حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل…

حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل استدلال ہے!

  شعیب الحیدری

صفحہ 1 از 4

حدیث اصحابی کالنجوم میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں قابلِ استدلال ہے:

أصحابی كالنُّجومِ بأيِّهمُ اقتديتُمُ اهتديتُم۔
اس حدیث کے بارے میں شیعہ رافضی کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔
درحقیقت یہ حدیث بہت سی کتب میں ایک سے زیادہ سندوں کے ساتھ وارد ہوئی ہے اور ابنِ حزمؒ اور اس کے ساتھ کچھ محدیثین نے اس کو موضوع حدیث کہا ہے۔
ہم اس مقالے میں ان شاء اللہ یہ ثابت کریں گے کہ یہ حدیث نہ صرف کہ قابلِ استدلال ہے بلکہ ہم اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ بھی پوسٹ کریں گے۔
اصل میں‌ ماجرہ یہ ہے کہ اس حدیث اصحابی کالنجوم کی سند ضعیف ہونے کی وجہ سے ابنِ حزمؒ یا دوسرے محدیثین نے اس کو موضوع قرار دیا لیکن اس کی ضعیف ہونے کی وجہ اس حدیث کی بنیاد ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ضعیف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ موضوع ہو علمائے کرام اور تمام امت نے اسے قبول کیا ہے اور ایسی حدیث تلقی بالقبول کہلاتی ہے۔
ضعیف حدیث تلقی بالقبول کے سبب قابل عمل ہے:وقال الحافظ السخاوی فی شرح ألفية: إذا تلقت الأمة الضيف بالقبول يعمل به الصحيح حتىٰ أنه ينزل منزلة المتواتر فی أنه ينسخ المقطوع به، ولهذا قال الشافعی رحمة الله تعالیٰ فج حديث لا وصية الوارث أنه لا يثبت أهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتىٰ جعلوه ناسخا لاية الوصية الوارث إنتهى۔
(المعجم الصغیر لطبرانی: باب التحفة المرضية فی حل مشكلات الحديثية: جلد، 2 صفحہ، 179 فتح المغيث بشعره ألفية الحديث: صفحہ، 120)
ترجمہ: علامہ سخاویؒ نے شرح الفیہ میں کہا ہے کہ: جب امت حدیث ضعیف کو قبول کرلے تو صحیح یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ یہاں تک کہ وہ یقینی اور قطعی حدیث کو منسوخ کرنے میں متواتر حدیث کے رتبہ میں سمجھی جاۓ گی اور اسی وجہ سے امام شافعیؒ نے حدیث: لاوصية لوارث کے بارے میں یہ فرمایا کہ اس کو حدیث کے علم والے علماۓ حدیث ثابت نہیں کہتے ہیں لیکن عامہ علماءِ نے اس کو قبول کر لیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں، یہاں تک کہ اس کو آیت وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے۔
(فتاویٰ علماۓ حدیث: جلد، 2 صفحہ، 74 فتاویٰ غزنویہ: جلد، 1 صفحہ، 206)
قال العلامة ابنِ مرعی ألشبرخيتی المالكی فی شرح أربعين النووية: ومحل كونه لايعمل بالضعيف فی الأحكام ما لم يكن تلقته الناس بالقبول فان كان كذلك تعين وصار حجة يعمل به فی الاحكام وغيرها۔
(شرح الأربعين النووی)
ترجمہ: اس بات کا محل کہ ضعیف حدیث پر احکام میں عمل نہیں کیا جاتا یہ ہے کہ اس کو تلقی بلقبول حاصل نہ ہو، اگر اسے تلقی بلقبول حاصل ہوجاۓ تو وہ حدیث متعین ہو جاۓ گی اور حجت ہو جاۓ گی اور احکام وغیرہ میں اس پر عمل کیا جاۓ گا۔ 
فائدہ: معلوم ہوا کہ جب کسی حدیث پر امت، ائمہ اسلام کی پیروی میں قبول کرتے اس پر عمل کرتی چلی آ رہی ہو تو وہ روایت سنداً غیر ثابت ہو کر بھی مقبول ہوتی ہے تو جو روایت ثابت ہو مگر ضعیف حفظ عمل میں کمزور راوی ہو تو اس کے قبول کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ امت اعمال دین دیکھ دیکھ کر سیکھتی چلی آئی ہے اور یہ حکم خود حدیثِ نبویﷺ میں ہے کہ: نماز پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔
(بخاری)
صحیح روایت سے زیادہ تعامل امتِ قطعی حجت ہے: جو روایت مشاہدات کے خلاف ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں سنت صرف روایت سے ثابت نہیں ہوتی، اس کے ساتھ امت کا تعامل بھی ضروری ہے کوئی حدیث سند کے لحاظ سے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر اس پر امت کا عمل نہیں تو اس کی حجیت قطعی نہ رہے گی، زیادہ گمان یہی ہوگا کہ وہ عمل منسوخ ہو چکا، محدثین حدیث کی حفاظت پر اس کے معمول بہ ہونے سے بھی استدلال کرتے رہے ہیں امام وکیع نے اسمعیل ابنِ ابراہیم مہاجر سے نقل کیا ہے:
کان یستعان علی حفظ الحدیث بالعمل بہ۔ 
(تاریخ ابی زرعہ الدمشقی: جلد، 1 صفحہ، 311)
ترجمہ: حفظ حدیث میں اس کے عمل سے بھی مدد لی جاتی تھی یعنی یہ کہ اس پر عمل بھی ہو اس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث کے معمول بہ ہونے کا اس کی صحت اور مقبولیت پر بہت اثر رہا اور محدثین کو ایسی روایات بہت کھٹکتی رہی ہیں جو معمول بہ نہ رہی ہوں امام ترمذی ایک مقام پر لکھتے ہیں:
جَمِيعُ مَا فِی هَذَا الْكِتَابِ مِنْ الْحَدِيثِ فَهُوَ مَعْمُولٌ بِهِ وَبِهِ أَخَذَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَاخَلَا حَدِيثَيْنِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیﷺ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ وَحَدِيثَ النَّبِیﷺ أَنَّهُ قَالَ إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجلدوهُ فَإِنْ عَادَ فِی الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ۔
(جامع ترمذی، کتاب العلل: جلد، 2 صفحہ، 626 موقع الإسلام)
صفحہ 1 از 4