقہ اور عمل قائم رکھا اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مذہب کے مصنفین نے جھوٹ اور دھوکہ اور فریب کی ایسی داستانیں اور ایسے واقعات خود تراش کر حضورﷺ اور ائمہ کرام سے اس لیے منسوب کیے ہیں تاکہ شیعہ میں کتمان اور تقیہ کے عقیدہ کو حضورﷺ اور ائمہ کرام کی زندگیوں سے ثابت کر سکیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا چنانچہ جو شیعہ کسی دنیوی تعلقات کی بنا پر سنیوں کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں تو وہ ان روایتوں کی بنیاد پر میت کے لیے بددعا کرتے ہیں۔
ورنہ کسی شیعہ کو کسی سنی کے جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں فتویٰ کے الفاظ یہ ہیں:
 لہٰذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام ان کا چندہ مسجد میں لینا ناروا ہے ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں ہے، ان کی مذہبی تعلیم ان کی کتابوں میں یہ ہے کہ سنیوں کے جنازہ میں شریک ہو کر یہ دعا کرنا چاہیے کہ یاالله اس کی قبر کو آگ سے بھر سے اور اس پر عذاب نازل کر
(دیکھیے باب دوازدہم)

6: علامہ مجتہد العصر سید عرفان حیدر عابدی موسوی کی شیعت سے توبہ اور سنی مذہب اختیار کرنے کے بارے میں موصوف سے ایک انٹرویو
شیعہ رہنما اور قائد فقہ جعفریہ علامہ سید حامد علی موسوی کے صاحبزادہ سید عرفان حیدر عابدی جو کہ پہلے شیعہ مذہب کے عالم اور مجتہد تھے وہ شیعیت سے تائب ہو کر سنی مذہب میں داخل ہو گئے تھے انہوں نے کہاں تعلیم حاصل کی اور کہاں کہاں شیعیت کی تبلیغ کی اور شیعیت کو چھوڑنے کے اسباب و علل کیا تھے وغیرہ وغیرہ۔
یہ تمام باتیں آپ سے لئے گئے ایک انٹرویو میں موجود ہیں یہ انٹرویو ماہنامہ البلاغ کراچی بابت رمضان المبارک 1405ھ مطابق جون 1985 میں موجود ہے علامہ عرفان حیدر عابدی نے شیعیت کو چھوڑا اور سنی مذہب اختیار کیا اس کا ذکر روزنامہ جنگ لاہور 9 اگست 1984ء میں موجود ہے یہاں پر علامہ سے لئے گئے انٹرویو سے صرف کچھ سوالوں کے جواب ذکر کئے جاتے ہیں باقی تفصیل کیلئے البلاغ رمضان المبارک 1405ھ کا مطالعہ کیا جائے وہ سوال اور جواب اسطرح ہے:
 سوال: آپ کن وجوہات کی بنا پر شیعہ مذہب کو ترک کرنے پر مجبور ہوئے؟
 الجواب: شیعہ مسلک کا مبلغ ہونے کے باوجود مجھے شرح صدر حاصل نہیں تھا اس لئے میں علماء اہلسنت کی کتب کا بھی مطالعہ کرتا تھا علمائے دیوبند میں سے بعض بزرگوں کی کتابوں سے زیادہ متاثر ہوا اور چند اہم وجوہات جن کی وجہ سے میں اس مذہب کو باطل یقین کرتے ہوئے تائب ہونے پر مجبور ہوا یہ ہیں
1: 21 رمضان المبارک کو شیعہ حضرات حضرت علیؓ کا جنازہ نکالتے ہیں گذشتہ رمضان میں جب یہ رسم ادا ہو رہی تھی تو حسب سابق مبلغین و ذاکرین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی تو اس وقت سب نے اصحابؓ رسولﷺ پر تبراء شروع کر دیا میں نے کہا کہ میں نے جس قدر تحقیق کی ہے ہمارے کسی امام نے ان حضرات پر لعنت نہیں بھیجی تو اس وقت میرے والد صاحب سید حامد علی موسوی جو آجکل رافضیوں کے ایک گروپ کے قائد ہیں فرمانے لگے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے تولا اور تبراء ہمارے مذہب کا ایک اہم جزء اور حصہ ہیں تو اس پر میں نے والد صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر سب کیا لیکن جب حضرت عمرؓ پر تبراء شروع کیا تو میری زبان بند ہوگئی اور کافی دیر تک میری زبان بند رہی اور کافی دیر تک میری قوت گویائی سلب رہی میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے توبہ کرنے اور خدا سے معافی مانگنے پر میری زبان نے دوبارہ بولنا شروع کیا تو اس پر میرا یقین کامل ہوا کہ اصحاب رسولﷺ سچے ہیں اور یہ ابن سباء یہودی کی نسل اپنے اس ملعون عمل سے اہل بیت کو بھی بدنام کر رہی ہے۔

2: شیعہ حضرات ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور حفصہؓ پر لعنت بھیجتے ہیں میں نے سوچا کہ معاذاللہ اگر یہ عورتیں اتنے برے کردار کی مالک تھیں تو خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان سے شادی کرنے سے کیوں نہ روکا تحقیق سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ ایک یہودیانہ سازش کا نتیجہ ہے۔ 
3: اہل تشیع قرآن مجید کو تحریف شدہ تصور کرتے ہیں اور یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ 
4: شیعہ مبلغین اور ذاکرین اپنے مذہب کی تبلیغ رقم طے کرکے سرانجام دیتے ہیں ہاں میں ان کے اس عمل سے شدید بدظن ہوا۔
5: میں نے شیعہ مذہب کے مبلغین اور ذاکرین کی اکثریت کو جو دعویٰ "محبان اہلبیت" کہلانے کا کرتے ہیں فسق و فجور میں مبتلا پایا۔
ماہنامہ البلاغ کراچی جون 1985

 مذکورہ انٹرویو میں 5 باتیں بیان کی گئیں

اب آپ بتائیں آپ کی عمر کتنی ہے؟

صفحہ 6 از 8