آگ در بتول (ایک من گھڑت افسانے کی حقیقت) - ردِ رافضیت |…

آگ در بتول (ایک من گھڑت افسانے کی حقیقت)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

کیا سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ بنت رسولﷺ کے گھر کا دروازہ توڑا اور اسے جلایا پھر سیدہ فاطمہؓ کے بطن میں موجود حمل پر لات مار کر گرایا جس سے محسن دنیا میں آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے؟؟

آئیے دیکھتے ہیں اس من گھڑت افسانے کی حقیقت

اعتراض یا افسانہ

سیدنا عمرؓ کے متعلق جو سبائی بکتے ہیں کہ سقیفہ کے واقعہ کے بعد سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کو بیعت دینے سے انکار کیا تھا اور سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ اور چند دوسرے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ سیدہ فاطمہؓ کے گھر جاؤ اور سیدنا علیؓ کو پکڑ کر لے آؤ۔ صحابہ کرامؓ نے سیدنا عمرؓ کی قیادت میں گھر کا دروازہ توڑا اور سیدنا علیؓ کو گھسیٹتے ہوئے سیدنا ابوبکرؓ کی طرف لے گئے اور زبردستی سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کروائی ۔

اور اس من گھڑت افسانے میں مزید اضافہ اس طرح ہے کہ سیدنا علیؓ کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہوئے، ان کے گھر کا دروازہ جلایا اور ان کی مرضی کے خلاف ان کو گھر سے نکالا اور گھر میں موجود سیدہ فاطمہؓ کو دروازے کے درمیان دبایا اور اس طرح محسن (جن سے فاطمہؓ پانچ یا چھ مہینے کی حاملہ تھیں) کو مار ڈالا۔ 

یہ افسانہ سبائی ٹولہ اہلسنّت کی کتابوں کا حوالہ دے کر عوام الناس کو دھوکہ دیتا آیا ہے کہ اہلسنت کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہے۔ جب ان کتابوں کو کھنگالا گیا تو ہمیں ایسا کوئی من گھڑت افسانہ نہ ملا البتہ ایک مصنف ابن ابی شیبہ اور کنز العمال میں موجود ہے اس کے متعلق یہ دھوکہ دیا جاتا ہے اور روایت کے خلاف معنی بیان کیا جاتا ہے۔ 

 اب مصنف ابن ابی شیبہ اور کنز العمال میں روایت کس طرح ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

اس روایت میں یہ درج ہے کہ عمرؓ نے فاطمہؓ کو کہا کہ ’’ اے دخترِ رسولﷺ، تمام لوگوں میں سے کوئی مجھے آپ کے باپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کے بعد آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ۔ میرے پاس یہ بری خبر آئی ہے کہ یہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوئے ہیں اور ابوبکرؓ کی خلافت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو روکا نہیں گیا تو خدا کی قسم میں ان کے گھر جلادوں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ لوٹ آئے اور جب علیؓ اور زبیر ؓ گھر واپس آئے تو فاطمہؓ نے ان لوگوں سے یہ کہا ’’ کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمرؓ یہاں آئے تھے اور مجھ سے ایک عہد لیا کہ اگر ان لوگوں نے ابوبکرؓ کی خلافت کے خلاف سازش کی تو ان لوگوں کے گھر جلادیں گے؟ خدا کی قسم! عمرؓ اپنے عہد کو پورا کریں گے ۔ اس لئے میرے گھر سے اس ارادے سے آپ لوگ چلے جائیں اور اپنے ارادے اور خیالات کو ملتوی کردیں اور دوبارہ میرے گھر اس ارادے سے نہیں آئیں ۔‘‘ علیؓ اور زبیر ؓ گھر چھوڑ کر آگئے اور دوبارہ وہاں جمع نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ابوبکرؓ کی بیعت نہ کر لی ۔ 

  • مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 33 روایت 38042
  • کنز العمال: جلد نمںر 5 روایت 14138 

سکین میں یہ روایت عربی متن کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔ اور دیکھا جا سکتا ہے دھوکہ دینے کے لئے کس طرح سبائی ٹولہ توڑ مروڑ کر اپنی مرادیں پیش کرتا آیا ہے اور دوسری بات یہ روایت شاذ اور مرسل ہے۔

