فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات - دورِ حاضر کے…

فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات

  ڈاکٹر فیض احمد چشتی

صفحہ 2 از 5

محترم قارئینِ کرام : واضح رہے کہ انجمن سرفروشان اسلام کے بانی ریاض احمد گوہر شاہی دین اسلام کے خلاف دشمنانِ اسلام کی جد وجہد کے سلسلے کی ایک ایسی ہی کڑی ہے جس طرح کہ مسیلمہ کذاب یا اس راہِ ضلالت میں اس کے دیگر ہمسفر تھے ۔ اس لیے آج میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں اور عین حقیقت ہے کہ گوہر شاہی کی جد وجہد بھی غلام احمد قادیانی کی جد وجہد کا تسلسل ہے ۔ ریاض احمد گوھر شاہی (25 نومبر1941ء تا 25 نومبر 2001) ایک صوفی ، مصنف ، روحانی پیشوا اور انجمن سرفروشانِ اسلام (ASI) کا سرپرست و بانی تھا ۔ گوہر شاہی ایک متنازع شخصیت کا حامل تھا اور مسلم علماء اس کے بیانات پر احتجاج کرتے رہے ہیں ۔ پورا نام ریاض احمد گوھر شاہی ہے ۔
گوہریہ مذہب بہت خطرناک فتنہ ہے اس کا بانی ریاض احمد گوہرشاہی ہے گوہر شاہی نے اس کا آغاز اپنی انجمن سرفروشانِ اسلام کے نام سے کیا ۔ علماء اسلام اس کو دین سے خارج قرار دیتے ہیں ۔
گوہر شاہی گمراہ کے پیروکار خود کو اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی کے لبادے میں چھپاتے ہیں ، میلاد ، گیارہویں ، اور محافل نعت بھی منعقد کرتے و مناتے ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسا سکیں 
گوہر شاہی نے تصوف وسلوک کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ اس نے اپنی ناپاک زہریلی تعلیمات کے ذریعے اپنے آپ کو نبوت اور الوہیت کے درمیان ثابت کرنے کی کوشش کی‘ دنیا میں ظہور پذیر ہونے والے خود ساختہ جھوٹے نبیوں میں سے ہر ایک نے اپنے مشن کو کرہٴ ارض تک ہی محدود رکھا‘ لیکن گوہرشاہی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے صرف زمین پر ہی نہیں‘ بلکہ فضاء میں بھی حقائق ساختگی کی جھوٹی اور ناکام کوشش کی‘ اس نے اس سلسلے میں چاند کو بھی معاف نہیں کیا اور بے دریغ سیاہی استعمال کرتے ہوئے در ودیواروں پر بھی کھلے عام یہ لکھوانے سے نہ شرمایا کہ:” چاند میں جس کی صورت آئی‘ گوہر شاہی ‘ گوہر شاہی“ گوہرشاہی بالکل اسلام کے شجرہ طیبہ کی جڑوں کے لئے کسی زہریلے کیڑے سے کم نہیں تھا‘ اس نے مغربی سرمایہ اور سپوٹ کے ذریعے اپنے باطل عقائد کو امت مسلمہ کے درمیان پھیلانے شروع کردئیے اللہ جزائے خیر دے علمائے دین کو‘ جنہوں نے بروقت ہی اس ناسور اور فتنے کا تعاقب کیا ۔
گوہرشاہی کے عقائد میں سے چند عقائد پیش کیے جاتے ہیں جن کو معمولی عقل کا مالک بھی پڑھ کر اور پھر گوہرشاہی کو اس ترازو پہ رکھ کر اس کے کفر اور اسلام کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے‘ چنانچہ ملاحظہ ہو :
گوہرشاہی کے نزدیک اللہ تعالیٰ شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی (نعوذ باللہ) انسانوں کے اعمال سے لاعلم ہیں‘ چنانچہ گوہر شاہی اس عقیدے کا اظہار اپنے ملحدانہ کلام میں کچھ یوں کرتاہے : قریب ہے شہ رگ کے اسے کچھ پتہ نہیں بے راز ہوئے محمد کاش تونے پایا وہ راستہ نہیں ۔ (بحوالہ تریاق قلب صفحہ نمبر 18)
