فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات - دورِ حاضر کے…

فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات

  ڈاکٹر فیض احمد چشتی

صفحہ 3 از 5

پوری امت مسلمہ کے ہاں زکوٰة ڈھائی پر سینٹ ہے‘ لیکن گوہرشاہی مال وزر کی محبت میں اس قدر آگے بڑھا کہ اس نے اپنے مرید وں پر مزید پچانوے پرسینٹ زکوٰة عائد کردی اور مجموعی طور پر اس کے ہاں زکوٰة ساڑھے ستانوے پرسینٹ ہوگئی وہ کہتا ہے کہ یہ (موجودہ) قرآن کہتاہے کہ : زکوٰة دے ڈھائی پرسینٹ زکوٰة دے وہ یعنی وہ مزید دی پارے جن کا معتقد گوہرشاہی خود ہے کہتا ہے کہ ڈھائی پرسینٹ اپنے پاس رکھ‘ ساڑھے ستانوے پرسینٹ زکوٰة دے“۔ (بحوالہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)
گوہرشاہی کو خطرہ تھا کہ اگر اس کا کوئی مرید حج پر چلاجائے اور حجر اسود پر اس کی تصویر نہ دیکھے تو اس کا جھوٹ کھل جائے گا اس لیے وہ کہتا ہے کہ تم کعبہ کی طرف نہ جاؤ‘ بلکہ کعبہ تمہاری طرف آئے چنانچہ وہ کہتاہے کہ : اس کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام نے گارے اور مٹی سے بنایا ہے تجھے تو اللہ کے نور سے بنایا گیا ہے تو اس کعبہ کی طرف کیوں جاتا ہے وہ کعبہ تیری طرف آئے نا ۔ (بحوالہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)
یہ تمام حوالے دور جدید کا مسیلمہ کذاب گوہرشاہی نامی کتاب میں موجود ہیں ۔ تلک عشرة کاملة ۔
یہ گوہرشاہی کے سینکڑوں ہزاروں گمراہ کن اور ملحدانہ وزندقانہ عقائد میں سے چند عقیدے تھے جن کو دیکھ کر معمولی شعور کا مالک بھی گوہرشاہی کے کفر اور اسلام کا فیصلہ کر سکتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ان جیسے عقائد کی بناء پر گوہرشاہی کو مقتدر علمائے کرام اور مفتیان عظام نے دائرہ اسلام سے خارج ملحد اور زندیق قرار دیا ہے‘ اس بارے میں آج سے کافی عرصہ پہلے بھی علمائے اہلسنت اور اہلسنت کے بڑے بڑے مستند اداروں سے فتوے صادر ہوچکے ہیں‘ لہٰذا انجمن سرفروشان اسلام کا بانی ریاض احمد گوہرشاہی اور اس کی جماعت کے متعلقین جو گوہرشاہی کے مذہب پر عمل پیرا ہیں‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ مسلمان مرد اور عورت کا نکاح جائز نہیں ہے‘ چنانچہ قرآن مجید میں ارشادی باری تعالیٰ ہے :

(1) ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ“ (آل عمران:۸۵)
(2) فحبطت اعمالہم فی الدنیا والآخرة“۔ (آل عمران:۲۲)
ضو(3) فحبطت اعمالہم فلانقیم لہم یوم القیامة وزناً“۔(کہف:۱۰۵)
اور نبراس جوکہ شرح عقائد کی شرح ہے‘ اس میں ہے :
ورد النصوص بان ینکر الاحکام التی دلت علیہا النصوص القطعیة الی غیر المحتملة للتاویل من الکتاب والسنة ای الحد التواتر․․․ کفر لکونہ تکذیبا صریحاً للہ ولرسولہ․․․ (نبراس ص:۵۶۶)
اور فتاویٰ شامی میں ہے :
فہو کافر لمخالفة القواطع المعلومة من الدین بالضرورة“ (فتاویٰ شامی ۳/۴۶)

گوہرشاہی اور اس کے متعقدین کے ساتھ نکاح ناجائز ہونے کے بارے میں فتاویٰ شامی میں ہے کہ :

قال فی التنویر وشرحہ وحرم نکاح الوثنیة بالاجماع قال العلامة الشامی تحت قولہ وحرم نکاح الوثنیة ․․․ وفی الفتح ویدخل فی عبدة الاوثان عبدة الشمس والنجوم والصورة التی استحسنوا والمعطلة والزنادقة․․․ وفی شرح الوجیز وکل مذہب یکفر بہ معتقدہ ․․․ (فتاویٰ شامی ۳/۴۵)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

ولایجوز نکاح المجوسیات والوثنیات الی قولہ وکل مذہب یکفر بہ معتقدہ کذا فی فتح القدیر“۔ (فتاویٰ ہندیہ ۱/۲۸۱)

اور بحر الرائق میں ہے :

وکل مذہب یکفر بہ معتقدہ فہو یحرم النکاح“۔ (البحر الرائق ۳/۱۰۲)
صفحہ 3 از 5