ابن زیاد اور تدابیر امن
ابو شاہینابن زیاد اور تدابیر امن
ابن زیاد نے اہل کوفہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے درمیان رابطہ منقطع کرنے کے لیے اور کوفہ پر اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے کئی تدابیر اختیار کیں، اس نے جنگجو لوگوں کو جمع کیا اور ان کی وفاداریاں خریدنے کے لیے ان میں عطیات تقسیم کیے۔
(الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 376 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 264)
صاحب شرطہ حصین بن تمیم طہوی کو بھیجا تاکہ وہ قادسیہ میں پڑاؤ کرے۔ قادسیہ سے مقام خفضان اور قادسیہ سے قطقطان اور لعلع کے مقام تک شہسواروں کو منظم کیا اور حصین بن تمیم کو حکم دیا کہ وہ ہر اجنبی شخص کو گرفتار کرے۔
(انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 166 الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 376)
ابن زیاد نے مقام واقصہ سے شام کے راستے تک اور بصرہ کے راستے تک آنے جانے والے ہر شخص کو حراست میں لینے کا بھی حکم جاری کیا۔
(انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 573 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 265)
اس آخری کارروائی کا مقصد اہلِ کوفہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے درمیان باہمی روابط کو منقطع کرنا تھا، آپ کوفہ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے مگر کوفہ میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے لاعلم تھے، جب ’’ذوالریہ‘‘ نامی وادی کی بلند جگہ پر پہنچے تو قیس بن مسہر صیداوی کو ایک خط دے کر کوفہ بھیجا، جس میں انہیں اپنی آمد سے مطلع کیاگیا تھا۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 512)
مگر جب وہ قادسیہ پہنچا تو صاحب شرطہ حصین بن تمیم نے اسے گرفتار کر کے ابن زیاد کے پاس کوفہ بھیج دیا، جس نے اسے وہاں آتے ہی قتل کر ڈالا۔
(الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 376 انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 167)
اس کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ایک قاصد مسلم بن عقیلؓ کے پاس بھیجا مگر وہ بھی حصین بن تمیم کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا، جس نے اسے بھی ابن زیاد کے پاس بھیج دیا اور اس نے اسے بھی قتل کروا ڈالا۔ (انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 167 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 266) ان حفاظتی اقدامات نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پیروکاروں کو بہت متاثر کیا، اب انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب جو شخص بھی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوئی تعلق رکھے گا اس کا انجام قتل ہو گا۔ لہٰذا جو کوئی بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف داری کا سوچ رہا ہے، اسے یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ اس کا انجام انتہائی الم ناک ہو گا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ، 266)
ابن علی رضی اللہ عنہما کو احساس ہو رہا تھا کہ کوفہ میں حالات سازگار نہیں ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب بادیہ نشین لوگوں نے انہیں یہ خبر دی کہ کوفہ میں کسی بھی شخص کو نہ تو داخل ہونے کی اجازت ہے اور نہ اس سے باہر آنے کی۔
(انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 167 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 266)
اس قسم کی خطرناک اطلاعات انہیں عرب قبائل کے بعض لوگوں سے بھی ملی تھیں۔ ان لوگوں نے انہیں اس خطرے سے بھی آگاہ کر دیا تھا جس کی طرف وہ خود بڑھ رہے ہیں۔ مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے کہ وہ اپنی مہم کی کامیابی کی دلیل کے طور پر اپنے سے بیعت کرنے والے ان کثیر التعداد ناموں کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جو ان کے پاس محفوظ تھے۔ (الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 371) جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ زبالہ (زبالۃ: مکہ مکرمہ سے کوفہ کے راستہ میں معروف منزل) یا شراف (شراف: واقصہ اور فرعاء کے درمیان ایک جگہ جو احساء سے آٹھ میل کی مسافت پر ہے) کے مقام پر پہنچے تو انہیں مسلم بن عقیلؓ، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر کے قتل کی خبر ملی، علاوہ ازیں انہیں یہ دل فگار اطلاع بھی ملی کہ اہل کوفہ نے ان کی نصرت و معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
(تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 322)
اس اچانک اور الم ناک خبر سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شدید طور پر متاثر ہوئے، یہی وہ لوگ تھے جو ان سے سب سے زیادہ قریب تھے، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اھل کوفہ ان کی نصرت سے دست بردار ہو چکے تھے۔
(مواقف المعارضۃ: صفحہ، 267)