جب گوہرشاہی خدا کو لاعلم کہہ سکتا ہے تو ایسے ملعون کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں تحریف کرنا بھی کوئی مشکل نہ ہوگا چنانچہ وہ کہتا ہے کہ : قرآن مجید میں بار بار آیا ہے کہ ”دع نفسک و تعال“ ترجمہ : ”نفس کو چھوڑ اور چلا آ ۔ (بحوالہ مینارہ نور طبع اول 1402ھ) حالانکہ قرآن کریم میں کہیں یہ الفاظ موجود نہیں ۔
جب وہ ایسی جھوٹی آیات اپنی طرف سے گھڑے گا تو اس سے کوئی حوالہ بھی طلب کرے گا‘ چنانچہ اس نے پہلے سے ہی اس کا بندوبست کر دیا اور کہہ دیا کہ : قرآن کے صرف 30 پارے نہیں‘ بلکہ کل 40 پارے ہیں چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ : یہ موجودہ قرآن پاک عوام الناس کے لئے ہے جس طرح ایک علم عوام کے لئے ہے جبکہ دوسرا علم خواص کے لئے ہے جو سینہ بسینہ عطاء ہوا اسی طرح قرآن پاک کے دس پارے اور ہیں․․․ الخ ۔ (بحوالہ حق کی آواز ص:52،چشتی)
گوہرشاہی مخلوق کو خدا کے ذکر سے پھیر کر اپنے ذکر میں لگانے کے لئے کہتا ہے کہ : یہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے میرا ذکر کرو وہ پارے (یعنی وہ مزید دس پارے جو موجودہ قرآن کے علاوہ ہیں گوہرشاہی کے ہاں) کہتے ہیں کہ اپنا وقت ضائع نہ کرو‘ اسی کو دیکھ لینا اس کی یاد آئے تو․ (بحوالیہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)
موجودہ قرآن مجید نے شراب کو حرام قرار دیا ‘ لیکن شاید کہ گوہرشاہی کو اپنے خصوصی ان دس پاروں میں جو صرف اس پر (شیطان کی طرف سے) نازل ہوئے ہیں ۔ شراب کو حلال قرار دیا گیاہے‘ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کے اس قول کی کہ مجھے حضورﷺ سے دو علم عطاء ہوئے ایک تم کو بتا دیا‘ دوسرا بتادوں تو تم مجھے قتل کردو‘ اس کی تشریح میں گوہر شاہی لکھتا ہے کہ : وہ دوسرا علم یہ ہے کہ شراب پیو‘ جہنم میں نہیں جاؤگے اور بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے“۔ (بحوالہ یاد گار لمحات صفحہ 9 تا 10)
گوہرشاہی کو زمین پرتو آرام آیا نہیں‘ اس لئے اس کے نفس نے فضاء میں بھی پرواز کی وہ چاند ‘ سورج اور حجر اسود پر اپنی شبیہ کے متعلق لکھتا ہے کہ : چاند سورج اور حجر اسود پر شبیہ اللہ کی نشانیاں ہیں‘ یہ من جانب اللہ ہے اور ان کو جھٹلانا گویا کہ اللہ کی بات سے نفی ہے ۔ (بحوالہ حق کی آواز صفحہ:26)
دنیا کا اصول ہے کہ اپنے محسن کی مدح اور تعریف کی جاتی ہے‘ چونکہ گوہرشاہی بھی اس اصول سے مجبور ہو کر شیطان کی مدح سرائی کرتا ہے تاکہ اس کی طرف سے شیطان کے حق میں کمال ناسپاسی نہ ہو‘ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ : شیطان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گناہ میں لگاتا ہے‘ لیکن خود کبھی شامل نہیں ہوتا․․․ الخ۔ (بحوالہ یادگار لمحات صفحہ نمبر 4،چشتی)

جو شخص ہدایت من جانب اللہ سے محروم ہو اور اس کی ہدایت میں کلام خداوندی یعنی قرآن مجید اور فرامین رسول یعنی احادیث مبارکہ کارگر نہ ہو اور وہ ان سے ہدایت نہ لے سکے تو آخر وہ کہاں جائے گا؟ اس سوال کا جواب اگر گوہرشاہی خود دے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کا ہادی نہ خدا ہے اور نہ اس کے رسول  کی تعلیمات‘ چنانچہ وہ خود لکھتا ہے کہ : ایک دن پتھریلی جگہ پیشاب کرہا تھا پیشاب کا پانی پتھروں پر جمع ہوگیا اور ویسا ہی سایہ مجھے پیشاب کے پانی میں ہنستا ہوا نظر آیا جس سایہ سے مجھے ہدایت ملی تھی ۔ (بحوالہ روحانی سفر صفحہ 2،چشتی)

صفحہ 2 از 5