کیا صحابہ یا امت میں بارہ منافقین ہیں؟؟
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندکیا صحابہ یا امت میں بارہ منافقین ہیں؟؟
مکمل حدیث ترجمہ کے ساتھ دیکھیں، پھر اس کے مفہوم و مراد بتاتے ہیں:
عن قيس، قال: قلت لعمار: أرأيتم صنيعكم هذا الذي صنعتم في أمر علي، أرأيا رأيتموه أو شيئا عهده إليكم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: ما عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا لم يعهده إلى الناس كافة، ولكن حذيفة أخبرني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «في أصحابي اثنا عشر منافقا، فيهم ثمانية لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط، ثمانية منهم تكفيكهم الدبيلة وأربعة» لم أحفظ ما قال شعبة فيهم
ترجمہ: قیس سے روایت ہے، میں نے جناب عمار بن یاسرؓ سے پوچھا: (سیدنا عمار بن یاسرؓ جنگ صفین میں سیدنا علیؓ کی طرف تھے) تم نے جو سیدنا علیؓ کے مقدمہ میں (یعنی ان کا ساتھ دیا اور لڑے سیدنا معاویہؓ سے) یہ تمہاری رائے ہے یا تم سے رسول اللہﷺ نے اس باب میں کچھ فرمایا تھا۔
سیدنا عمارؓ نے کہا: رسول اللہﷺ نے ہم سے کوئی بات ایسی نہیں فرمائی جو اور عام لوگوں سے نہ فرمائی ہو لیکن سیدنا حذیفہؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں بارہ منافق ہیں ان میں سے آٹھ جنت میں نہ جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھسے۔ “(یعنی ان کا جنت میں جانا محال ہے) اور آٹھ کو ان میں سے دبیلہ سمجھ لے گا (دبیلہ پھوڑا یا دمل) اور چار کے باب میں اسود یہ کہتا ہے جو راوی ہے اس حدیث کا کہ مجھے یاد نہ رہا شعبہ نے کیا کہا۔
صحیح مسلم میں دوسری سند سے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
اس میں میرے صحابہ کی بجائے میری امت میں سے بارہ منافق کا لفظ ہے:
عن قيس بن عباد، قال: قلنا لعمار: أرأيت قتالكم، أرأيا رأيتموه؟ فإن الرأي يخطئ ويصيب، أو عهدا عهده إليكم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: ما عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا لم يعهده إلى الناس كافة، وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن في أمتي» قال شعبة: وأحسبه قال: حدثني حذيفة، وقال غندر: أراه قال: «في أمتي اثنا عشر منافقا لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها، حتى يلج الجمل في سم الخياط ثمانية منهم تكفيكهم الدبيلة، سراج من النار يظهر في أكتافهم، حتى ينجم من صدورهم»
ترجمہ: جناب قیس سے روایت ہے، میں نے جناب عمار بن یاسرؓ سے پوچھا: (سیدنا عمار بن یاسرؓ جنگ صفین میں سیدنا علیؓ کی طرف تھے) تم نے (سیدنا معاویہؓ سے)جو جنگ کی اور لڑے یہ تمہاری رائے ہے؟
کیونکہ کسی کی رائے درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ یا تم سے رسول اللہﷺ نے اس باب میں کچھ فرمایا تھا؟
سیدنا عمارؓ نے کہا: رسول اللہﷺ نے ہم سے کوئی بات ایسی نہیں فرمائی جو اور عام لوگوں سے نہ فرمائی ہو لیکن سیدنا حذیفہؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں بارہ منافق ہیں، یہ جنت میں نہ جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھسے نہ اس کی خوشبو پائیں گے“ (یعنی ان کا جنت میں جانا محال ہے)
اور آٹھ کو ان میں سے دبیلہ سمجھ لے گا (دبیلہ پھوڑا یا دمل)
یعنی ایک آگ کا چراغ ان کے مونڈھوں میں پیدا ہو گا ان کی چھاتیاں توڑ کے نکل آئے گا (یعنی اس میں انگار ہو گا جیسے چراغ رکھ دیا۔‘‘
علامہ النوویؒ اس حدیث کے تحت شرح میں لکھتے ہیں:
