تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں - ردِ رافضیت | دفاع…

تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 8

اگر آپ جواب میں ہاں کہتے ہیں تو صحیح ورنہ اگر جواب نفی میں ہے تو بتائیں آپ کو یہ خبر کیوں نہیں؟
کیا شیعہ پاکستان میں نہیں رہتے؟
آپ جس ضلع، تحصیل یا بستی میں رہتے ہیں کیا وہاں کوئی شیعہ نہیں ہے؟
تو آپ لازم یہ کہیں گے کہ شیعہ تو برابر، ہمارے درمیان موجود ہیں لیکن ہمیں خبر نہیں کہ وہ رمضان المبارک میں ایسا کرتے ہیں یہ خبر آپ کو کیوں نہیں؟ 
دوستو! آپ کو یہ خبر نہ ہونا شیعوں کی تقیہ اور کتمان ہی کی کار فرمائی کا نتیجہ ہے شیعوں کے اصل میں جو عقائد ہیں قرآن و سنت نبوت اور ختم نبوت کے بارے میں "بدا" یعنی (اللہ سے غلطی اور بھول ہونے کے بارے میں) بیت الله اور کربلا کے بارے میں امام غائب، رجعت اور تبراء، لعنت کرنے وغیرہ کے بارے میں ان تمام عقائد کو غیر شیعوں سے مخفی رکھنے کا نام تقیہ اور کتمان ہے مختصر عبارت میں کتمان اور تقیہ کی تعریف یوں ہو گی کہ شیعہ مذہب کے ہر عقیدہ اور عمل کو غیر شیعوں سے مخفی رکھنے کو تقیہ کہا جاتا ہے اب آپ کی مرضی اسکو جھوٹ، مکاری، منافقت وغیرہ کہیں یا کچھ اور لیکن شیعہ مذہب میں تو یہ اہم عبادت ہے جس میں دین کے 9 حصے آجاتے ہیں اور ان کے مذہب کی بقاء اور ترقی کا راز ہی تقیہ میں ہے یہ تقیہ ہی ہے جو شیعہ مذہب کے ذاکروں اور خطیبوں کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر حق بات کرنے سے روک رہا ہے چنانچہ یہ لوگ عوام کے سامنے اپنا صحیح عقیدہ بیان نہیں کرتے۔
7: دو نو عمر بھائیوں محمد ارتضیٰ اور محمد مرتضی کا شیعیت سے تائب ہو کر سنی مذہب قبول کرنے کا واقعہ
نامور مفکر و ادیب علامہ سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃاللہ اپنی مایہ ناز تصنیف سیرت سید احمد شہیدؒ مطبوعہ 1941ء کے صفحہ350 سے 382 پر لکھتے ہیں:
ایک مرتبہ آپ (حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ) نے اعلان فرمایا کہ کل ہم شیعوں کی عیدگاہ میں وعظ کہیں گے چنانچہ آپ حسب اعلان وعظ کہنے کے لیے عید گاہ تشریف لے گئے، اس اعلان کی اطلاع عام طور پر ہوگئی تھی، اس لیے دونوں فریق کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور بڑا مجمع ہو گیا، مولانا (شاہ اسماعیل شہیدؒ منبر پر تشریف لائے اور وعظ شروع کیا، وعظ میں آپ نے مذہب تشیع کی خوب دھجیاں اڑائیں، اس وعظ میں 2 نو عمر لڑکے آپس میں بھائی تھے جن میں سے ایک کا نام محمد ارتضیٰ اور دوسرے کا نام محمد مرتضیٰ تھا، مولانا کے قریب ہی دونوں بیٹھے ہوئے تھے ان پر اس وعظ کا اثر ہوا اور ان میں سے چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی سے کہا کہ مولانا کی تقریر سن کر میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ اس شہر میں ہماری حکومت ہے اور یہ شخص جو مذہب تشیع کی اس بے باکی سے تردید کر رہا ہے محض ایک معمولی اور دبلا پتلا آدمی ہے نہ کہیں کا بادشاہ ہے نہ نواب، نہ ہی اس کے پاس فوج ہے نہ ہی ہتھیار پھر باوجود اس بےکسی و بےبسی کے جو یہ اس قدر جرأت دکھلا رہا ہے تو وہ کونسی بات ہے جو اسے اس بےباکی و سرفروشی پر امادہ کر رہی ہے وہ صرف اس کا ایمان ہے اب ہم اپنے ائمہ پر نظر کرتے ہیں ہمارے ائمہ ہمارے مذہب کی روایات کے مطابق اس قدر قوی اور شجاع تھے کہ ان کی قوت کو نہ کسی فرشتے کی قوت پہنچتی تھی اور نہ جن کی اور اسکے ساتھ ہی وہ تقیہ بھی اس قدر کرتے تھے کہ مخالف تو درکنار خود اپنے شیعوں سے بھی صاف بات نہ کہتے تھے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ مذہب تشیع تو کسی طرح حق نہیں ہو سکتا کیونکہ یا تو اس کی بہادری کے افسانے جھوٹے ہیں یا ان کی تقیہ کی کہانی جھوٹی ہے اب صرف دو مذہب سچے ہوسکتے ہیں یا مذہب خوارج کا جو ائمہ کو کافر سمجھتے ہیں یا مذہب اہل سنت و الجماعت جو کہتے ہیں کہ ائمہ نہایت راست گو اور نہایت ایمان دار تھے اور ان کی شان "لا یخافون فی اللّٰہ لومة لائم" تھی اور ان کا مذہب وہی تھا جو اہلسنت کا مذہب ہے اور جو باتیں