Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہانی بن عروہ کا قتل

  ابو شاہین

ہانی بن عروہ کا قتل

عبیداللہ بن زیاد کی کارروائیاں اس کے ظلم و جبر اور قساوت قلبی پر دلالت کرتی ہیں، اس کے حکم سے ہانی بن عروہ کو بازار میں لا کر قتل کر دیا گیا، ہانی اپنے قبیلے مذحج کو چیخ چیخ کر بلاتے رہے مگر کوئی بھی ان کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھا، ہانی اور مسلمؒ کو بازار میں لوگوں کے سامنے صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ 

( ایضا: جلد، 6 صفحہ، 690 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 209)

پھر ان لوگوں کی بھی گردنیں اڑا دی گئیں، جو مسلم بن عقیلؒ کی مدد کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اور پھر انہیں بھی بھرے بازار میں صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ ( تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 320 ) ابن زیاد یہ بھی کر سکتا تھا کہ وہ مسلم بن عقیلؒ اور ہانی بن عروہ کو دمشق میں خلیفہ کے پاس بھجوا دیتا اور وہ انہیں قید میں ڈال دیتا یا ان کے بارے میں درگزر سے کام لیتے ہوئے آئندہ کے لیے مسلمانوں کو خوں ریزی سے بچا لیتا اور ان میں عداوت اور بغض و کینہ جیسے جذبات کو مزید بڑھنے سے روک لیتا۔ اس طرح ابن زیاد نے اپنی حکومت کے متشددانہ اور ظالمانہ ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا اور یہ کہ وہ اپنے باپ زیاد سے بھی زیادہ خوں ریزی کی قیمت پر اپنے اقتدار کو بچانے اور اسے طول دینے کی پالیسی پر گامزن تھا۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ مسلم بن عقیل رحمہ اللہ ایسے تجربہ کار سیاست دان نہیں تھے جو بڑے محتاط انداز میں مستقبل کا جائزہ لیتا اور مختلف امور کو گزشتہ واقعات کے ترازو میں تولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیعت کرنے والوں کی کثرت، ان کے رونے دھونے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی مدد کے پختہ وعدوں کے دھوکے میں آ گئے اور پھر جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو فوراً کوفہ آنے کے لیے خط لکھ دیا، جس میں انہیں یہ بھی بتایا کہ ان کی بیعت کے لیے حالات سازگار ہیں۔

( الامویون بین الشرق و الغرب: جلد، 1 صفحہ، 205 )

نظام بدلنے اور حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے صرف جذبات کافی نہیں ہوا کرتے بلکہ اس کے لیے قیادت راشدہ، محکم تنظیم، طویل منصوبہ بندی، افراد کی توثیق اور مادی و معنوی تیاری کی شدید ضرورت ہوا کرتی ہے۔ ہم یہ بات برملا کہہ سکتے ہیں کہ مسلم بن عقیلؒ اور ہانی بن عروہ نے جن تخمینوں پر اعتماد کیا تھا، وہ بالکل غلط اور غیر صحیح تھے۔ مسلم بن عقیل رحمہ اللہ نے یہ سمجھا کہ بہت سارے عوام الناس کے جذبات ہی کامیابی کا واحد راستہ ہیں۔ لہٰذا انہوں نے نہ تو کوفہ کے زعماء کی تائید حاصل کرنے یا ان کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ اپنی ہم نوا جمعیتوں کو ان کی معینہ خصوصیات کے مطابق منظم ہی کیا۔ دوسری طرف ان کے حامی ومددگار ہانی بن عروہ تھے، جن کا شمار ان ممتاز لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے مسلم بن عقیلؒ کی مدد کی، انہوں نے اپنے قبیلے کی قوت اور کثرت پر اعتماد کیا اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ چونکہ وہ مراد قبیلے کے سردار ہیں، جس کے جنگجو زرہ پوش جوانوں کی تعداد تیس ہزار افراد تک پہنچتی تھی، لہٰذا وہ کسی بھی قسم کی سزا سے بالاتر ہیں۔ مگر ان کا تخمینہ بھی غلط ثابت ہوا۔ اس لیے کہ لوگوں کے وہ قدیم روابط کمزور پڑ گئے تھے، جن کی وجہ سے قبیلہ کو طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور قبیلہ کا سردار قوم کا ایسا قائد ہوتا تھا، جس کے احکام کی بلاتردّد تعمیل کی جاتی تھی۔ زیاد بن ابی سفیان کی ولایت کے ایام میں ارباع کی تقسیمات کا ان روابط کو کمزور بنانے میں بڑا اہم کردار تھا، اسی طرح عطیات کے نظام نے قبائل کے مفادات کو اموی اقتدار کے ساتھ مربوط کر دیا تھا۔ جن تخمینہ جات پر ہانی بن عروہ نے ارتکاز کیا اور جس کے لیے انہوں نے قبیلہ پر اعتماد کیا وہ سب کچھ ناکارہ ثابت ہو گیا۔

(مروج الذہب: جلد، 6 صفحہ، 3)

مسلم بن عقیلؒ اور ہانی بن عروہ کی شہادت پر یہ مرثیہ کہا گیا:

فان کنت لا تدرین ما الموت فانظری

الی ہانی فی السوق و ابن عقیل

اصابہما امر الامام فاصبحا

احادیث من یسعی بکل سبیل

الی بطل قد ہشم السیف وجہہ

و آخر یہوی من طمار قتیل

تری جسدا قد غیر الموت لونہ

و نضح دم قد سال کل مسیل

فان انتم لم تثاروا باخیکم 

فکونوا بغیا ارضیت بقلیل

 ( البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 690 اور 691)

اگر تجھے معلوم نہیں کہ موت کیا ہوتی ہے تو بازار میں ہانی اور ابن عقیلؒ کی طرف دیکھ، انہیں امام کے حکم سے مارا گیا اور وہ راستوں میں چلنے والے مسافروں کے لیے باتیں بن گئے۔

اس بہادر کی طرح جس کے چہرے کو تلوار نے توڑ دیا ہے اور دوسرا مقتول کے کپڑوں میں ہلاک ہوا پڑا ہے۔

تو ایک جسم کو دیکھے گا جس کے رنگ کو موت نے تبدیل کر دیا ہے اور خون کے چھڑکاؤ کو دیکھے گا جو ہر جگہ بہ رہا ہے، اور اگر تم نے اپنے بھائی کا بدلہ نہ لیا، تو پھر فاحشہ عورت بن جاؤ، جسے تھوڑی چیز پر راضی کر لیا جاتا ہے۔‘‘