اس بات سے اتنا تو ثابت ہوا کہ جب ایسی کوئی سازش رچائی ہی نہیں گئی تو نہ گھر جلانے کا کوئی واقعہ نہ پیش آیا اور نہ سیدہ فاطمہؓ کے حمل کو گرایا گیا۔ آخر کار سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کرلی۔

اور جہاں تک اسکے شاذ اور مرسل ہونے کی بات ہے تو اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں: 

اس روایت کی سند اس طرح ہے: حدثنا محمد بن بشر ثنا عبیداللہ بن عمر حدثنا زید بن اسلم عن ابیہ اسلم 

اسلم (سیدنا عمرؓ کے غلام) تابعی ہیں اور صحابی نہیں ہیں۔ لٰہذا اس روایت میں بھی تابعی براہ راست ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں۔ ان کا اس واقعہ میں موجود ہونا ثابت نہیں کیونکہ رسولﷺ کی وفات 11 ہجری میں ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔ 

سیدہ فاطمہؓ کی وفات رسولﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد رمضان یا شوال میں ہوئی۔

 جس واقعہ میں سیدنا عمرؓ کی طرف الزام لگایا جاتا ہے وہ واقعہ رسولﷺ کی وفات کے فوراً بعد کا ہو گا۔

اسلم تو ان تینوں واقعات میں موجود نہ تھے۔ 

مطلب آپﷺ کی وفات کے وقت، دوسرا جب یہ دھمکی والا واقعہ ہوا اور تیسرا سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے وقت۔ بلکہ وہ تو سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بعد مدینہ آئے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ اسلم ، غلام عمرؓ یمن کے قیدیوں میں سے تھے ابن اسحاق سے نقل ہوا ہے کہ عمرؓ نے اسلم کو 11ہجری میں خریدا جب وہ ابوبکرؓ کی طرف سے امیر حج تھے۔

  •  تاریخ الکبیر از امام بخاری: جلد 2، روایت 1565، صفحہ 23, 24) 

مطلب اسلم 11 ہجری میں حج کے بعد مدینہ آئے یعنی سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بھی دو ماہ بعد۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلم نے یہ واقعہ کس سے سنا کیونکہ وہ بعد میں مدینہ آئے اور اس واقعے کے چشم دید گواہ نہیں ہیں۔ 

لہٰذا ثابت ہوا کہ مصنف ابن ابی شیبہ اور کنزالعمال کی روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہے۔ 

اسی طرح کی روایت تاریخ طبری میں موجود ہے کہ:

سیدنا علیؓ و زبیر ؓ اور جو دوسرے مہاجرین گھر میں موجود تھے سیدنا عمرؓ نے انہیں کہا کہ چلو اور بیعت کرو ورنہ میں اس گھر میں سب کو آگ لگا دوں گا۔ اس پر سیدنا زبیرؓ اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے اور کسی چیز سے ٹکرا کر گر گئے اس پر مہاجرین نے انہیں اٹھایا اور قابو میں کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 8، صفحہ 15)

اس روایت کی سند ملاحظہ ہو اس طرح سے ہے:

حدثنا ابن حمید ، قال حدثنا جریر عن مغیرۃ عن زیاد بن کلیب قال

جریر بن حازم ثقہ ہیں لیکن ان کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا

(تقریب التھذیب: روایت نمبر 923 صفحہ 196)

مغیرہ بن مقسم تدلیس کرتے ہیں اور یہ روایت عن سے ہے 

یہ اہلسنت کا مشہور اصول حدیث ہے کہ مدلس کی روایت غیر صحیحین ( بخاری و مسلم کے علاوہ) اگر عن سے ہو تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے.

یہ روایت بھی تاریخ طبری میں عنعنہ سے ہے۔

  • تقریب التھذیب: صفحہ نمبر 966
  •  تہذیب تہذیب الکمال: جلد نمبر 9 صفحہ نمبر 80 

زیاد بن کلیب ثقہ ہیں لیکن وہ تابعی ہیں صحابی نہیں ہیں۔

صفحہ 1 از 2