أما قوله صلى الله عليه وسلم في أصحابي فمعناه الذين ينسبون إلى صحبتي كما قال فى الرواية الثانية فى أمتى
نبی مکرمﷺ نے جو فرمایا کہ میرے صحابہ سے بارہ منافق ہیں۔
تو اس کا مطلب صرف صحبت سے منسوب ہونا ہے (نہ کہ اصل صحابی)
جیسے دوسری سند سے یہاں لفظ (میری امت سے) ہے۔
یعنی یہاں صحابی کے لفظ سے مراد سچے اور عادل صحابہ نہیں، بلکہ اس دور میں اسلام سے منسوب اور ایمان کا دعویٰ رکھنے والے منافقین ہیں۔
کیونکہ صحابی تعریف ہی اسلام میں یہ ہے کہ:
’’جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریمﷺ کو دیکھنے کا شرف پایا‘‘
امام بخاریؒ صحیح بخاری باب فضائل صحابہؓ میں فرماتے ہیں:ومن صحب النبي صلى الله عليه وسلم أو رآه من المسلمين فهو من أصحابه
یعنی جس مسلمان نے بھی نبی کریمﷺ کی صحبت اٹھائی یا آپﷺ کا دیدار اسے نصیب ہوا ہو وہ آپﷺ کا صحابی ہے۔
اور منافقین کے متعلق یہ حقیقت تو معلوم ہی ہے کہ وہ مومن نہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ۞(سورۃ البقرة آیت 8)
ترجمہ: یعنی کچھ لوگ ایمان لانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مومن نہیں۔
ہاں بظاہر اپنے آپ کو مؤمنین کہنے اور ان کے ساتھ ہونے کے سبب لفظ (صحبت) ان کیلئے استعمال کر دیا۔
جیسے قرآن کریم میں خود رسول اکرمﷺ کو مکہ والوں کا (صاحب) ساتھ رہنے والا کہا گیا ہے:
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوۡا مَا بِصَاحِبِكُمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ لَّـكُمۡ بَيۡنَ يَدَىۡ عَذَابٍ شَدِيۡدٍ۞(سورۃ سبإ آیت 46)
ترجمہ: (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ: میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم چاہے دو دو مل کر اور چاہے اکیلے اکیلے اللہ کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ پھر (انصاف سے) سوچو (تو فوراً سمجھ میں آ جائے گا کہ) تمہارے اس ساتھی (یعنی محمدﷺ میں جنون کی کوئی بات بھی تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں خبردار کر رہے ہیں۔
تو صرف مکہ میں ایک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے سبب پیغمبر اکرمﷺ کو ان کا ساتھی (صاحب ) کہا گیا۔
اور اسلئے بھی (صاحب) کہا کہ اتنے طویل عرصہ جس کے ساتھ رہتے ہو اس کی صداقت و عدالت اور اخلاق کو تم خوب پہچانتے ہو۔
چالیس سال سے جو آدمی تمہارے ساتھ اتنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بن کر زندگی گزارتا رہا تم اسے (عقل و خرد سے عاری) کیسے قرار دے سکتے ہو؟!
اب کون اس آیت میں وارد لفظ (صاحب) جس سے صحابی بنتا ہے اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ نبی اکرمﷺ تو مکہ والوں کے صحابی ہیں؟
اسی طرح حدیث میں وارد لفظ
في أصحابي اثنا عشر منافقا
سے مراد انصار و مہاجرین کے مخلصین نہیں جن کی تعریف و مدح میں قرآن کریم کی آیات وارد ہیں:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ذٰلِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ۞(سورۃ التوبة آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
اسی لئے ہم برملا کہتے ہیں:
اللہ کے سچے آخری دین پر اپنا تن من، دھن نچھاور کر کے دین کی نصرت کرنے والوں کے متعلق شکوک و شبہات اور بدگمانیاں پیدا کرنے والوں پر اللہ کی لعنت برسے
لعنة الله على من يريد أن يشكك فى أول جيل ترك كل شئ من أموال و ديار من أجل نصرة دين الله و بذل النفوس رخيصة لإقامة الإسلام جيل من أفضل أجيال تواجدت على البسيطة منذبدءالخليقة
