حربن یزید سے ملاقات
ابو شاہینحربن یزید سے ملاقات
لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے الگ ہونا شروع ہو گئے، یہاں تک کہ آپ کے ساتھ وہی چند لوگ باقی رہ گئے جو مکہ سے آپ کے ساتھ آئے تھے۔ آپ نے اپنا سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ آپ مقام شراف تک جا پہنچے، وہاں آپ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ پانی پی لیں اور بھر بھی لیں، پھر وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب دوپہر ہو گئی، تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اللہ اکبر کہا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر کہا اور پوچھا، تم نے اللہ اکبر کس بات پر کہا؟ اس نے جواب دیا، مجھے کھجوروں کے درخت نظر آ رہے ہیں۔یہ سن کر دو آدمی کہنے لگے، ہم نے تو یہاں کھجوروں کے درخت نہیں دیکھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا، ہمیں تو مقدمۃ الجیش معلوم ہوتا ہے۔ اس پر وہ آدمی کہنے لگا، مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔
(ایضا: جلد، 6 صفحہ، 325)
پھر واقعی حر بن یزید اپنی ایک ہزار فوج کی قیادت کرتے ہوئے آپ کے سامنے کھڑا تھا، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس سے واپس جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، تو اس نے اس سے انکار کر دیا اور آپ کو بتایا کہ مجھے کوفہ تک آپ کے ساتھ رہنے کا حکم ہے۔ اس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایسے خطوط سے بھرے ہوئے دو تھیلے اس کے سامنے رکھ دئیے، جن میں ان سے کوفہ آنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر حر اور اس کے ساتھیوں نے ان خطوط کے ساتھ اپنے کسی بھی تعلق سے انکار کر دیا۔ (ایضا: صفحہ، 325)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حر کے ساتھ کوفہ جانے سے انکار کر دیا اور وہ اس پر سختی سے جمے رہے۔ اس پر حر نے تجویز پیش کی کہ آپ کسی ایسے راستے پر چلیں، جو نہ کوفہ کو جاتا ہو اور نہ مدینہ منورہ کو، اس تجویز کا مقصد یہ تھا کہ حر ابن زیاد کو ان کے معاملے کے بارے میں لکھ دے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یزید کو ابن زیاد کے بارے میں۔
(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 328)
چنانچہ آپ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے شام کے راستے پر شمال کی طرف مڑ گئے۔ (تاریخ طبری: جلد، 6 صفحہ، 328) اس دوران میں حر بن یزید بھی آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ آپ کو عدم قتال کی نصیحت کر رہا تھا اس نے آپ پر یہ بات واضح کر دی کہ اگر آپ قتال کریں گے تو قتل کر دئیے جائیں گے۔ ( ایضا) جب نماز کا وقت ہوتا تو حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ فریقین کو نماز پڑھایا کرتے۔ (ایضا)