حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل…

حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل استدلال ہے!

  شعیب الحیدری

صفحہ 2 از 4
ترجمہ: جو کچھ اس کتاب میں ہے اس پر کسی نہ کسی حلقے میں عمل ضرور رہا ہے اور اس کے مطابق اہلِ علم کی ایک جماعت نے فیصلہ کیا ہے سوائے ان دو حدیثوں کے ایک حدیث سیدنا ابنِ عباسؓ کی ہے کہ آنحضرتﷺ نے کسی خوف، سفر اور بارش کے کسی عذر کے بغیر مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر یکجا اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھی ہیں، اور دوسری حضورﷺ کی یہ حدیث کہ جب کوئی شراب پیئے تو اسے کوڑے لگاؤ اور چوتھی دفعہ پئے تو اس کو قتل کر دو یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے لائق استدلال ہیں، لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ ائمہ دین میں کسی نے ان کے ظاہر پر عمل نہیں کیا، بلکہ اس کے ترک پر اہلِ علم کا اجماع رہا ہے۔ ائمہ مجتہدین اور ان کے تمسکات کو علمِ حدیث کے موضوع میں شامل نہ کیا جائے تو بڑی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، صحتِ حدیث کا مدار صرف سند پر نہیں، اہلِ علم کے عمل سے بھی حدیث قوی ہو جاتی ہے، یہ صحیح ہے کہ اکثر اوقات عمل صحتِ پر متفرع ہوتا ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کبھی صحتِ عمل پر بھی متفرع ہوتی ہے مشہور غیر مقلد عالم مولانا عبدالحق سیالکوٹی لکھتے ہیں: اکثر اوقات عمل صحت پر متفرع ہوتا ہے اور صحتِ روایت اصول کی رو سے شروط معتبرہ مجوزہ ائمہ جرح و تعدیل کے ساتھ ہوتی ہے اور بعض دفعہ صحتِ عمل پر متفرع ہوتی ہے، صورت اول عام ہے، صورت دوم خاص ہے اور اس کی تصریح محققین نے کردی ہے، امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں لکھتے ہیں:
ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقد صرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ۔ 
(تنزیہ الشریعۃ للکنانی: جلد، 2 صفحہ، 120)
ترجمہ: اہلِ علم کے قول اور تعامل کے ساتھ حدیث ضعیف، ضعف سے نکل کر صحیح اور قابلِ عمل ہوجاتی ہے اگرچہ اس کی اسناد لائق اعتماد نہ ہو، بہت سے اہلِ علم کا یہ قول ہے بعض فضلائے امت و امناء ملت میں اس صورت دوم کے اپنے موضع میں پائے جانے کی وجہ سے بعض کوتاہ اندیش جاہل اپنی کج فہمی کی وجہ سے ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں مولوی حدیث کا تارک ہے۔
(الانصاف لرفع الاختلاف: صفحہ، 776 مطبوعہ: صفحہ، 1910 مطبع: رفاہ عام اسٹیم پریس، لاہور)
حافظ ابنِ صلاحؒ مقدمہ ابنِ صلاح میں لکھتے ہیں کہ جب ہم کسی حدیث کو صحیح قرار دیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حدیث یقیناً صحیح ہے اور اس کی صحت درجہ علم تک پہنچتی ہے بلکہ اس حکم صحت سے مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ اس میں صحیح کی وہ فنی شرائط موجود ہیں جو محدثین کے یہاں صحت حدیث کے لیے درکار ہیں، لہٰذا گمان یہی ہے کہ وہ حدیث صحیح ہوگی، اسی طرح ضعیف کا مطلب بھی یہ نہیں کہ یقینی طور پر وہ خلاف واقعہ ہے، ہوسکتا ہے کہ نفس الامر میں صحیح ہو یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کا تعامل اس کی فنی کمزوریوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ علامہ ابنِ حجر العسقلانیؒ فرماتے ہیں: کسی حدیث کو لا یصح یعنی وہ صحیح نہیں، کہنے سے اس حدیث کا موضوع جھوٹی مَن گھڑت ہونا لازم نہیں آتا۔
(شرح الفیہ: جلد، 1 صفحہ، 15)
ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:
عدمِ ثبوت سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
(تذكرة الموضوعات للقاری: صفحہ، 82)
پس ثابت ہوا کہ اگرچہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف بھی تو بھی قابلِ استدلال ہے کیونکہ امتِ مسلمہ نے اسے قبول کر لیا ہے۔
یہ مقالا تو تھا اس حدیث کے بارے میں جس کی سند کو ضعیف کیا جاتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی راوی ضعیف ہوتا ہے اب ہم یہاں اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ پیش کریں گے۔
یہ حدیث حسن مقبول سند سے بھی مروی ہے:
حَدَّثَنَا الْقَاضِی أَبُو عَلِی، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، وَأَبُو الْفَضْلِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَىٰ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِی السِّنْجِی، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِی حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَبْعی بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِی أَبِی بَكْرٍؓ وَ عُمَرَؓ وَقَال أَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔
(الشفا بأحوال المصطفىٰ للقاضی عياض الْقَسَمَ الثانی: فِيمَا يجب عَلَى الأنام من حقوقه الْبَابِ الثالث فِی تعظيم أمره ووجوب توقيره وبره رقم الحديث: 61 الحكم: إسناده حسن)
ترجمہ: سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے کہا میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنا اور کہا کہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کے مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
تخریج حدیث قاضی عیاض:
اس حدیث کے رجال تمام کے تمام ثقہ ہیں۔
الْقَاضِی أَبُو عَلِی الحسين بن محمد الصدفی۔
ان کے بارے میں امام ذہبی کا کہنا ہے کہ لإمام العلامة الحافظ، برع فی الحديث متنا و إسنادا مع حسن امام علامہ الحافظ جن کی حدیث متن و سند کے لحاظ سے حسن ہوتی ہے۔
أَبُو الْحُسَيْنِ المبارك بن عبد الجبار الطيوری۔
ان کے بارے میں ابنِ حجر اور امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ثبت ہیں۔
وَأَبُو الْفَضْلِ أحمد بن الحسن البغدادی۔
ان کے بارے میں یحییٰ بن معین السمعانی اور امام ذہبی کہتے ہیں کہ ثقہ حافظ تھے۔
أَبُو يَعْلَىٰ أحمد بن عبد الواحد البغدادی۔
خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں حسن تھے۔
أَبُو عَلِی السِّنْجِی الحسن بن محمد السنجی۔
خطیب بغدادی کہتے ہیں یہ بڑے شیخ تھے اور ثقہ تھے۔
مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ محمد بن أحمد المحبوبی۔
یہ امام ترمذیؒ کے شاگرد ہیں ان کے بارے میں امام حاکم صاحب مستدرک اور امام ذہبیؒ کا کہنا ہے کہ یہ ثقہ حافظ تھے۔
لتِّرْمِذِی محمد بن عيسىٰ الترمذی۔
یہ امام ترمذیؒ ہیں صاحب السنن الترمزی جن کے حفظ ع ثقات میں کوئی شک نہیں ہے۔
الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الواسطی
ان کے بارے میں امام احمدؒ کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں سنت کے پیرو ہیں اور ابو حاتمؒ و ابنِ حجرؒ کہتے ہیں صدوق ہیں۔
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ یہ ثقہ و امام ہیں۔
زائدة بن قدامة الثقفی۔
صفحہ 2 از 4