فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات - دورِ حاضر کے…

فتنہ گوہر شاہی کے گمراہ کن عقائد و نظریات

  ڈاکٹر فیض احمد چشتی

صفحہ 5 از 5

(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر30,31) عقیدہ :حضرت خضر علیہ السلام اور ان کے علم کی تو ہین کی گئی ہے ۔ (بحوالہ : کتاب : مینارہ نور صفحہ نمبر35)
انبیاءکرام علیہم السلام دیدار الہٰی کو تر ستے ہیں اور یہ (اولیاءاُمّت)دیدار میں رہتے ہیں ولی نبی کا نعم البدل ہے ۔(معاذاللہ)(بحوالہ : کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر39،چشتی)
گوہر شاہی اپنی کتاب روحانی سفر کے صفحہ نمبر 49 تا 50 پر رقم طراز ہے : عبارت :اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چرس کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس نفرت ہونے لگی ۔رات کو الہامی صورت پیدا ہوئی یہ شخص (یعنی چرسی )ان ہزاروں عابدوں ،زاہدوں اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پرہیز کر کے عبادت میں ہوشیار ہیں لیکن بخل ،حسد اور تکبّر انکا شعار ہے اور (چرس کا )نشہ اسکی عبادت ہے ۔
(معاذ اللہ !بالکل ہی واضح طور پر نشہ کو صرف حلال ہی نہیں بلکہ عبادت ٹہرایا جا رہا ہے)
ریاض گوہر شاہی کے نزدیک نماز اور درود شریف کی کوئی خاص اہمیت معلوم نہیں ہوتی جیسا کہ روحانی سفر صفحہ  3 پر اپنے بارے میں لکھتا ہے : اب گو لڑہ شریف صاحبزادہ معین الدین صاحب سے بیعت ہوا انہوں نے نمازکیساتھ ایک تسبیح درود شریف کی بتائی ۔میں نے کہا اس سے کیا ہوتا ہے کوئی ایسی عبادت ہو جو میں ہر وقت کر سکوں (یعنی (معاذاللہ) نماز اور درود شریف سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا)
گوہر شاہی نے جو روحانی منازل طے کئے ہیں ان میں عورتوں کا بھی بہت زیادہ دخل ہے ۔ نہ شرم ،نہ حیا ۔ا سکے روحانی سفر میں ایک مستانی کا خصوصیت کیساتھ دخل ہے ۔
(15) : میں دن کو کبھی کبھی اس عورت کے پاس چلا جاتا وہ بھی عجیب و غریب فقر کے قصّے سناتی اور کبھی کھانا بھی کھلا دیتی ۔(بحوالہ :روحانی سفر صفحہ 34،چشتی)
عبارت : کہنے لگی آج رات کیسے آ گئے ۔ میں نے کہا پتہ نہیں اس نے سمجھا شاید آج کی اداؤں سے مجھ پر قربان ہو گیا ہے اور میرے قریب ہو کر لیٹ گئی اور پھر سینے سے چمٹ گئی ۔(بحوالہ :کتاب : روحانی سفر صفحہ 32)
کیا اس سے زیادہ دلیری کے ساتھ کوئی دشمن اسلام دینِ متین کے چہرے کو مسخ کر سکتا ہے ۔ کیا شریعت مطہرہ کی تنقیص کے لئے اس سے بھی زیادہ شرمناک پیرا یہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ کیا اپنے مذہب ،اپنے دین ،اپنے عقائد کا اس طرح سے خون کرنے والا یہ شخص مذہبی رہنما ہوسکتا ہے ؟
آج کل گوہر شاہی کے چیلوں نے ”مہدی فاؤنڈیشن “ کے نام سے کام کرنا شروع کر دیا ہے یہ جماعت دوبارہ سرگرم ہورہی ہے اس کے کارکنان دنیا بھر میں ای میل اورخطوط کے ذریعہ خباثتیں پھیلا رہے ہیں اس طرح گوہر شاہی کی فتنہ انگیز جماعت دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے ۔
مسلمانوں کو اس فتنے سے بچنا چاہیے ۔ اس کے متنازعہ بیان اوپر آپ نے پڑھے اس نے درج ذیل کتابیں تحریر کی ہیں ۔

گوھرشاہی نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں صوفی شاعری پر مشتمل ”تریاقِ قلب“ بھی شامل ہے ۔ گوھرشاہی کی تصنیف کردہ کُتب درج ذیل ہیں ۔

1. مینارہ ءنور
2. روشناس
3. تحفۃ المجالس
4. روحانی سفر
5. تریاقِ قلب
6. دینِ الٰہی
مندرجہ بالا کتب میں دینِ الٰہی گوھرشاہی کی آخری تصنیف ہے اور گوھرشاہی کے معتقدین کے نزدیک نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


صفحہ 5 از 5