حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل…

حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل استدلال ہے!

  شعیب الحیدری

صفحہ 3 از 4
ابو حاتمؒ، امام نسائیؒ، ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں۔
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ۔
امام ذہبیؒ، ابو حاتمؒ، ابنِ حجر ؒنے اس کی توثیق کی ہے۔
رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ۔
ابنِ سعدؒ، امام ذہبیؒ، ابنِ حجرؒ نے اسے ثقہ کہا ہے۔
حُذَيْفَةَؓ یہ صحابی رسول اللہﷺ ہیں جن کی عدالت پر شق کرنا ہی نقص ایمان کی نشانی ہے۔
اگر اس حدیث کو مقبول ہونے کے باوجود کوئی ضیعف ہی کہتا ہے تو بھی یہ حدیث صرف ضعیف ہی ہوگی اس کا متن پھر بھی صحیح ہے کیوں کہ ایک اور صحیح حدیث میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ستاروں کی مانند کہا ہے ملاحضہ ہو۔
صحیح مسلم کتاب فضائلِ صحابہ باب بيان أن بقاء النَّبِیﷺ أمان لأصحابه۔
حدثنا أبو بكر بن أبی شيبة وإسحق بن إبراهيم وعبد الله بن عمر بن أبان كلهم عن حسين قال أبو بكر حدثنا حسين بن علی الجعفيعن مجمع بن يحيىٰ عن سعيد بن أبی بردة عن أبی بردة عن أبيه قال صلينا المغرب مع رسول اللہﷺ ثم قلنا لو جلسنا حتىٰ نصلی معه العشاء قال فجلسنا فخرج علينا فقال ما زلتم هاهنا قلنا يا رسول اللہﷺ صلينا معك المغرب ثم قلنا نجلس حتىٰ نصلی معك العشاء قال أحسنتم أو أصبتم قال فرفع رأسه إلى السماء وكان كثيرا مما يرفع رأسه إلى السماء فقال النجوم أمنة للسماء فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد وأنا أمنة لأصحابی فإذا ذهبت أتى أصحابی ما يوعدون وأصحابی أمنة لأمتی فإذا ذهب أصحابی أتى أمتی ما يوعدون۔
سیدنا ابوبردہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپﷺ کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپﷺ باہر تشریف لائے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپﷺ کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپﷺ کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔ پھر آپﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپﷺ اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ۔
يوری:
ان کے بارے میں ابنِ حجرؒ اور امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ثبت ہیں۔
وَأَبُو الْفَضْلِ أحمد بن الحسن البغدادی۔
ان کے بارے میں یحییٰ بن معین السمعانی اور امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ ثقہ حافظ تھے۔
أَبُو يَعْلَىٰ أحمد بن عبد الواحد البغدادی
خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں حسن تھے
أَبُو عَلِی السِّنْجِی الحسن بن محمد السنجی
خطیب بغدادی کہتے ہیں یہ بڑے شیخ تھے اور ثقہ تھے
مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ محمد بن أحمد المحبوبی
یہ امام ترمذیؒ کے شاگرد ہیں ان کے بارے میں امام حاکم صاحب مستدرکؒ اور امام ذہبیؒ کا کہنا ہے کہ یہ ثقہ حافظ تھے۔
لتِّرْمِذِی محمد بن عيسى الترمذیؒ
یہ امام ترمذیؒ ہیں صاحب السنن الترمزی جن کے حفظ ثقات میں کوئی شک نہیں ہے
الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الواسطی
ان کے بارے میں امام احمدؒ کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں سنت کے پیرو ہیں اور ابو حاتمؒ و ابنِ حجرؒ کہتے ہیں صدوق ہیں۔
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ:
یہ ثقہ و امام ہیں۔
زائدة بن قدامة الثقفی:
ابو حاتمؒ، امام نسائیؒ، ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں۔
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ:
امام ذہبیؒ ابو حاتمؒ ابنِ حجرؒ نے اس کی توثیق کی ہے۔
رَبْعی بْنِ حِرَاشٍ: ابنِ سعدؒ، امام ذہبیؒ، ابنِ حجرؒ نے اسے ثقہ کہا ہے
حُذَيْفَةَؓ: یہ صحابی رسول اللہﷺ ہیں جن کی عدالت پر شق کرنا ہی نقص ایمان کی نشانی ہے۔
یہ حدیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نہ صرف قرآنِ کریم کے عین مطابق ہے بلکہ یہ بہت سی صحیح احادیث کے مطابق بھی ہے چناچہ اس حدیث پر امت کا عمل رہا ہے اور علماء اسے صحیح سمجھتے رہے ہیں
یہ حدیث حسن مقبول سند سے بھی مروی ہے:
حَدَّثَنَا الْقَاضِی أَبُو عَلِی، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، وَأَبُو الْفَضْلِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَىٰ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِی السِّنْجِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِی، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَبْعی بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہﷺ اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِی ابی بکرؓ اهْتَدَيْتُمْ۔ 
(الشفا بأحوال المصطفىٰ للقاضی عياض الْقَسَمَ الثانی: فِيمَا يجب عَلَى الأنام من حقوقه الْبَابِ الثالث: فِی تعظيم أمره ووجوب توقيره وبره، رقم الحديث: 61 الحكم: إسناده حسن)
ترجمہ: سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے کہا میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنا اور کہا کہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کے مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤگے۔
تخریج حدیث قاضی عیاض
اس حدیث کے رجال تمام کے تمام ثقہ ہیں
الْقَاضِی أَبُو عَلِی الحسين بن محمد الصدفی
ان کے بارے میں امام ذہبیؒ کا کہنا ہے کہ لإمام العلامة الحافظ، برع فی الحديث متنا وإسنادا مع حسن امام علامہ الحافظ جن کی حدیث متن و سند کے لحاظ سے حسن ہوتی ہے
أَبُو الْحُسَيْنِ المبارك بن عبد الجبار الطيوری
ان کے بارے میں ابنِ حجرؒ اور امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ثبت ہیں۔
وَأَبُو الْفَضْلِ أحمد بن الحسن البغدادی
ان کے بارے میں یحییٰ بن معین السمعانی اور امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ ثقہ حافظ تھے۔
أَبُو يَعْلىٰ أحمد بن عبد الواحد البغدادی۔
خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں حسن تھے
صفحہ 3 از 4