ان کی طرف شیعہ منسوب کرتے ہیں وہ ان کا افتراء ہے اور جب مذہب تشیع بالکل افسانہ ثابت ہوا اور حق ظاہر ہو گیا خوارج اور اہل سنت کے مذہب کے درمیان تو پھر جب میں ان دونوں مذہبوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں تو مجھے اہل سنت کا مذہب اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا کہ مجھے بھی یہی خیال آتا ہے جب وہ دونوں متفق ہو گئے تو چھوٹا بھائی اٹھا اور کہا مولانا ذرا منبر سے اتر آئیے مجھے کچھ عرض کرنا ہے مولانا سمجھے کہ شاید میری تردید کرنی ہے یہ خیال کر کے آپ نیچے تشریف لے آئے۔ اس لڑکے نے منبر پر جا کر اپنا شبہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا اور کہا کہ اگر کسی کے پاس اس کا جواب ہو تو اس کا جواب دے دیں ورنہ میں مذہب شیعہ سے تائب ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میرا بڑا بھائی بھی تائب ہو گا اس مجمع میں مجتہدین بھی تھے مگر کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس نے پھر کہا کہ یا تو کوئی صاحب جواب دیں ورنہ میں سنی ہوتا ہوں اس کا بھی کچھ جواب نہ ملا آخر وہ منبر پر سے اترا اور مولانا سے عرض کیا کہ میں اپنا کام کر چکا آپ وعظ فرمائیں
مولانا نے فرمایا کہ وعظ سے جو میرا مقصود تھا وہ حاصل ہو گیا اور جو تقریر تم نے کی میں ایسی نہ کرتا اس لئے اب مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہی یہ دونوں لڑکے کسی بڑے وثیقہ دار کے لڑکے تھے جب یہ سنی ہو گئے تو انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور مولانا کے ساتھ ہو گئے یہاں تک کہ جہاد میں آپ کے ساتھ شہید ہو گئے۔
(1941ء لکھنؤ 350تا382) 
اب آپ کو معلوم ہوچکا کہ تقیہ کیا ہوتا ہے
تقیہ نام ہے جھوٹ، دھوکہ، فریب اور منافقت کا یعنی دل میں ایک بات ہو اور زبان پر دوسری، اسی کا نام تقیہ ہے آپ کو یہ معلوم ہوا کہ شیعہ مذہب کے 10 حصوں میں سے 9 حصے تقیہ میں ہیں اور شیعہ مذہب تقیہ کے اصول اور عقیدہ کو تسلیم کرنے کے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتا لہٰذا شیعوں کے مذہب کے مطابق تمام ائمہ کرام اور حضرت علیؓ سے لیکر گیارہویں امام حسن عسکریؒ تک تقیہ کی زندگی گزارتے رہے یہاں تک کہ اپنا اصلی دین عام شیعوں سے بھی چھپاتے رہے۔ ( معاذاللہ)
حالانکہ دین اسلام میں جھوٹ ام الخبائث ہے قرآن و حدیث میں جھوٹ کی مذمت بیان کی گئی ہے مگر کیا کیا جائے جس مذہب میں قرآن تحریف شدہ کتاب ہو حدیث رسولﷺ کا پورا ذخیرہ غیر معتبر اور ناقابل قبول ہو پیغمبر کریمﷺ کے اوپر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور وحی الٰہی کے اولین مخاطبین اور دین اسلام کے سرفروش مجاہدین حضرات صحابہ کرامؓ نعوذباللہ منہا مرتد اور غاصب ہوں تو اس مذہب میں سچ کو کہاں دخل ہوگا وہاں تو فریب اور دھوکہ کی تعلیم و تبلیغ ہوگی اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ ایسے مذہب یعنی شیعیت کو دین اسلام سے کتنا واسطہ ہے؟
اور کیا ایسے مذہب کو اسلام کہا جائیگا؟
شیعہ مجتہد العصر علامہ و ڈاکٹر سید موسیٰ الموسوی کی تصنیف "الشیعہ والتصیح" کا اردو ترجمہ اصلاح شیعہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں ڈاکٹر نے شیعیت میں تقیہ کے اصول پر مندرجہ ذیل ریمارکس دیے ہیں۔
میرا پختہ اعتقاد ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی گروہ موجود نہیں جس نے اپنی تذلیل و توہین اس حد تک کی ہو جس قدر شیعہ نے خود اپنی تقیہ کا نظریہ قبول کر کے اور اس پر عمل پیرا ہو کر کی ہے۔ (اصلاح شیعہ صفحہ 95)
ظاہر ہے کہ تقیہ کرنے والا اپنے آپ کو حد درجے کا ذلیل کرتا ہے تو اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ تقیہ کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے کی نسبت اپنے ائمہ کی طرف کرتے ہیں تو وہ خود اپنے ائمہ کی توہین اور تذلیل کرنے کے مرتکب بن جاتے ہیں یہ بہت خطرناک مقام ہے اور شیعہ علماء و مجتہدین کو ایسی ایمان سوز گستاخی سے توبہ کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


صفحہ 8 از 8